آل پارٹیز کانفرنس/تحریر: ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

اشتہارات

بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گرد حملے کے بعد حکومت اور حزب اختلاف دونوں نے آل پارٹیز کا نفرنس بلاکر ملکی حالات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی تجویز دی تھی اس تجویز پر عمل درآمد سے پہلے پشاور ارمڑ کی مسجد کا دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں مفتی منیر شاکر شہید ہوئے پھر جہلم میں حافظ سعید کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی جس میں حافظ سعید زخمی ہوئے،ا کا دکا دوسرے واقعات بھی اخبارات میں رپورٹ ہوئے، ایسے حالات میں آل پارٹیز کانفرنس کی ضرورت پہلے سے بڑھ کر محسوس کی جارہی ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف بے جا الزامات اور جوابی الزامات میں کمی نہیں آئی دونوں طرف سے کئی تو پچی میدان میں موجود ہیں اور توپوں کی گولہ باری کم ہونے کے آثار دکھائی نہیں دیتے آل پارٹیز کانفرنس کو ماضی میں راونڈ ٹیبل کانفرنس کہا جاتا تھا، تاریخ میں کئی اہم مسائل اس طرح کے مشاورتی اجلاسوں میں حل ہوچکے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ مشاورتی اجلاس سے پہلے ساز گار ماحول پیدا کیا جائے ذاتی دشمنی میں نرمی لائی جا ئے،سیاسی تلخیوں کوختم کرکے بات چیت کے لئے باہمی اعتماد کی فضا پیدا کی جائے اور ہم ایسے موڑ پر کھڑے ہیں کہ اعتماد سازی میں مزید دیر نہیں ہونی چاہیئے جتنی دیر ہوگی اتناہی نقصان ہوگا ملک کے خیر خواہ اور محب وطن حلقوں کی فوری توجہ کے لئے ناکام معاشرہ اور ناکام ریاست کے موضوع پر عالمی سطح کے دانشور وں کا حوالہ دینا عین مناسب معلوم ہوتا ہے روسی مصنف انتون چیخوف (1860-1904)سے پوچھا گیا کہ ناکام معاشرے کی نشانیاں کیا ہوتی ہیں؟ انہوں نے انگلیوں پرگن کر چار نشانیاں بتائیں قابلیت کی جگہ بد معاشی لے لیگی، کسی شعبے کے قابل لوگوں کو متنازعہ بنایا جائے گا،اہم مسائل کو چھوڑ کر معمولی باتوں پر مباحثے ہونگے معاشرے کے اختیارات جاہل لوگوں کو دیئے جائینگے جہاں یہ حالات دیکھو تو سمجھو کہ یہ نا کام معاشرہ ہے اگر موازنہ کیا جائے تو حدیث شریف میں بھی ایسے ہی اشارے ملتے ہیں ابن خلدون نے بھی مقدمہ تاریخ میں انہی خامیوں کا ذکر کیا ہے، دنیا میں ناکام ریا ستوں کے حوالے سے بہت سارا کام ہوا ہے سموئیل پی ہنٹگٹن کی رائے بھی اس سے ملتی جلتی ہے، 2012میں ڈیرن ایسی موگلو اور جمیز اے رابن سن کی کتاب ”وائی نیشنز فیل؟“منظر عام پر آئی تھی دو محققین نے ملکر امریکہ،چین،روس،افریقی ممالک،عرب ممالک اور جنوبی ایشیا کے ممالک میں ریاستوں کی ناکامی اور کامیابی کا جائزہ لیا ہے اور کئی مثالیں دی ہیں ایک مثال چینی تاریخ میں چار کے ٹولے کا خاتمہ ہے چینی انقلاب کے با نی ماوزے تنگ کی بیوی جیان چن نے تین کمیونسٹ لیڈروں کو ساتھ ملاکر اپنا گروپ بنایا تھا اُس کا دعویٰ تھا کہ وہ ماو زے تنگ کی بیوی تھی اور بہت چہیتی تھی اس لئے ملک کو چلانے کاحق اُسے حاصل ہے، ہوا گوفنگ نے ماؤ زے تنگ کی عزت کو آڑے آنے نہیں دیا، چار کے ٹولے کو گرفتار کر کے کڑی سزائیں دیں دینگ زیاو پنگ کو اختیارات دے دیے جس نے عوامی جمہوریہ چین کو چئیر مین ماؤ کے تصور کے عین مطابق ترقی کے راستے پر ڈال دیا ورنہ چار کا ٹولہ چین کا بیڑہ غرق کر دیتا اور چین کو میانمر، کانگو یا روانڈا بناکر رکھ دیتا، کتاب میں ناکام ریاست کی جو نشانیاں بیان کی گئی ہیں ان کا خلا صہ آٹھ نکات پر مشتمل ہے پہلا نکتہ یہ ہے کہ ترقی کے مواقع پر سفارشی لوگوں کا قبضہ ہوگا، وسائل کی تقسیم میں نا انصافی عام ہوگی، عدالتی نظام پر لوگوں کا اعتماد نہیں ہوگا، حکومت کے ادارے آپس میں دست و گریباں ہونگے کوئی بھی سرکاری ادارہ معتبر نہیں رہے گا ریا ست کے اندر قیادت نظر نہیں آئیگی عوام کو اس بات کا علم نہیں ہوگا کہ اختیارات کس کے پاس ہیں؟ دفاتر سے بازار اور منڈی تک کسی بھی جگہ قانون کی عملداری نظر نہیں آئیگی، جب یہ حالات پیدا ہوجائیں تو جان لو کہ ریاست ناکام ہونے والی ہے موجودہ حالات میں وطن عزیز پاکستان کو ناکام ریاست ہونے کے طعنے اور انجام سے بچانے کے لئے آل پارٹیز کانفرنس جیسے ہمہ گیر پلیٹ فارم کی اشد ضرورت ہے اور اس مقصد کے لئے توپ چیوں کو الگ کرکے توپوں کی گولہ باری روکنے کی تدبیر کرنی ہوگی نیز یہ بھی ضروری ہے کہ تصویر کے دونوں رخ سامنے رکھے جائیں 1971کے دس مہینے اس لحاظ سے بھیانک ثابت ہوئے کہ تصویر کا دوسرا رخ دکھا نے پر پابندی تھی ذرائع ابلاغ کے ذریعے صرف ایک ہی رخ دکھایا جاتا تھا 16دسمبر 1971گذر گیا تو تصویر کا دوسرا رخ سامنے آیا مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا جہاں سے بھی آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز آئی ہے بہت اچھی تجویز ہے اگر سنجیدگی کا مظاہرہ کر کے اس مشاورتی عمل کو کامیاب کیا گیا تو اس کے مثبت نتائج بر آمد ہونگے۔