ایک وہ اور ایک ہم/تحریر: ظہیر الدین

اشتہارات

"میں تویہ فیسٹول کرکے رہوں گا اور فیسٹول ہوکے رہے گا، آپ کے دل میں جو آئے لکھ لیں "، یہ برجستہ اور دو ٹوک جواب میں نے خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی کے ایونٹ منیجر سے سنا جب میں نے بروغل وادی میں فیسٹول کے انعقاد کے بعد ممکنہ ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں ان سے استفسارکیاکہ ماحولیاتی طور پر انتہائی نازک اس چھوٹی سی پیالی نما وادی میں اس ایونٹ کو ماحولیات کے زاوئیے سے کیوں نہیں دیکھا۔

پھر قدرت کاکرنا ایسا ہواکہ ملک کے دیگر حصوں اور ملحقہ گلگت بلتستان میں تباہ کن سیلاب کہ وجہ سے 28سے30اگست تک یہ اعلان شدہ فیسٹول ملتوی ہوئی ورنہ اس چھوٹی سی الگ تھلگ وادی میں کاربن کا ذخیرہ کرنے سے ان کو روکنے والا کوئی نہیں تھا، جہاں 35سے زیادہ گلیشیر وادی کے چاروں طرف انتہائی کم بلندی پر واقع ہیں جن میں سے دارکھوت گلیشیر تو سڑک کے ساتھ برلب دریا واقع ہے۔

ایک طرف ہمارے دیس میں ماحولیاتی لحاظ سے نازک ترین مقام پر گلیشیر ز کے اوپر دانستہ اور نادانستہ طور پر کاربن ڈائی اکسائڈ اور دوسرے گرین ہاؤس گیسوں کا چھڑکاؤ کرکے ماحولیاتی تبدیلی کے لئے موٹر وے (راہ ہموار کرتے ہوئے) بنارہے ہیں تو یورپ سے ایک ایسی خبر آئی ہے کہ ہماری افسر شاہی اورسیاست دانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے اور اگر پھر بھی نہ کھلے تو اس پر ماتم کرنے کا حق ہمیں پورا پورا حاصل ہے۔ اہل یورپ نے کاربن ڈائی اکسائیڈ کو محصور کرنے اور اسے ٹھکانے لگانے کا کام شروع کردیا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کی جن کو بوتل میں بند کیا جاسکے۔

گزشتہ دنوں ناروے کے ساحل سے دور کاربن کی اسٹوریج کرنے والی دنیا کی پہلی تجارتی سروس نے شمالی سمندر کے ساحل میں کاربن ڈائی اکسائیڈ کی بڑی مقدار "دفن "کرکے ایک تاریخ رقم کردی۔ اس عمل میں پورے یورپ میں دھوئیں کے ڈھیروں کاربن ڈائی اکسائیڈ کو جمع کرنے کے بعد اسے محفوظ طریقے سے سمندر کی تہہ میں دفن کردیا جاتا ہے جس کا مقصد فضا میں خارج ہونے والے اخراج کو روکنا ہے جوکہ موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے۔

اگر سادہ الفاظ میں بیان کیاجائے تو "محصورکردہ” کاربن ڈائی اکسائیڈ گیس کو مائع میں تبدیل کرنے کے بعد اسے ناروے کے مغربی ساحل پر برگن کے قریب اویگارڈن ٹرمینل تک جہاز کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے جس کے بعد اسے مستقل ذخیرہ اور دفن کرنے کے لیے 110 کلومیٹر (68 میل) پائپ لائن کے ذریعے سمندری تہہ میں تقریباً 2.6 کلومیٹر کی گہرائی میں نصب بڑے ٹینکوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

اہل یورپ کی حکمت ودانائی اور ان کا کردار اور انسانیت کی بقاء کے لئے ان کی فکر قابل رشک ہے جنہوں نے سترہویں صدی عیسوی میں شروع کردہ انڈسٹریلائزیشن کی تباہ کاریوں کے لئے بھی علاج ڈھونڈ لی اور کاربن کاجن ماحولیاتی تبدیلی کے ذریعے اب ہلاکو خان اور چنگیز خان کا کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہا۔

کیا اب بھی ہم بروغل میں واقع گلیشیرز پر کاربن ڈائی اکسائیڈ کا بم پھینکنے سے بازآئیں گے جہاں فیسٹول کے نام پر ایک ہزار کے لگ بھگ ڈیزل اور پٹرول کی انجن سے چلنے والی گاڑیاں بیک وقت جمع ہوکر کتنی مقدار میں کاربن کا اخراج کریں گے اور اس کااندازہ لگانے کی کوئی زحمت کرے گا۔

وطن عزیز میں حرص ولالچ کا اژدھا کے سامنے یہ سب ہیچ ہے جنہیں ان سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ Third Pole میں واقع ماحولیاتی طور پر انتہائی حساس ان علاقوں میں گرین ہاؤس گیسز مستقبل میں تباہ وبربادی کا جو ساماں پیداکرے۔

میرے دیس میں ماحول کی بقاء کے لئے قوانین بھی ہیں اورادارے بھی لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے والا کوئی نہیں۔ وفاق میں پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997اورصوبہ خیبر پختونخوا میں انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایکٹ 2014ء اور انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی بھی موجود ہے لیکن بروغل میں گلیشیرز کے دامن میں فیسٹول منانے اور چترال شہر سے چند کلومیٹر دور حساس گلیشیر ز رکھنے والی گولین وادی کے دہانے پرکباڑ کے ٹکڑے پگھلاکر فولاد بنانے کے لئے قائم فیکٹری سے بلیک کاربن کے اخراج کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں جسے بجلی بھی یورپین یونین کے فنڈ ز سے تعمیر شدہ پن بجلی گھر سے فراہم ہوتی ہے۔
سچ ہے کہ "ہم”اور "اُن”میں بہت فرق ہے یعنی زمین آسمان کا۔