ہندوکش کے دامن میں تہذیبوں کی کشمکش اور اسلامی کلچر کی معنویت/تحریر عبدالمجید قریشی

کلچر کسی بھی قوم کی اصل شناخت اور اس کے فکری، سماجی اور تہذیبی وجود کا مظہر ہے۔ یہ ایک جامد شے نہیں بلکہ تغیر و ثبات کے امتزاج سے مسلسل ارتقا پذیر رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوموں کی زندگی میں کلچر کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔
اہلِ علم کے نزدیک کلچر کا مطالعہ کسی بھی قوم کی فکری سمت اور تہذیبی سفر کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ لغوی اعتبار سے ’’کلچر‘‘ کا مطلب زمین کو قابلِ کاشت بنانا ہے، اور اصطلاحی طور پر یہ انسانی زندگی کے تمام مظاہر—اقدار، روایات، رسوم و رواج اور طرزِ زندگی—کا مجموعہ ہے۔ جو قوم بدلتے حالات کے ساتھ اپنے کلچر کو ہم آہنگ نہ رکھ سکے وہ بالآخر صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔
چترال اور نورستان کا تاریخی تناظر
انیسویں صدی کے اواخر میں افغانستان کے شمال مشرق میں ’’کافرستان‘‘ کے نام سے ایک خطہ موجود تھا۔ یہاں کے باسی دیومالائی تصورات اور متعدد خداؤں پر یقین رکھتے تھے۔ چترال کے مہتر امان الملک نے کبھی ان پر مذہب تبدیل کرنے کا جبر نہ کیا اور ان کے مذہبی تشخص کو برقرار رہنے دیا۔ اس کے برعکس، کابل کے امیر عبدالرحمن خان نے 1893ء میں اس خطے پر فوجی کارروائی کر کے اسے افغانستان میں شامل کیا اور مقامی آبادی کو بزور طاقت اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے بعد اس خطے کا نام ’’نورستان‘‘ رکھا گیا۔
یہ دو رویے تہذیبی کشمکش کے مختلف رخ سامنے لاتے ہیں۔ ایک طرف برداشت اور رواداری کا عملی نمونہ ہے تو دوسری طرف مذہب کے نام پر جبر، جسے قرآن کریم نے صریحاً مسترد کیا:
"لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ”
(دین میں کوئی جبر نہیں)
تہذیب اور کلچر کا تعلق
تہذیب اور کلچر ایک دوسرے کے تکمیلی پہلو ہیں۔ تہذیب نصب العین اور اقدار کا نام ہے، جبکہ کلچر اس تہذیب کی عملی صورت ہے۔ انسانی تاریخ میں تین بڑی تہذیبیں نمایاں رہی ہیں:
1. مشرکانہ تہذیب – جس کی بنیاد مختلف خداؤں کی خوشنودی پر ہے، اور اس کے کلچر میں رقص و سرود اور لہو و لعب غالب ہیں۔
2۔ مادہ پرستانہ تہذیب – جس میں آخرت کا کوئی تصور نہیں اور مقصد صرف مادی ترقی اور لذت پرستی ہے۔
3۔ اسلامی تہذیب – جو توحید، آخرت اور عدل و مساوات پر مبنی ہے۔ اس کا کلچر زندگی کے ہر پہلو کو محیط ہے: عبادات، معاملات، معاشرتی نظم، وراثت، حج، عمرہ اور تجہیز و تکفین سب اس کا حصہ ہیں۔
اسلامی کلچر کی امتیازی خصوصیات
اسلامی کلچر محض رسومات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس کی چند خصوصیات درج ذیل ہیں:
توحید پر مبنی مقصدِ حیات
عدل، مساوات اور اخوت کا عملی نظام
عبادات و معاملات کا جامع ڈھانچہ
فرد اور معاشرے کی اخلاقی تربیت
دنیا اور آخرت دونوں میں فلاح کا تصور
نتیجہ
قومیں اپنی شناخت کلچر سے حاصل کرتی ہیں۔ جو قوم اپنی تہذیبی اقدار اور کلچر کو زندہ رکھتی ہے، وہ تاریخ میں اپنی انفرادیت برقرار رکھتی ہے۔ اسلامی کلچر اپنی جامعیت، ہمہ گیری اور توازن کے باعث نہ صرف مسلمانوں کی دینی و تہذیبی بنیاد ہے بلکہ دنیا کے لیے ایک متوازن اور ہم آہنگ طرزِ زندگی فراہم کرتا ہے.