بھارتی سرپرستی میں خوارج کا فتنہ دراصل دین اسلام پر حملہ/تحریر:خوشحال خان

اشتہارات

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کو اندرونی و بیرونی فتنوں نے جس شدت سے گھیرا ہے، اُس کی نظیر تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ان فتنوں میں ایک نمایاں فتنہ ہمارے سامنے فتنہ الخوارج اور خارجی نور ولی محسود جیسے کرداروں کی شکل میں موجود ہیں جو کہ ہندوستان کی ایماء پر اسلامی تعلیمات کو مسخ کر رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں نور ولی محسود کا ایک ویڈیو پیغام منظر عام پر آیا ہے جس میں اُس نے کفار، بالخصوص ہندو کافروں یعنی بھارت سے اتحاد و معاہدے کو نہ صرف جائز قرار دیا ہے بلکہ اسے "دینی حکمت” کا لبادہ پہنا کر جواز فراہم کرنے کی کوشش بھی کی ہے اور بدقسمتی سے اسے جہاد کا نام بھی دیا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف قرآن و سنت کے منافی ہے بلکہ اس سے اسلام کی وہ پرامن و روشن تصویر مسخ ہو رہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عطا کی ہے۔

یہ کہنا کہ کفار کے ساتھ اتحاد ایک "حکمت” ہے، دراصل اُس حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہے جو آج کھل کر سب کے سامنے آ چکی ہے۔ بھارت جیسے اسلام دشمن ملک کی خفیہ مدد سے خوارج اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک منظم محاذ قائم کر رہے ہیں۔ یہ عناصر نہ صرف پاکستان میں بلکہ افغانستان میں بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں، اور پھر انہی کاروائیوں کے لیے حاصل ہونے والے بیرونی فنڈز کو "جہاد” کا نام دے کر حلال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایسے عناصر کی واضح طور پر مذمت کی ہے۔ سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 51 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ: اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو ان سے دوستی کرے گا، وہ انہی میں سے ہے۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

یہ آیت نہایت واضح انداز میں بتا رہی ہے کہ کفار کے ساتھ دوستی یا ان سے مدد لینا دین اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف ہے۔ نور ولی محسود جیسے خوارجی اس قرآنی اُصول کو توڑ کر کس دین کی پیروی کر رہے ہیں؟ جب قرآن کی روشنی اتنی صاف ہے تو پھر ان اندھیروں میں بھٹکنے کا مقصد کیا ہے؟

اس سوال کا جواب ہمیں اُن خفیہ ہاتھوں میں ملتا ہے جو اس پورے فتنے کو سہارا دے رہے ہیں، اور جن کے تانے بانے بھارت جیسے اسلام دشمن ملک سے جا ملتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی حالیہ دنوں پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت 20 برس سے ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے جس کہ ثبوت بارہا فراہم کی گئی ہیں۔

مزید برآں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوارج کے بارے میں جو پیش گوئیاں کی ہیں، وہ آج کے دور پر بالکل صادق آتی ہیں۔ صحیح البخاری کی حدیث ہے:

“يَخْرُجُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ – وَلَمْ يَقُلْ مِنْهَا – قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلَاتَكُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَيَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ”

ترجمہ: میری امت میں کچھ لوگ ظاہر ہوں گے – اور آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ امت میں سے ہوں گے – جن کی نمازوں کے مقابلے میں تم اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے، وہ قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔

یہ حدیث ان خوارج پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے۔ بظاہر اسلامی نعرے، طویل عبادات اور قرآن کی تلاوت کا دعویٰ، لیکن حقیقت میں دین سے خارج اور شریعت کے دشمن ہیں۔ ان کا مقصد صرف فتنہ و فساد پھیلانا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ان کے فتوے، ان کی حکمتیں اور ان کے "معاہدے” نہ صرف اسلام کے خلاف ہیں بلکہ کھلی گمراہی ہیں۔

خوارج نے ہمیشہ دین کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ لوگ دینی اصطلاحات کو ایسے مروڑ کر پیش کرتے ہیں کہ عام مسلمان گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے۔ کفار سے اتحاد کو "حکمت” کہنا اور اسے دینی جواز فراہم کرنا اسی سوچ کا تسلسل ہے۔ اس سوچ کی بنیاد فتنہ ہے، بددیانتی ہے اور دین کے ساتھ بدترین خیانت ہے۔

نور ولی محسود اور اس کے پیروکار آج جو کچھ کر رہے ہیں، وہ نہ صرف دینی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ یہ لوگ نوجوانوں کو جھوٹے نعرے دے کر بھٹکاتے ہیں، انہیں خودکش حملوں کے لیے تیار کرتے ہیں، اور پھر ان کے جسموں کے ٹکڑوں سے اپنا "جہاد” ثابت کرتے ہیں۔ کیا یہی اسلام ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده”(بخاری)

"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”

اس کے علاوہ اگر دیکھا جائے تو آج بھارت جس انداز میں افغانستان اور پاکستان میں خفیہ طریقے سے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے، اُس کا ایک مظہر یہی خوارجی گروہ ہیں۔ یہ لوگ بظاہر اسلامی نعروں کے ساتھ آتے ہیں لیکن حقیقت میں دشمنانِ اسلام کے آلہ کار ہیں۔ بھارت نے خطے میں مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے نہ صرف فوجی و سیاسی چالیں چلی ہیں بلکہ مذہبی فتنے کو بھی ہوا دی ہے، تاکہ اندرونی طور پر مسلمانوں میں تفرقہ پیدا ہو۔

نور ولی محسود کا حالیہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ خوارج اب اپنی اصلیت خود ظاہر کر رہے ہیں۔ وہ بھارت جیسے کفریہ ریاست سے مدد کو حکمت کہہ کر مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں، تاکہ اُن کی دہشتگردی کو "جہاد” کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“من أعان على قتل مسلم بشطر كلمة، لقي الله مكتوب بين عينيه: آيس من رحمة الله”

ترجمہ: جو کسی مسلمان کے قتل پر ایک آدھی بات کے ساتھ بھی مدد کرے، وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اُس کے ماتھے پر لکھا ہوگا: "اللہ کی رحمت سے مایوس”

لہٰذا ایسے فتنوں کو پہچاننا، ان سے دور رہنا اور ان کی مذمت کرنا ہر مسلمان کی شرعی ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں عدل، اخلاص، اور امن سکھاتا ہے، نہ کہ فتنہ، دھوکہ اور قتل و غارت۔ خوارج کی تمام سرگرمیاں دین اسلام کو بدنام کرنے اور دشمنانِ دین کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔

یہاں پر سوال یہ ہے کہ خارجی نور ولی محسود اگر تم کفار کے خلاف جہاد کا دعویٰ کرتے ہو، تو پھر انہی کفار، خصوصاً بھارت، سے مالی و عسکری امداد لینا کیسا جہاد ہے؟ کیا یہ کھلی منافقت نہیں؟

اگر تمہارا جہاد واقعی "دینی حکمت” ہے، تو اسلام کے کسی ایک معتبر امام، محدث، یا مجتہد کا حوالہ دو جس نے مسلمانوں کے قتل، اور کفار سے دوستی کو "حکمت” کہا ہو؟

اسلام ایک واضح پیغام دیتا ہے دوستی، نصرت اور گٹھ جوڑ صرف اللہ، اُس کے رسول کے ساتھ روا ہے۔ کفار کے ساتھ اتحاد، خصوصاً ایسے کفار جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خفیہ محاذ کھولے بیٹھے ہیں، کھلی غداری ہے۔ اور اس غداری کا انجام دنیا و آخرت میں رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔