ماحول اور آب و ہوا/تحریر: ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

پانچ جون کو ہرسال ماحول کا عالمی دن منایاجاتا ہے تاکہ ماحول کے بارے میں بڑے پیمانے پرآگاہی پھیلائی جائے اورخاص و عام کو ماحول کے تحفظ کا شعور دے دیا جائے ہمارے محلے کے میاں جی کی عمر 105سال ہے جبکہ ان کے پڑپوتوں میں سے ایک بچہ 11سال کا ہے میاں جی فرماتے ہیں ہم نے بچپن، لڑکپن اور جوانی میں کبھی ماحول کے تحفظ کا نعرہ نہیں سنا تھا ادھیڑ عمر میں بھی کبھی نہیں سنا کہ ماحول کو تحفظ کی ضرورت ہے اورماحول کا تحفظ ہم میں سے ہرایک کی ذمہ داری ہے ان کا پڑپوتاکہتا ہے ماحول کیا ہوتا ہے میں نے ماحول دیکھا ہی نہیں اب یہ ہماری ذمہ دار ی بنتی ہے کہ بڑے میاں کی حیرت بھی دور کریں اور چھوٹے میاں کے تجسس کا بھی علاج کریں دراصل بڑے میاں درست کہتے ہیں 1960کے عشرے تک کسی نے بھی یہ نہیں سناتھا کہ گلیشر پکھل کر ختم ہورہے ہیں ذرائع ابلاغ میں کبھی یہ بات نہیں آئی تھی کہ عالمی حدت کا دورآرہا ہے موسمیاتی تغیرسے نباتات، حیوانات اور انسانی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں کسی نے یہ بھی نہیں سنا تھا کہ پرندوں کی کئی اقسام دنیا سے ختم ہوگئی جو باقی ہیں وہ بھی چند دنوں کی مہمان ہیں اگر چھوٹا میاں پوچھتا ہے کہ ماحول کسے کہتے ہیں تو وہ حق بجانب ہے اس کی دنیا روٹی اور سالن سے آگے نہیں بڑھی اس نے کھیل کے سواکوئی دھندہ نہیں دیکھا 11سال کابچہ عالمی گاوں میں ایرے، غیرے نتھو خیرے کانما ئیندہ ہے دنیا کی 7ارب آبادی میں سے 5ارب کو اگر پیٹ بھرکر کھانا ملے تو اس کو آگے پیچھے دیکھنے کی ضرورت نہیں رہتی وہ 11سالہ بچے کی طرح زندگی گذارنے کے قائل ہیں ماحول کی جامع تعریف کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہوا،پانی اور مٹی ہمارے ماحول کے بنیادی اجزا ہیں یہ بنیادی اجزا انسانی بستیوں کو آباد رکھتے ہیں ہاتھی اور اونٹ سے لیکر زیبرا، گینڈ ھا اور چیو نٹی تک تما م جا نوروں، چرندوں، پرندوں، درندوں اور کیڑے مکوڑوں کو زند گی کی سہو لیات فراہم کر تے ہیں چیونٹی سے بھی چھوٹی مخلو قات کی ہزاروں قسمیں ہیں جو پا نی، مٹی اور ہوا سے خوراک حا صل کر تے ہیں ہوا میں زہر پھیل جا ئے، زمین کے اندر زہر بھر جا ئے یا پا نی زہر آلو د ہو جا ئے تو زندگی خطرے میں پڑ جا تی ہے سائنسداں کہتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں ایسا ہی ہوا ہے یہ بات اکیسویں صدی آنے سے پہلے محسوس کی گئی تھی جون 1972ء میں سویڈن کے شہر سٹاک ہو م میں سائنسدانوں کی ایک کا نفرنس میں ما ہرین نے خبر دار کیا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں جا نداروں کی متعدد اقسام کو خطرات لا حق ہیں بعض جا نداروں کی نسلیں ختم ہو رہی ہیں، جنگلا ت کا رقبہ گھٹتا جارہا ہے، صحرازدگی میں اضافہ ہورہا ہے گلیشر پگھلنے والے ہیں اس لئے پوری دنیا کو فکر مند ہونا چاہئیے اور ماحول کے تحفط کا اہتمام کرنا چاہئیے، ماہرین نے دنیا کی توجہ چار سائنسی نظر یات کی طرف مبذول کی پہلی بات یہ تھی کہ کارخانوں اور موٹرگاڑیوں کے انجن سے نکلنے والا دھواں سورج اور زمین کے درمیان فضاء میں حائل اوزون (Ozone) کو روزبروز پتلا کر رہا ہے جس کی وجہ سے دنیا کادرجہ حرارت روز بروزبڑھ رہا ہے،دوسری بات یہ تھی کہ کیڑے مارادویات اور مصنوعی کھاد میں جو زہریلا کیمکل ملایا جاتا ہے وہ انسانوں سے لیکر چرندو ں،پرندوں اور کیڑے مکوڑوں تک تمام جانداروں کی خوراک کو زہر آلودکرتا ہے جس سے بیماریاں جنم لیتی ہیں اور نسلیں ختم ہورہی ہیں تیسری بات یہ تھی خبررسانی کے لئے ٹاور لگا کر ان پر جو محدب آئینے چسپان کئے جاتے ہیں ان آئینوں سے ایٹمی تابکاری کے ذرات پیدا ہو تے ہیں جو مہلک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں چو تھی بات یہ تھی کہ پو لی تھین (Polythine) نا می پلا سٹک کے شاپرمارکیٹ سے گھروں میں پہنچتے ہیں گھروں سے یہ گندے نا لیوں کے ذریعے سمندروں تک جا تے ہیں ان شاپروں میں زہر یلا کیمکل ہے جو خشکی اور سمند ر میں زندہ جا نداروں کے لئے نقصان دہ ہے، اگر ان شاپروں میں فروٹ، سبزی، بیکری، روٹی وغیرہ پیک کیا جا ئے تو فوراً زہر آلو د ہو جا تا ہے اس لئے یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی ہے وہاں کاغذ یاکپڑے کے شاپراستعمال ہوتے ہیں اس سال 2025کے لئے یوم ماحول کا مرکزی خیال”پلا سٹک کی آلود گی سے ماحول کوبچاؤ“ہے اس دن پلاسٹک کے نقصانات اور ماحول کی آلودگی میں پلاسٹکی زہر کے منفی کردار کو مو ضوع بنایا جائے گااس دن کاسب سے اہم سوال یہ ہے کہ ما حول کی بربادی کا ذمہ دار کون ہے؟ جوا ب یہ ہے کہ انسان خود اس کا ذمہ دار ہے 80فیصد دھواں کار خانوں اور مشینی انجنوں سے انسان ہی پیدا کرتا ہے، بقیہ 20فیصد آلودگی مختلف ذرائع سے انسان اس میں ملاتا ہے پلاسٹک پر پابندی کا اصل طریقہ یہ ہے کہ پلاسٹک کے کارخانوں پر پابندی لگائی جا ئے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری بڑے کی بات درست ہے نصف صدی پہلے ماحول کو ایسے خطرات لا حق نہیں تھے جیسے خطرات آج اکیسویں صدی میں درپیش ہیں