گھریلو تشدد۔۔۔ آگاہی ورکشاپ/تحریر: محمد جاوید حیات
انسان کا وجود خاندان سے وابستہ ہوتا ہے پہلی تربیت گاہ ماں کی گود اس لیے ہےکہ یہ خاندان کی پہلی سیڑھی ہے یہاں سے آدمی انسان بننا شروع کرتا ہے ۔۔آدمی کو انسان بننے میں کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور بڑے دشوار گزار مراحل طے کرنےہوتے ہیں ۔ غالب نے اس لیے کہا تھا
بس کہ دشوار ہے ہر کام کاآسان ہونا۔۔۔
آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا۔۔
اسی گھر (خواہ وہ جھونپڑی ہی کیوں نہ ہو) میں تشدد بھی جنم لیتی ہے اور امن اور محبت کے سوتے بھی پھوٹتے ہیں ۔تعلیم و تربیت صرف لکھنے پڑھنے کا نام نہیں۔لکھنا پڑھنا ہنر ہیں مشق سےسیکھنے کی چیزیں ۔۔۔آدمی لکھ پڑھ کر بھی انسان نہیں بن سکتا جب تک اس کو "انسانیت ” نہ سیکھائی جائے ۔۔وہ انسان بن کر بھی درندہ ہی رہتا ہے ۔۔۔تاریخ میں کتنے انسان نما درندے گزرے جن کے لگائے ہوئے زخم اب بھی انسانیت کے سینے سے ناسور بن کر رس رہے ہیں ۔۔ہٹلیروں ،میسولونیز، بوشز ،چنگیزیز ،ہلاکوز کی کتنی قطاریں ہیں جو ننگ انسانیت ہیں۔۔
اے کے ار ایس پی کے پلیٹ فارم سے ایسے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے معاشرے میں موجود پیچیدگیوں کے حل کی طرف قدم اٹھایاجاتا ہے ۔معاشرے میں موجود افراد ان کی حیثیت ،ان کے فرائض ،ان کے حقوق اور ان کے کردار سے ان کی آگاہی کے لیے ان کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا جاتا ہے ۔ان کو آگاہی دی جاتی ہے ان کی رہنمائی کی جاتی ہے ۔آج کے اس تیز ڈیجیٹل دور میں مغرب سائنسی ترقی میں بہت آگے گیا ہے لیکن پھر اسے احساس ہوا کہ نیچرل سائنس ہی ضروری نہیں اس دنیا میں اور انسانوں کے معاشرے میں زندہ رہنے کے لیے سوشل سائنسز کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو بندہ انسانوں کے لیے بہترمعاشرے کادردرکھتا ہووہ بندہ انسانیت کا مسیحا ہے ۔۔بےشک کوئی سائنسدان کوئی موجد انسان کی فلاح میں کردار ادا کرتا ہے لیکن انسانوں کو انسانیت سیکھانے والا اس سے بھی زیادہ کردار ادا کرتا ہے ۔جس دور کو ہم مہذب ،تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ دور کہتے ہیں اس دور میں بھی انسانوں کے ہاتھوں انسانوں کی ایسی تباہی کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ انسان انگشت بدندان ہوتاہے ۔
اس بار اے کے آر ایس پی کے انتظام سے گورنمنٹ ہائی سکول واشچ میں جو آگاہی مہم تھی اس کے انتظامات کا سہرا پراجیکٹ منیجر اے کے ار ایس پی فہیم الدین اور آر پی ایم اے کے ار ایس پی سید سجاد صاحب کے سر جاتا ہے ۔آگاہی ورک شاپ کا عنوان "گھریلو تشدد ” تھا ۔۔ورک شاپ کی اہمیت بہت تھی ۔یہ دو افراد خصوصی شکریے کے مستحق تھے کہ انہوں نے ایسا اہم اور بڑا پروگرام گاوں کے ایک سکول میں رکھا تھا۔۔گورنمنٹ ہائی سکول واشچ کے ہیڈ ماسٹر محمد رسول صاحب نے اچھا انتظام کیا تھا ۔گاوں کے معتبرات ،سکول پی ٹی سی ممبران ،اساتذہ کرام طلباء و طالبات حاضر محفل تھے ۔۔۔محفل کی صدارت صوبیدار حکمت جلیل کر رہے تھے ۔۔تلاوت کلام پاک نعت شریف بچوں نے پیش کیا ۔۔ایک استاذ(راقم مضمون) نے خصوصی خطاب کیا ۔انہوں نے قران و حدیث ،تاریخ عالم اور موجودہ دور کے تقاضوں کی روشنی میں افراد کے فرائض اور ان کے حقوق پر سیر حاصل بحث کی۔۔انہوں نے کہا کہ اگر افراد خواہ وہ مرد خواتین ،بچے بچیاں ،،حاکم محکوم جو بھی ہوں وہ اپنے فرائض کماحقہ ادا نہ کریں تو حقوق لازمی سلب ہونگے اور یہاں بےچینی اور تشدد جنم لے گی ۔۔تشدد کی جڑ بے چینی ہے۔۔ بے چینی معاشرے سے میں گڑبڑ پھیلتی ہے اور اسی سے خاندانوں کے خاندان تباہ ہوتے ہیں ۔انہوں نے خاندان کو معاشرے کی اکائی کہا اور قوم کی نرسری کہا ۔ انہوں نے بدلتے ہوۓ حالات کے تناظر میں اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے اپنی ثقافت ،تہذیب اور تمدن کی حفاظت پر زور دیا کہ چترالی تہذیب بے مثال ہے انہوں نے فرد اور افراد کی اگاہی پہ زور دیا اور اے کے أرایس پی کی کاوشوں کو سراہا کہ وہ افراد پر توجہ دیتی ہے ۔۔ورکشاپ سے صدر محفل نے خطاب کیا اور بچوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈالنے کو کہا ۔۔۔پرنسپل صاحب نے خاندان میں والدین کے کردار کو اہم کہا اور کہا کہ یہ کلیدی کردار والے اپنے حصے کا کام کریں تو violence کب کی دفن ہوجاۓ گی ۔۔۔پرتکلف چائے حسب روایت تھی ۔۔۔آخر میں خصوصی طور پر اے کے آر ایس پی کی کاوشوں کے لیے فہیم اور سجاد صاحب کو شاباش دی گئی۔