اپر دیر؛ عوام اور پولیس کی یکجہتی نے خوارج کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے/ تحریر: کے اے جمیل

اشتہارات

13 اور 14 اگست کی درمیانی شب ضلع اپر دیر کے پُرامن علاقے "پناکوٹ” میں فتنہ الخوارج نے پولیس پارٹی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین جوان شہید اور چھ زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ نہ صرف افسوسناک تھا بلکہ اس حقیقت کا پتہ دے رہا تھا کہ دہشت گرد اب کی بارپُرامن وادیوں کا رخ کر رہے ہیں۔

پناکوٹ، جو دیر–چترال قومی شاہراہ پر واقع ایک حسین وادی ہے، میں ایسا واقعہ خطرے کی گھنٹی سے کم نہ تھا اور تشویشناک صورتحال بن چکا تھا۔ بعد ازاں اطلاعات ملیں کہ قریب ہی "دوبندو” اور "اسلام کوٹ” کی وادیوں میں خوارج کے دہشت گرد موجود پائے گئے ہیں، انکی فوٹیج سوشل میڈیا میں بھی آنے لگے۔

صورتحال کی سنگینی اور عوامی تشویش کے پیش نظر اپر دیر پولیس نے گذشتہ دنوں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیا، آپریشن میں اپر دیر پولیس کے ساتھ سی ٹی ڈی اور ایلیٹ فورس بھی شامل رہی۔ اس آپریشن کا سب سے حوصلہ افزا پہلو یہ تھا کہ علاقے کے عوام پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے۔

انہوں نے واضح کر دیا کہ اپنے علاقے کے امن، سکون اور بھائی چارے کو برباد کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔ عوام کو اس بات سمجھ ہے کہ خوارج کا اصل نشانہ وہی ہیں، یعنی عام لوگ، ان کے گھر اور ان کی بستیاں۔

دہشت گرد کسی دن کسی اور علاقے میں جا سکتے ہیں، مگر تباہی کا بوجھ ہمیشہ مقامی عوام ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔

اس موقع پر "اپر دیر "کے سیاسی، مذہبی اور سماجی رہنماؤں نےسنجیدگی اور معاملہ فہمی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے متفقہ طور پر دہشت گردوں کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ بیرونی عناصر کو اپنے علاقے سے ہر صورت نکال دیا جائے گا۔ یہ اتحاد اور یکجہتی وہ فیصلہ کن لمحہ تھا جس نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی۔ دیر بالا میں بڑ ے، بزرگ، نوجوان یعنی سب یک زبان تھے کہ ہم دہشت گردوں کو کسی بھی صورت اپنا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

گذشتہ دنوں جب پولیس نے دوبندو، اسلام کوٹ اور دیگر علاقوں میں آپریشن کا دائرہ وسیع کیا تو عوام ہر اول دستے کی صورت سامنے آئے۔ انہوں نے "خوف” کے بت توڑ دیے اور غیرت، ہمت اور ایمان سے لبریز پاکستانی ہونے کا حق ادا کیا۔

خوارج کا خیال تھا کہ دورافتادہ اور پسماندہ علاقے کے لوگ خوف کے مارے ان کا ساتھ دیں گے، مگر اہالیان دیر نے تاریخ رقم کر دی۔ انہوں نے ڈر کے بجائے جرات کو چنا اور دہشت گردوں کو واضح پیغام دیا کہ یہ سرزمین بہادروں کی ہے۔

اہلیان دیر بالا کی جرات و قربانی پورے ملک کے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جب تک مقامی سہولت کاری نہ ہو، باہر سے آنے والے چند افراد کسی علاقے کو برباد نہیں کر سکتے۔ دہشت گردی کی جڑ ہمیشہ وہی عناصر ہیں جو مقامی سطح پر انہیں سہارا دیتے ہیں۔ دیر کے عوام نے یہ سہولت کاری مسترد کر دی اور اپنے علاقے کو بچا لیا۔

اب وقت ہے کہ دیگر علاقے کے عوام بھی "دیربالا” کے عوام کی طرح اٹھ کھڑے ہوں۔ مقامی سہولت کاروں کی نشاندہی کریں، انہیں باز رکھیں ، غیر مقامی شرپسندوں کو اپنے علاقوں سے نکال باہر کریں اور دہشت گردوں کے خلاف دیوار بن جائیں۔

اگر ہر بستی اور ہر گاؤں کے لوگ اپنے حصے کا کردار ادا کریں تو کوئی طاقت ہمارے وطن کے امن کو تہہ و بالا نہیں کر سکتی۔
یہ ممکن ہے اور اپر دیر کے عوام نے یہ کر دکھایا۔