رحمتوں کا مہینہ اور دیہاڑی دار/تحریر: محمد جاوید حیات

آج رمضان المبارک کا چاند دیکھنے حکومتی سطح پر کمیٹی کا اجلاس ہوگا ۔جدید آلات کی مدد سے چاند دیکھنے کی کوشش کی جاۓ گی ۔ریاست کا اشرافیہ پہلے سے رمضان کے نام پہ تیاری کر چکے ہوں گے ۔ماکلات و مشروبات کا بندوبست ہوگا ۔دکانوں میں گاہگوں کا اژدہام ہوگا ۔گھروں میں خواتین باورچی خانوں میں جت جائیں گی ۔۔علمائے کرام رسول اللہ ص کی حدیث مبارک سنائیں گے کھل کر خرچ کرو ،صدقہ کرو ،اپنی عبادات میں اضافہ کرو ، افطاری عنایت کرو ،کسی کا روزہ افطار کراو ۔۔۔آگے بھی کچھ پیکیچز کا اعلان ہوگا ۔۔۔لیکن ایک گھر میں باپ کی افسردگی میں مزید اضافہ ہوئی ہے ۔دیہاڑی وہی لیکن ملک خداداد کے بازاروں کی رونق گرانفروشوں کے دم قدم سے ہے ابھی تو کمائی کا موسم آگیا ہے ۔قیمتوں میں اضافہ ہوگا ہوش ربا اضافہ۔۔۔کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا ۔۔۔پولیس کی وردیاں وہی ہوں گی ۔۔ریونیو کے آفیسرز تحصیل دار ،ٹی ایم او ،اے سی اسی طرح اپنی قیمتی گاڑیوں میں پھر رہے ہوں گے ۔۔وہی اہل ثروت عصر کےوقت اپنی گاڑیوں میں اپنے بچوں اور بیگمات کے ساتھ بازاروں کا رخ کریں گے چاٹ ،سموسے،دہی لسی ،مٹھایوں ، پکوڑوں کی دکانوں کے سامنے گاڑیاں کھڑی کریں گے ۔خاندان والے گاڑی میں بیٹھیں گے اگر کوئی بچہ بڑا سا ہو وہ باپ کے ساتھ گاڑی سے اترے گا افطاری کے لیے چیزیں خریدیں گے لیکن چھوٹے گاڑی میں چیخیں گے ۔آئس کریم ۔ ٹافی ۔۔چاکلیٹ۔۔۔۔اسی طرح ہلچل افطاری تک رہے گی ۔ہر روز ایسا ہوگا مگردیہاڑی والا دیہاڑی لگا کے سر نیچے کرکے گھر کی راہ لے گا ۔۔۔گھر میں بیگم اور بچے دبکے ہوئے بیٹھے ہوئے ہوں گے ۔۔کالی چائے ہوگی روٹی ہوگی ۔۔آذان کا انتظار ہوگا ۔۔آذان ہو چکی ہوگی ۔۔افطاری ہوچکی ہوگی ۔۔رحمتوں کے مہینے میں غربت کی چکی میں غریب پس رہے ہوں گے ۔فلاحی مملکت کے حکمران موج مستی میں ہوں گے ان کو کبھی تجربہ نہ ہوگا کہ افطاری نہ ہونے سے ،دیہاڑی نہ لگنے سے جیب خالی ہونے سے کس عذاب کا سامنا کرنا پڑتا یے ۔حق پرست حکمران کی ایک صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ فکر مند رہتا ہے اس لیے نہیں کہ اس کے اقتدار کو کوئی خطرہ ہے اس لیے کہ اس کی رعایا کو مسائل کا سامنا تو نہیں ۔رعایا کی فکر ہی بہترین حکمرانی کی علامت ہے ۔کامیاب حکمران اللہ کی طرف سے نعمت اور نااہل حکمران اللہ کا عذاب ہے اس لیے عمال کو اعمال سے تعبیر کیا گیا ہے ۔۔۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کا انجام سخت بھیانک ہے ۔دیہاڑی دار کے لیے رحمتوں کا مہینہ ایک امتحان سے کم نہیں روزے کی تھکن اوپر سے دیہاڑی کی مشقت اور آگے گھر میں بے سروسامانی کا بڑا امتحان آتا ہے ۔دیہاڑی سے افطاری اور سحری بمشکل ممکن ہو سکتی ہیں لیکن آگے عید کی خوشیوں میں کنبہ کی محرومی ایک خوفناک عذاب ہے ۔بچوں کی شکستگی اور ان کی آنکھوں میں اتری محرومی اور افسردگی والدیں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے ۔۔والد وہ واحد سپاہی ہے جو ہر محاظ پہ لڑتا رہتا ہے اس کی جیت بچے کی خوشی اور ہار اس کی افسردگی ہے ۔اسلام میں اس قرض دار کے لیے چھوت ہے جو اپنے کنبے کو پالنے کے واسطے قرض لے اور اس پر قرض چھڑ جاۓ ۔۔دیہاڑی دار مرمر کے جیتا ہے۔سوال یہ نہیں کہ وہ مرمر کے جیتا ہے سوال یہ ہے کہ اس کے ارد گرد زندگی مسکراتی ہے ۔۔زندگی کی رنگینیان بکھری ہوئی ہوتی ہیں قہقہے اٹھ رہے ہوتے ہیں ۔۔خوراک پوشاک کی فراوانی ہوتی ہے ۔۔خزانوں پہ بیٹھے مگرمچھ اپنی کالی دھن خرچ کرنے کے لیے مصرف ڈھونڈتے ہیں لیکن زندگی اس کے لیے امتحان ہے ۔زندگی پر اس کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا دوسروں کا ہے مگر یہ حق اس سے چھین لیا جاتا ہے ۔اس کا صرف قصور یہ ہے کہ وہ غریب ہے ۔۔اس کو ریاست کی طرف سے وہ حقوق نہیں ملتے وہ سہولیات میسر نہیں آتیں جس کا وہ سزاوار ہے۔اگر تعلیمی سہولیات ریاست کی طرف سے یکسان ہوتیں تو وہ بھی تعلیم حاصل کر سکتا تھا ۔اگر ہنر سیکھانا میسر ہوتا تو وہ بھی ہنرور ہو سکتا تھا ۔۔وہ سویرے آنکھ کھلتے ہی دیہاڑی پہ نہ لگتا وہ مزدوری پہ نہ نکلتا ۔وہ مٹھائی کھانے کی عمر میں میٹھائی نہ بھیجتا ۔دیہاڑی دار پھتروں کے معاشرے میں درندوں کے دیس میں زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے ۔۔اگر اس کے ارد گرد انسان ہوتے تو وہ اور اس کا خاندان ان کی افطاری میں شامل ہوتا ۔اگر اس پر انسانوں کی حکمرانی ہوتی تو بازار کی حالت یوں نہ ہوتی ۔۔اگر اس کے ارد گرد انسانی درد زندہ ہوتا تو اس کے بچوں کی بھی عید کے کپڑے بنتے ۔دیہاڑی دار طبقے کی عجیب تاریخ ہے ۔۔خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے معاوضے کا مسلہ کابینہ کے سامنے پیش ہوا ان سے دریافت کیا گیا ۔۔۔کہ آپ کا معاوضہ کتنا مقرر کیا جاۓ فرمایا ۔۔۔مدینے کے عام دیہاڑی دار کی مزدوری کے برابر ۔۔۔کابینہ کو حیرت ہوٸی سوال اٹھا کہ یہ ناکافی ہوگا ۔۔فرمایا تو میں پہلے دیہاڑی دار کا معاوضہ بڑھاوں گا ۔۔۔یہ ملک ان خوابوں کی تکمیل کے لیے بن گیا تھا ۔۔اہل درد ہیں ان سے یہ معاشرہ خالی نہیں لیکن ناکافی ہیں ۔۔۔رحمتوں کا مہینہ سراپا امتحان ہے۔۔اہل ثروت کےلیے بھی اور دیہاڑی دار کے لیے بھی۔