آرٹ اک روحانی خوشبو ہے/سبیل بابا

اشتہارات

سرفراز شاہد چترال کے پروفیشنل Calligrapher مانے جاتے ہیں ۔ جنہیں تین بار نیشنل لیول تک اپنے فن پاروں کی نمائش کا موقعہ ملا ۔ پچھلے پندرہ سالوں سے مختلف آرٹ ایونٹس کا حصہ بنتے رہے ۔ آپ بیشمار اعزازات رکھتے ہیں ۔ آجکل پریس کلب بونی میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ موصوف کتاب سے شغف رکھنے والے خوش اخلاق امن دوست انسان ہیں ۔

آپ بچوں کیلئے اسکولوں میں تربیتی کیمپ لگاتے ہیں ۔ آن لائن کلاسز کا اہتمام کرتے ہیں ۔ چرون گاؤں کی جینئس بچی انوشا جنکا بدقسمتی سے انتقال ہو چکا ۔ انوشا اسکیچنگ کی دنیا میں ایک خداد صلاحیت رکھنے والی بچی تھی ۔

سرفراز شاہد نے بچی سے رابطہ کیا اور آن لائن کلاسز سے بچی کے جوہر تراشے ، یہ سلسلہ کافی وقت جاری رہا ۔ انوشا کی روح جنت میں آرام کر رہی ہے ، مگر مجھے شاہد بھائی کے آرٹسٹ سے لگاؤ اور آرٹ کے فروغ کیلئے اُٹھائے گئے پرسنل اقدامات پر رشک ہوتا ہے ۔

اس فن کو سماج میں پھیلانے کیلئے آپ انفرادی طور پر بہت زیادہ محنت کر رہے ہیں ۔ آپ نے مختلف موضوعات پر مضامین بھی لکھے ۔ چترال ٹائمز کیلئے فوٹو جرنلسٹ کا فریضہ بھی انجام دیا ۔ اسکے ساتھ ہی فوٹوگرافی بھی کافی سالوں سے کر رہے ہیں ۔ اور فنون لطیفہ سے خوب واقفیت رکھتے ہیں ۔

پہاڑوں میں گھرا بونی گاؤں آرٹسٹ کیلئے پیرس کا درجہ رکھتا ہے ۔ یہاں شاعر و ادبی ذوق رکھنے والوں کی کمی نہیں ۔ اس گاؤں کے باسیوں کو جمہوریت اور فطرت پسندی ورثہ میں ملی ۔ یہاں کے دلفریب مناظر اور آزاد مزاج عوام اپنا الگ تشخص رکھتے ہیں ۔ آرٹسٹ کیلئے بونی کسی پرستان سے کم نہیں ۔

آغا خان یوتھ اینڈ اسپورٹ بورڈ کے پلیٹ فارمز سے شاہد کو اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کا موقعہ ملا ۔ آپ کافی سارے اسکولوں اور دیہی علاقوں میں آرٹ کے فروغ کیلئے تربیتی کیمپ لگاتے ہیں ۔

جشن قاقلشٹ ، جشن آزادی کے تقریبات کو ویڈیوز اور فوٹوز کی صورت میں محفوظ بناتے ہیں ۔ کافی حد تک میڈیا اینڈ انٹرٹینمنٹ کو سمجھتے ہیں ۔ ایسے نوجوان ہمارے سماج کی ضرورت اور ہمارا اثاثہ ہیں ۔

آرٹسٹ انسان ان دیکھے جزبات کو اپنے رنگوں سے کینوس پر ڈسپلے کرتا ہے ۔ اسلئے تصویریں بولتی ہیں ، آرٹ ایک خوشگوار تاسیر رکھتا ہے ۔ آرٹ کو پیش کرنا اسکا منفرد اظہار بھی ایک الگ آرٹ ہے ۔ سرفراز شاہد ان حوالوں سے پروفیشنل کا مرتبہ رکھتے ہیں ۔

انشاء اللہ مستقبل قریب میں انٹرنیشنل فورمز کی طرف رسائی کیلئے محنت جاری ہے ، چند چیزیں ابھی پروسیس میں ہیں ۔ فنِ خطاطی کو باہر کی دنیا میں کافی سنجیدہ لیا جاتا ہے ، مجھے کامل یقین ہے سرفراز شاہد اپنا کام بیرونی دنیا میں متعارف کروائیں گے ۔

آئل پینٹنگ اور اسکیچنگ بہترین انداز سے بناتے ہیں ۔ رنگ اپنے موج میں کپڑے اور کاغز پر ایسی شاہکار تخلیق پاتے ہیں کہ آپ کے دل کو چھو لیتے ہیں — اور ڈیجیٹل سِنگل لنس رِیفلکٹر کیمروں سے فوٹوگرافی بھی ایک لمبے وقت سے ساتھ کرتے آ رہے ہیں ۔ آجکل اچھے زُومِنگ لینس سے محروم ہیں ، ورنہ قدرت کے نظارے کیمرے میں محفوظ کرنا بھی آپکا پرانا مشغلہ ہے ۔

یہ آرٹ سے لگاؤ والدہ کی طرف سے ملنے والی پزیرائی کا ثمر ہے ۔ سرفراز شاہد کہتے ہیں کہ ” آرٹ اک روحانی خوشبو ہے ، یہ آرٹ میری پراسرار دنیا میری محبت ہے ، آج میری ماں موجود نہیں لیکن میری ماں کا فیض مصوری اور خطاطی کی صورت میرے پاس زندہ ہے "

نوے کی ابتدا میں سرفراز شاہد چھوٹے بچے تھے ، اُس دور میں محلہ و خاندان کی خواتین سوئی دھاگہ سے ٹوپی ، جُرابیں ، اِسکارف ، رُومال ، دستانے بناتیں ، ڈھیر سارے رنگ والے دھاگے شاہد کو بہت اپیل کرتے ، یہ رنگوں سے محبت کی ابتداء تھی ۔

پھر کاغذ میں کچھ لکیریں کھینچ دیتے اور ماں کو دکھاتے ، ماں خوش ہوتیں ، حوصلہ دیتیں لیکن شاہد کیلئے قدرت نے یتیمی جیسی سزا کا انتخاب کیا تھا ۔ ماں کی جُدائی کا صدمہ ، الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا ۔

آپ ابھی بچے ہی تھے کہ ماں چل بسیں ۔ یہ حادثہ اسکے بعد آنے والے آفٹر شاکس ہر انسان تصور نہیں کر پاتا ۔ جن کی ماں نہیں وہی احساس رکھتے ہیں کہ یتیم کے کرب و آہوں کا کیا عالم ہے ۔ لیکن خدا کے فیصلوں پر انسان کو اختیار نہیں ، تکلیف و آزمائش میں آمنا و صدقنا کہنے میں رب العالمین کی رضا ہے ۔ صبر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔

زندگی میں درد ملنا انسان کو بہت کچھ سکھا دیتا ہے ، انسان اسی صورت تشنگی سے متعارف ہوتا ہے ۔ اہل دانش بڑے صدمے اور تکلیف کو اپنے لئے موٹیوشن سمجھتے ہیں ۔

یہ 2010 کی بات ہے ، LAPH کی طرف سے ITREB کے ہال میں ” زبردستی شادی کے نقصانات” پر تصویری مقابلے کا انعقاد ہوا ۔ اپنے اسکول کی طرف سے راقم نے اس مقابلے میں حصہ لیا ، آرٹ اور پریزنٹیشن دونوں میں اول رہا ، اس وقت کوچز صاحبان کے بیچ سرفراز شاہد بھی موجود تھے ۔

چودہ سال گزر گئے ، حالات بدلے ، ترجیحات نے رخ موڑا ، لیکن سالوں پہلے لکھے ہوئے سرفراز شاہد کے ریمارکس آج بھی پڑھتے ہوئے دل اس دنیا میں چلا جاتا ہے جہاں بے پناہ رنگوں سے یادوں کا کینوس آباد ہے ۔

ذاتی طور پر آرٹ سے لگاؤ رکھتا ہوں ۔ انگریزی ادب کا کالج اور یونیورسٹی میں طالبعلم رہا ۔ نفسیاتی بیماری اور علاج کے چکر میں کافی سال ضائع ہوئے ۔ تعلیم کا سلسلہ متاثر ہوا ۔

راقم اس زندگی کو چیلنج سے جیتا رہا ، طعنے دئیے گئے نامراد قسم کے لطیفے بنے ، لیکن راقم نے مقابلہ کیا ، ان حالات میں آرٹ سے بہتر کوئی ساتھی کام نہ آیا ۔ وہ تلخ ایام وہ تکلیف دہ حادثات گزر گئے لیکن راقم کو مالامال کر گئے ۔ اپنے من کا سفر تکلیف کے ساتھ پیوستہ ہے ۔

خطاطی کی دنیا میں سرفراز شاہد کو استاد کا درجہ دیتا ہوں ۔ شاہد بھائی ایک بار کہنے لگے ” مجھے بچپن میں قرآن پاک کے حروف بہت متاثر کرتے تھے ، مجھے قرآن سے پیار تھا ، قرآن کے چھوٹے حروف دیکھ کر میرا دل چاہتا کہ انہیں بڑا کر کے لکھوں اور یوں خطاطی کا شوق پرواں چڑھا "

سائنس کے مضامین دنیا میں انقلاب لائے لیکن آپ کو روحانیت کا احساس آرٹ سے ملتا ہے ۔ آرٹ کے سامنے باقی چیزیں Diploma ہیں ۔ آرٹ کے برعکس مضامین خشک ہیں ، لیکن دونوں علوم کا مرتبہ مختلف ہے ۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم سے آپ اپنا معیار زندگی بہتر بناتے ہیں ، آرٹ آپکو روحانی حصار فراہم کرتا ہے ، آپ خوشبہار اسرار سے وابستہ ہوتے ہیں ۔

سرفراز شاہد جیسے جوانوں کو سماج میں وہ مقام نہیں ملا جو انکا حق ہے ۔ سرکار کو ایسے نوجوانوں کیلئے لانگ ٹرم منصوبہ سازی کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسکولوں میں آرٹ سے متعلق مستقل پروگرامات ہونے چاہئیں، بچوں کو آرٹ سے متعارف کروانے کیلئے ہمارے پاس پروفیشنلز کی کمی نہیں۔ یہاں بس احساس کی ضرورت ہے۔ یوں تو سرکار فٹبال کرکٹ اور پولو کیلئے سالانہ کروڑوں روپے مختص کرتی ہے ۔

لیکن مصوری اور خطاطی کیلئے کوئی بھی کرادر ادا کرنے کو سنجیدگی سے تیار نہیں ۔ فوٹو گرافر کو سراہنے والا لکھاری کو پیار دینے والا رہنما ہمارے پاس موجود نہیں ۔ یہاں آپ کے روحانی ٹیلنٹ سے کسی کو سروکار نہیں ، تمام تر رہنمائی کھلاڑی اور فزیکل کھیلوں کی ہوتی ہے ۔

ڈسٹرکٹ اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ اور ڈسٹرکٹ یوتھ آفس سے گزارش ہے کہ نسل نو کیلئے مصوری اور خطاطی کلاسس کا اہتمام کریں ۔ بچوں کو کھیل سے متعلق لیٹریچر تخلیق کرنے پر لگائیں ۔

کھیلوں سے متعلق تحریری مقابلے کا انعقاد کریں ۔ بچوں کو رائٹنگ کا کورس کروائیں ۔ صرف ٹورنامنٹ کروانا آپکا کام نہیں ، ٹورنامنٹ آپ سے زیادہ موثر طور پر سویلین طبقہ کرواتا ہے ۔ آپ اپنی پالیسی میں تبدیلی لائیں ۔ ہمیں آپ صاحبان سے اچھے توقعات ہیں ۔

دورِ جدید میں اسپورٹس بھی علم کا درجہ رکھتا ہے ۔ ہمارے اپر چترال میں بہت ہی کم وسائل کے باوجود یہ دونوں ادارے شاندار کارکردگی دکھا رہے ہیں ۔ لیکن آرٹ سے لگاؤ رکھنے والے بچوں کو آپ کے توجہ کی ضرورت ہے ۔

سرفراز شاہد جیسے سیلف میڈ آرٹسٹ ہمارے سماج کا فخر ہیں ۔ اس سوسائٹی میں بہت شاندار تخلیقی صلاحیتوں والے بیٹے بیٹیاں عدم توجہ کا شکار ہیں ۔ خطاطی اور مصوری کیلئے یہاں کا موسم یہاں کا ماحول دوستانہ ہے ۔ نسلِ نو کو محفوظ رکھنے کیلئے آرٹ سے بہتر کچھ نہیں ۔

یہ تحریر ایک روحانی استاد کیلئے نظرانہ عقیدت ہے