لائف اسٹائل/تحریر: محمد جاوید حیات

اشتہارات

:
بڑے آفیسر کی بیوی کو ایک پارٹی میں جانا ہے اس پارٹی میں اس کے علاوہ بھی بڑے بڑوں کی بیویاں اور صاحب لوگ مدعو ہیں ۔۔۔پارٹی میں جانے کی تیاری میں صاحب کی بیوی نےدو دو گھنٹے لگائی ہے۔۔کونسا جوڑا پہنا جائے ، کونسے زیور ہوں کیسی پرفیوم ہو ۔۔جوتوں کا رنگ ۔۔۔گھڑی انگوٹھی۔۔۔ان کو دوسروں کو متاثر کرنا ہے ۔۔۔لوگ دیکھیں گے تو کیا کہیں گے ۔۔۔صاحب کی بھی یوں ہی کچھ تیاری ہے ہر چیز قیمتی ۔۔۔اس لیے کہ دیکھانا ہے ۔۔۔متاثر کرنا ہے ۔۔۔اپنی شخصیت ، اپنا سٹیٹس ۔۔اپنے مقام کا خیال رکھنا ہے ۔۔۔گوشت پوست کا انسان ۔۔۔وہی پانچ فٹ قد ۔۔۔۔وہی ہاتھ پاوں ۔۔۔وہی اکھیاں کان ۔۔۔وہی بال ۔۔۔وہی جسم اور جسم کے اعضاء۔۔ وہی نظام انہضام ،نظام تنفس ،۔۔۔دل کی وہی دھڑکنیں ۔۔۔دیکھنے کی وہی صلاحیت ۔۔۔اگر پارٹی میں چھینک آجائے تو اس کو روکنے کی قوت نہیں ۔۔۔وہیں اگر واش روم جانے کی حاجت ہو تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں پارٹی میں ہوں بعد میں جاوں گا ۔۔۔دو دن کی زندگی کی اتنی تیاریاں ۔۔۔۔
دوسری طرف آدمی کی ایک اور بھی قسم ہے ۔۔۔۔۔ جھونپڑی کی چھت گرنے ہی والی ہے ۔۔۔بارش شروع ہے۔۔۔ چھت ٹپک رہی ہے ۔ جھونپڑی میں جلانے کی لکڑیاں بھی نہیں ۔۔۔بچے بھوکے ہیں ۔۔۔بیوی نے آج دیہاڑی سے واپس آنے والے خاوند سے پوچھنے کی جرات بھی نہیں کی کہ دیہاڑی لگی کہ نہیں ۔۔ خاوند بھی یہ بتانے کی جرات نہیں کی کہ آج دیہاڑی نہیں لگی ۔۔۔ان کےجوتے پھٹے ہیں چار سال پرانے ہیں ۔کپڑوں کے چیھتڑے نکلے ہوۓ ہیں ۔۔بچوں کے کپڑوں، جوتوں اور تعلیم کی فکر ہے ۔۔ کل بازار میں شام ڈھلے ایک بچے کو جوار کے بھنے ہوئے سٹے بھیجتے ہوئے دیکھ کر تڑپ اٹھا تھا اس کے اپنے بچے کی عمر کا معصوم پیارا سا بچہ ۔۔۔بچے پرندوں کی طرح شام کو گھر آتے ہیں ۔۔ لیکن یہ بچہ اپنے گھونسلے سے باہر ہے یہ آدم زاد ،یہ اشرف المخلوقات گھونسلے جانے کی بجاۓ اب بھی رزق کی تلاش میں ہے باقی سارے پرندے اپنے بیٹ بھر کے مطمئن لوٹے ہیں ۔۔۔آج انھوں نے بازار میں بچے کو تھیلی میں مٹھائی رکھے بھیجتے ہوۓ دیکھا تھا تڑپ اٹھا تھا ۔۔۔مٹھائی تو بچے کی مان ہوتی ہے شدید خواہش۔۔۔یہ بچہ اپنی آخری خواہش بھیج رہا تھا ۔۔اس نے عظیم مصنف نجیب محفوظ کا یہی جملہ اپنے استاذ سے سنا تھا ۔ کہ آج بچہ بازار میں مٹھائی نہیں اپنی زندگی کی سب سے پیاری آرزو بیچ رہا تھا ۔۔گھر پہنچنے کے بعد سوچا تھا کہ یہ گھر ہے۔۔۔۔ یہ زندگی ہے ۔۔۔اس نے زندگی کی کوئی اور تشریح سنی تھی ۔۔خوراک ، پوشاک ، گھر ۔۔۔ایک بار استاذ نے کلاس روم کی بلیک بورڈ یہ شعر لکھا تھا اور بڑے درد سے اس کی تشریح کرکے کہا تھا کہ بچو ! گھر مکان کو نہیں کہتے ۔ ۔ عمارت گھر نہیں کہلاتی ۔۔۔اگر جھونپڑی میں بھی سکون ہو وہ جھونپڑی گھر کہلاتا ہے اگر کوٹھی کے اندر بے سکونی ہو تو وہ گھر نہیں کہلاتا ۔۔۔شعر یوں تھا ۔۔۔۔
میرے مولا مجھے اتنا تو معتبر کردے ۔۔۔۔۔
میں جس مکاں میں رہتا ہوں اس کو گھر کردے ۔۔۔۔
اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جاۓ تو زندگی کی حقیقتیں ایک جیسی ہیں ۔بیماری دونوں قسم کے انسانوں کی مشترک ہے ۔۔بھوک پیاس دونوں کی مشترک ہے ۔بنیادی انسانی حاجات دونوں کی مشترک ہیں ۔البتہ ایک زربفت و کمخواب پہنتا ہے اور ایک پھٹے پرانے کپڑوں میں ہے ۔۔۔ایک جھونپڑی میں رہتا ہے ایک محل میں ۔۔۔ایک ساری زندگی عیاشیاں کرتے تھکتا نہیں اگر مر مر کے جیتا ہے ۔لیکن انجام دونوں کے چھ فٹ کی زیر زمین کھڈ میں سونا ہے ۔دونوں کے اعضا ایک جیسے ہیں جس کی سانس چلتی ہے وہ زندہ ہے جس کی رکتی ہے وہ مر جاتا ہے ۔چاہیے تھا کہ لائف سٹائل ایک جیسا ہوتا ۔۔۔۔انسان کے علاوہ ساری مخلوقات کی لائف سٹائل ایک جیسی ہے ۔۔کوئی مغرور ،کوئی دولت مند کوئی لاچار نہیں ۔کوئی بادشاہ ،کوئی وزیر کوئی فقیر نہیں ۔۔۔شاعر نے سچ کہا ۔۔۔
خدا نے کیوں دل درد اشنا دیا ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔
اس آگاہی نے تو پاگل بنا دیا ہے مجھے ۔۔۔۔
ایک بار لائف سٹائل ایک جیسا کرکے دیکھایا گیا ہے دنیا جنت بن گئی تھی ۔۔پوری سلطنت میں زکواة خیرات لینے والا کوئی نہیں تھا ۔۔حکمران بھی وہی کچھ کھاتا پیتا اور پہنتا تھا جو رعایا کھاتی ،پیتی ،پہنتی تھی ۔۔حکمران کے کپڑوں پر پیوند تھے ۔۔۔ان کا سرعام احتساب ہوتا ۔۔دنیا نے جنت کے یہ مناظر دیکھی ہے ۔۔لیکن وہ امت خواب ہوگئی ۔۔۔آج اسی امت کے افراد میں آسمان زمین کا فاصلہ ہے ۔۔۔انسان جتنا رنگینیوں میں کھو جائے غیر سنجیدہ ہوتاجاتا ہے ۔۔۔قرآن نے انسان کو یاد دیلایا ۔۔ان کے دل ہیں حق سوچتے نہیں ۔۔آنکھیں ہیں حق دیکھتے نہیں ۔کان ہیں حق سنتے ہیں ۔۔وہ چوپائے ہیں بلکہ ان سے بھی بد تر ۔۔۔۔۔آج اگر عورت ناخن بڑھانے ،بال سنوارنے ،میک اپ کرنے اور ننگی پھرنے کو لائف سٹائل کہدے تو اس کی کیا تعریف ہو سکتی ہے ۔۔۔۔ایک دن آئے گا کہ دنیا کی ساری لذتیں ،آسائشیں ،عیاشیاں اور سٹائل چھین لیے جائیں گے ۔۔وہ قیمتی کپڑے بھی اتارے جائیں گے اور وہ پھٹے پرانے بھی ۔۔۔کفن کے کپڑے دونوں کے ایک ہی قیمت کے ہوں گے ۔۔قبر کا سائز وہی ہوگا ۔۔۔کفن دفن کے رسمات وہی ہوں گے ۔۔دو چار دن خویش و عقارب افسردہ ہوں گے پھر وہی قہقہے بلند ہوں گے ۔۔۔۔۔
چو آہنگ رفتن کند جان پاک
چہ بر تخت مردن چہ بر روۓ خاک