"تورکھو دھو” ایک جائز تحریک/تحریر: محمد جاوید حیات

پہاڑوں سے اٹھتی تحریک پہاڑوں جیسی مضبوط ہوتی ہے کیونکہ اس کے پیچھے مرد کوہستانی ہوتا ہے جس کا عزم جوان ہوتا ہے اور وہ سخت جان ہوتا ہے ۔۔۔فخر موجودات ؐ نے اصحاب کبار کی جماعت تیار فرمائی تھی وہ دوسری دنیا کے نزدیک عرب بدو کہلاتے تھے لیکن انہوں نے ہی مہذب دنیا کو انسانی تہذیب سے نوازا ۔۔۔روم کے بادشاہ نے ان کو سوسمار کھانے والا کہہ کر طعنہ دیا ۔۔خالد بن ولید رض نے اس کے خط کے جواب میں لکھا ۔۔۔بادشاہ تیری طرف عرب کے وہ شاہسوار بڑھ رہے ہیں جن کو زندگی سے زیادہ موت سے پیار ہے ۔
اس لمبی تمہید کا تعلق تورکھو تریچ یو سی کی روڈ تحریک سے ہے جو (TTRF) کے نام سے منظر پہ آئی ہے ۔چترال بہت پسماندہ ضلع ہے اس میں سب سے بڑا مسئلہ سڑکوں کا ہے ٹنل بننے سے پہلے تو چترالی چھ ماہ قید میں گزارتے تھے اب بھی برف باری کے موسم میں لواری میں جو عذاب سہتے ہیں وہ وہی جانتے ہیں یہ بھی غنیمت ہے کہ کسی نہ کسی طرح منزل تک پہنچ تو جاتے ہیں مہینوں انتظار کرتے نہیں ۔۔چترال میں سڑکوں کے مسائل کو لے کر معروف وکیل وقاص احمد نےایک تحریک CDM کے نام سے شروع کیا یہ چترال ڈیولپمنٹ مومنٹ اچھی تحریک تھی چترال کے معروف سماجی شخصیات اس تحریک میں شامل ہوئے اور اس کی سرگرمیوں میں تھوڑی سی تیزی آگئی ۔۔تورکھو اور تریچ یوسی چترال کے آخری علاقے ہیں یہاں سے آگے پاک سرزمین کی انسانی آبادی ختم ہوکے سرحد شروع ہوتی ہے لازم ہے ایسے علاقے میں سب سے بڑا مسئلہ آمد و رفت ہی کا ہوگا ۔مرحوم شہزادہ محی الدین کے دور اقتدار(2010) میں اس کے لیے بونی تا بوزند(32) کلومیٹر روڈ کے لیے 36 کرورڑ کی رقم مختص ہوئی اس زمانےمیں یہ کافی رقم تھی رقم وفاق سے آئی لیکن صوبے سے آگے نہیں آئی ۔روڈ میں جب کام کا آغاز ہوا تو ایک مقامی لیڈر نے پریس کانفرنس کی کہ کام معیاری نہیں ہو رہا ۔۔کام بند کیا گیا ۔2015ء میں سیلاب نے اس روڈ اور روڈ پر موجود پلوں کو تباہ و برباد کیا ۔جب شہزادہ افتخار الدین ایوان میں پہنچے تو انہوں نے اس کو ریوائز کیا ۔۔رقم آئی مگر صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی آگے ریکارڈ کا پتہ نہیں البتہ پی ڈی ایم کی حکومت آئی تو یہ تحریک (تورکہو دھو) تورکھو اور تریچ یوسی کے عوام کی طرف سےاٹھی ،پتہ چلا اس روڈ پر ابھی تک وفاق سے رقم مختص ہوتی رہی ہے اب تک ایک ارب بیس کرورڑ روپے قومی خزانے سے نکلی ہیں لیکن یہ روڈ ایک کلو میٹر بھی نہیں بنی اس دوران چترال سے ایم این ایز کو مورد الزام ٹھہرایا نہیں جاسکتا البتہ ہمارے نمائندے جو صوبےمیں تھے وہ کیا کر رہے تھے کیا یہ رقم ان کی نوٹس میں نہیں آئی؟جب تحریک اٹھی تو نوٹس میں آیا کہ ٹھیکیدار کو ایڈوانس ادائیگی ہوتی رہی ہے ۔اس بار بھی پانچ کروڑ کی پیشگی ادائیگی ہوئی ہے ۔۔یہ ٹھیکیدار بڑے آدمی ہوں گے لیکن ان کو چترال کی پسماندگی کا احساس ہونا چاہیے تھا اس کو اس پسماندہ علاقے کی خدمت کرکے اپنے نامہ اعمال میں نیکی بھرنا چاہیے تھا۔۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ عوام سیخ پا ہیں کہ سڑک ایک کلومیٹر بھی نہیں بنی ۔مگر ایک ارب بیس کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں ۔۔یہ اندھیر نگری چوپٹ راج ۔۔ یہ نا انصافی کیوں ۔۔ خیر اس کی وضاحت ہونی چاہیے ۔۔
موجودہ صوبائی اور قومی قیادت سے بھی شکوہ کنان ہیں کہ وہ مجرمانہ عفلت اور تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔پچھلے سال دھرنے ہوئے علاقے کے تحریکی نوجوانوں نے بزور زبردستی ٹھیکیدار سے کام کرایا ۔۔سردیاں آئیں کام بند کر دیا گیا لیکن 2025ء کے مئی تک کام دوبارا شروع نہیں ہوا ۔۔(TTRF) پھر میدان میں آگئی ۔۔۔۔نمائندے تورکھو رائین میں جمع ہوئے اس سے پہلے ممکنہ تاریخ دی جا چکی تھی حکومت اور انتظامیہ نے کوئی توجہ نہیں دی بلکہ پیشگی آدائیگی کی خبریں آنے لگیں 20 مئی کو تورکھو میں اور 21 مئی کو بونی کی طرف عوام تورکھو تریچ نے مارچ کیا ۔۔بونی میں دھرنا ہوا شندور اور تورکھو روڈ بند کیا گیا ۔۔72 گھنٹے بعد حکومت کے نمائندے چترال سے ایم این اے عبدالطیف صاحب تشریف لائے، مصلحت ہوئی ۔۔معاہدہ بڑا متنازعہ رہا ۔۔فعال لیڈرشپ نے اعتراض کیا کہ انہیں معاہدے میں شامل نہیں کیا گیا ۔۔دھرنا منتشر ہوا ۔۔دھرنے میں محسوس کیا گیا تھا کہ مختلف طبقے،پارٹیاں اور کمیونٹیز کریڈٹ لینا چاہتے تھے ۔۔یہ دھرنا ،یہ تحریک اور یہ اتحاد ایک لحاظ سے دم توڑ گئی تھی ۔لوگ منتشر ہوچکے تھے سٹبلشمنٹ اپنا کھیل کھیل چکا تھا ۔۔۔لیکن شکر ہے کہ پانچ دن بعد فعال کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹا گیا اس ایف آئی ار نے پھر تحریک کو جان دے دی ۔۔TTRF بہت مفید تحریک ہے اسی تحریک کی مرہون منت ہے کہ یارخون ،ایون بمبوریت ،اور پھر جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے سڑکوں کی بحالی کی تحریک اٹھی ہے ۔چترال شندور روڈ پر کام پر اعتراض اٹھائے جا رہے ہیں چراغ سے چراغ جلتا ہے ۔۔اس تحریک میں جان ڈالنے کے لیے لیڈرشپ کو مخلص اور کارکنوں کو فعال ہونا چاہیے ۔مجھے اس دھرنے میں علاقایت ،پارٹی ،کمیونٹی کی سڑھی ہوئی بو محسوس ہوئی ۔۔ٹولے اگر نمایاں ہوں تو دراڑ ضرور آجاتا ہے لیڈرشپ کو نہایت زیرک اور باوقار ہونا چاہیے ۔۔ سوشل میڈیا کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے ۔۔جہان پورا چترال بیدار ہورہا ہے وہاں اختلاف کا زہر کوئی گھول نہ دے ۔۔۔قربانیاں بے شک خاموش ہوتی ہیں لیکن دفن نہیں ہوتیں ۔۔۔اس دھرنے کو ناکام کہنے والے نادان ہیں ان کو پتہ بھی نہیں ہے کہ انقلاب دھیرے دھیرے آتا ہے ۔۔آزمائش چاہتا ہے ۔۔ایک توانا آواز اربابان اقتدار تک پہنچی ہے اس کی شنوائی ضرور ہوگی ۔۔۔یہ دھائی نہیں رہے گی ۔۔۔CDM اور TTRF کی تحریک کو دبنا نہیں پنپنا چاہیے ۔۔۔تب یہ لیڈرشپ قوم کے محسن کہلائیں گے۔