قطر اور پاکستان۔۔۔ دولت مند ہونا کافی نہیں/اداریہ

گذشتہ روز اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملہ کیا۔ یہ حملہ اگرچہ بظاہر حماس کے ایک اہم رہنما کو نشانہ بنانے کے لئے کیا گیا تھا، مگر حقیقت میں یہ قطر کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر براہِ راست حملہ تھا۔ ایک ایسا واقعہ جس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا اور ایک بنیادی سوال کو جنم دیا؛ کیا محض دولت اور سرمایہ کسی ملک کی بقا اور تحفظ کی ضمانت دے سکتے ہیں؟
اس وقت یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ عرب اسلامی ریاست "قطر "دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ قدرتی گیس اور تیل کے ذخائر نے اسے غیر معمولی مالی طاقت بخشی ہے جس کی بدولت "قطر” ایک عالمی معاشی قوت ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں بھی وہ ایک اہم کھلاڑی ہے اور امریکہ کا قریبی اتحادی مانا جاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ قطر فوجی لحاظ سے نہایت کمزور ہے۔ اپنی عسکری قوت کے بجائے وہ مکمل طور پر امریکی تحفظ اور بیرونی اتحادیوں پر انحصار کرتا ہے۔ اس کی اپنی فوجی تیاری اتنی محدود ہے کہ کسی بھی بڑے خطرے کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اسرائیلی حملہ اسی کمزوری کی عملی مثال ہے۔
اس کے برعکس پاکستان ہے، جو معاشی اعتبار سے قرضوں میں جکڑا ہوا، سیاسی اور سماجی مسائل کا شکار ملک ہے۔ مگر پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی دفاعی سوچ اور عسکری تیاری ہے۔ محدود وسائل اور غربت کے باوجود پاکستان نے کبھی اپنے دفاع کو نظرانداز نہیں کیا۔ ایٹمی پروگرام ہو، میزائل ٹیکنالوجی ہو، فضائی اور بحری شعبوں میں اعلی اور جدید ٹیکنالوجی اور مسلح افواج کی تربیت—پاکستان نے ہمیشہ اپنی بقا کو یقینی بنانے کے لئے دفاعی محاذ پر سرمایہ کاری کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کو خطے میں ایک ناقابلِ نظرانداز عسکری قوت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
قطر کا حالیہ واقعہ اس حقیقت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے کہ صرف دولت مند یا معاشی قوت ہونا کافی نہیں، قوموں کی دنیا میں رہنے کے لئے "مضبوط معاش” اہم ہے مگر اس سے بھی اہم”عسکری قوت "ہے۔ اگر کوئی ملک اپنی غیرت، حمیت اور دفاعی خودمختاری سے محروم ہو تو اس کی دولت اور سیاسی حیثیت بھی اسے بیرونی جارحیت سے نہیں بچا سکتی۔ دوسری طرف اگر کوئی قوم بھلے معاشی طور پر کمزور ہو، لیکن اپنے دفاع اور وقار پر سمجھوتہ نہ کرے، تو دنیا کی بڑی طاقتیں بھی اس پر براہِ راست ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہزار بار سوچتی ہیں۔
قطر کے لئے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لئے کب تک دوسروں کا محتاج رہے گا؟ اور پاکستان کے لئے یہ سبق ہے کہ اپنے معاشی مسائل کے باوجود اپنی دفاعی قوت کو کبھی کمزور نہ ہونے دے، کیونکہ قوموں کی اصل ضمانت ان کے مالی ذخائر نہیں بلکہ ان کا عسکری وقار اور خودمختاری ہے۔