آپریشن بنیان مرصوص— ایک شاندار فتح/تحریر: خوشحال خان

اشتہارات

10 مئی کی سحر، جب دنیا سوئی ہوئی تھی، افواجِ پاکستان نے دشمن کی مسلسل جارحیت کا دوٹوک اور معنی خیز جواب دیتے ہوئے آپریشن "بنیان مرصوص” کا آغاز کیا۔

آپریشن بنیان مرصوص ایک عسکری کارروائی نہیں تھی بلکہ دشمن کو ایک نظریاتی، اخلاقی اور روحانی پیغام تھا اس دشمن کے لیے جو رات کی تاریکی میں معصوم شہریوں پر حملہ کرنے کی بزدلانہ روش اپناتا رہا۔

یاد رہے 7 مئی کی شب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، جسے اُس نے ’’آپریشن سندور‘‘ کا نام دیا۔ اس جارحیت کا مقصد صرف سرزمین پاکستان کو نقصان پہنچانا نہیں تھا، بلکہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر پاکستان کو دباؤ میں لا کر جھکنے پر مجبور کرنا بھی تھا۔ لیکن بھارت کی یہ سوچ محض خام خیالی نکلی۔

پاکستان نے نا صرف اس حملے کو ناکام بنایا بلکہ اپنی شاندار دفاعی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے بھرپور جواب دیا۔

"اللہ اکبر” کے نعرے کے ساتھ شروع ہونے والا آپریشن بنیان مرصوص دشمن کو یہ باور کرانے کے لیے تھی کہ ہم صرف ہتھیاروں سے نہیں، ایمان، کردار اور پاکیزہ نیت سے لڑتے ہیں۔

اس آپریشن میں افواجِ پاکستان نے صرف دشمن کو دندان شکن جواب دیتے ہوئے دشمن کے عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق، اس آپریشن میں دشمن کے درجنوں اہم اہداف کو انتہائی مہارت سے نشانہ بنایا گیا۔ جن میں ادھم پور، پٹھان کوٹ، سورت گڑھ کے ہوائی اڈے، براہموس میزائل ڈپو، اڑی کا سپلائی ڈپو اور بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹرز شامل تھے۔ ادھم پور بیس کو تین میزائلوں سے تباہ کیا گیا، جبکہ آدم پور ایئر فیلڈ جہاں سے پاکستان اور افغانستان پر حملے کیے گئے تھے کو بھی مٹی کا ڈھیر بنا دیا گیا۔

جہاں تک آپریشن "بنیان مرصوص” لفظ کا تعلق ہے تو بنیان مرصوص نام ہی اپنے اندر ایک فلسفہ سموئے ہوئے ہے۔ جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی دیوار، یعنی استقامت، اتحاد اور ناقابل تسخیر دفاع۔

اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(4)

ترجمہ: بےشک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں صف باندھ کر گویا وہ عمارت ہیں سیسہ پلائی ہوئی۔

یہی وہ افواجِ پاکستان ہیں جن کی تربیت قرآن و سنت کی روشنی میں ہوئی ہے، جن کے سینے شہادت کی آرزو سے لبریز اور زبانیں تکبیر سے معطر ہوتی ہیں۔ جیسا کہ سورہ عادیات کی آیت نمبر 3 میں ذکر ہے:

"وہ صبح کے وقت دشمن پر دھاوا بولتے ہیں” یہ آیت گویا افواج پاکستان کی سپاہیوں کا عکس بنی جو فجر کے نور میں دشمن پر بجلی بن کر گرے۔

آپریشن بنیان مرصوص کا آغاز "الفتح” میزائل کی لانچ سے ہوا، جو ان معصوم پاکستانی بچوں کے نام کیا گیا جو بھارتی جارحیت میں شہید ہوئے تھے۔ یاد رہے پاکستان نے اُن معصوم جانوں کو نا بھولا ہے، نا کبھی بھولے گا۔

آپریشن بنیان مرصوص میں جہاں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہاں پر سائبر حملوں کے ذریعے بھارت کے 70 فیصد بجلی کے گرڈز ناکارہ بنا دیے گئے، جس سے ملک بھر میں اندھیرا چھا گیا۔ یہ آپریشن نا صرف عسکری اعتبار سے کامیاب رہا بلکہ سائبر وار فئیر میں بھی پاکستان نے دشمن کو پچھاڑ دیا۔

دشمن نے خود اعتراف کیا کہ 26 سے زائد اہم اہداف کو پاکستان کی جانب سے کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہی بھارت ہے جس نے پہلے نورخان، مریدکے اور شورکوٹ ایئر بیسز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا لیکن اس کے جواب میں پاکستان نے ثابت کر دیا کہ اس کی دفاعی صلاحیت، حملے کی طاقت اور حکمت عملی دشمن سے کئی گنا بہتر ہے۔

پاکستان کی عسکری قیادت نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر بھارت نے دوبارہ کسی قسم کی مہم جوئی کی کوشش کی تو اس کے اقتصادی مراکز اور ہائی ویلیو ٹارگٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔

آپریشن بنیان مرصوص درحقیقت ایک ایسا عزم ہے جو دشمن کے غرور کو خاک میں ملاتا ہے اور یہ باور کراتا ہے کہ پاکستان نہ صرف قائم ہے، بلکہ مضبوط، باوقار اور دشمن کے مقابل بے حد منظم بھی ہے۔ آپریشن بنیان مرصوص سے ہر محاذ پر دشمن کو ناکام بنایا جوکہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

آپریشن بنیان مرصوص سے دشمن کو فضائی، بحری اور ہر محاذ پر ناکامی ہوئی جسے دشمن کی آنے والی نسلیں بھی صدیوں تک یاد رکھیں گی۔

افواجِ پاکستان زندہ باد۔
پاکستان پائندہ باد

نوٹ: مضمون نگار گزشتہ 7 سالوں سے خیبرپختونخوا میں صحافت سے وابستہ