ہمارے قہقہے/تحریر:محمد جاوید حیات

اشتہارات

77 سال پہلے ہم نے یقینا غیروں سے آزادی حاصل کی تھی وہ ہمارے قہقہے کے دن نہ تھے ۔ہمیں نئے گھر کی تعمیر کرنی تھی ہمیں مضبوط ہونا تھا ہم تگ و دو اور جد و جہد کے عذاب سے گزر رہے تھے ۔ہمارا محبوب لیڈر ہمیں سسکتا چھوڑ گئے ۔اس کے بعد ہم نے دنیا نہیں دیکھی ۔ہمارے وہ سہانے خواب چکنا چور ہوگئے ۔۔گھر آنگن کا خواب ۔۔امن سکون آزادی کا خواب ۔۔ترقی خوشحالی کا خواب ۔۔۔مسکراہٹوں اور قہقہوں کا خواب ۔ اب ہم قہقہے کیا لگاتے ۔۔ہماری قسمت میں قہقہے نہیں تھے۔۔ہم لڑتے رہے کبھی دشمنوں سے ،کبھی اپنوں سے ،کبھی اپنے آپ سے ۔۔۔لیاقت علی خان شہید ہوا ابھی ہم اپنے محبوب قائد کی جدائی کا عذاب سہہ رہے تھے ۔۔ہم چیخ چلاتے رہے ۔۔۔یہ کس نے قتل کیا یہ اگرچہ سوال تھا مگر اندھیر نگری میں اس کا جواب دہ کوئی نہیں تھا ۔وزیر اعظم آتے رہے جاتے رہے یہ بچوں کا کھیل تھا ہمارے لیے کھلواڑ ۔۔۔محافظوں نے بھاگ ڈور سنبھالی ۔۔پیدائش سے پہلے کی باتیں ہم کیا جانیں کہ یہ دور بھی کبھی قہقہوں کا دور نہیں رہا ۔ہم نے غیروں سے جنگ لڑی ۔۔۔۔دولخت ہوۓ اور دنیا کے سامنے اتنے ذلیل ہوۓ کہ شاید قوموں کی تاریخ میں ایسا ہو ۔ ہمارے قہقہے کیا بلند ہوتے ہم کبھی جمہوریت اور امریت میں فرق نہ کر سکے پھر ہم نے غیروں کی جنگ لڑنی شروع کی ۔۔پھر جمہوریت کا جن ایک گروپ لے کے بوتل سے باہر آیا بہت بعد میں پتہ چلا کہ یہ گروہ "اشرافیہ”کہلاتی تھی ۔ پھر مداری کا کھیل ہوا۔۔۔ جب مداری کا کھیل شروع ہوا تو ہم بس نعرے ہی سنتے رہے ۔پھر پتہ چلا کہ مداری پتلی تماشا اس لیے دیکھا رہے ہیں کہ یہ قرض لے رہے ہیں چڑیا کے گھونسلے کو انہوں نے چیل کا گھونسلا بنا رکھا ہے۔ ۔۔کسی نے کہا تھا ۔۔۔۔دام و درہم اپنے پاس کہاں ۔۔۔۔چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں ۔۔۔۔بس ہم بیکاری بن گئے ۔۔چاہیے تھا کہ ترقی کرتے ہم ہر لحاظ سے مضبوط ہوتے ۔ہمارے محافظ بہادری کی علامت صداقت کا پیکر ہوتے ۔۔۔مرد قلندر نے کہا تھا ۔۔۔ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ ۔۔۔۔پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے ۔۔ہمارے پاسبانوں سے ہمیں محبت ہوتی ہمیں عقیدت ہوتی ان کو دیکھ کر ہمارے چہروں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ۔۔ہمارے منصف ہمارے حقوق کے دربان ہوتے ۔۔۔ہماری کوئی دھائی نہ ہوتی نہ نا انصافی کا اندیشہ ہوتا ہم اپنے آپ کو دارالعدل میں محفوظ تصور کرتے ۔ہمارے محکموں میں کام ہوتا ۔ہمارے راہنما ایماندار ہوتے ہمیں اعتماد ہوتا تب ہم مسکراتے قہقہے لگاتے ۔۔ہم سندھ کے وڈھیروں ، پنجاب کے چودھریوں ، بلوچستان کے سرداروں اور سرحد کے خان صاحباں سے نہ ڈرتے ہم ان کو دیکھ کر قہقہے لگاتے ۔۔ہم کہتے سائیں جی ۔۔۔وہ کہتے مت سائیں کہو تمہارا بھائی ۔۔۔ہم کہتے خان جی وہ کہتے ۔۔۔مڑا خان مہ ویا ،،،تمہارا بھائی ۔۔۔ہم کہتے سردار جی وہ کہتے ہم پاکستانی ہیں ۔۔ہمارے قہقہے نعرے بن جاتے زندہ قوم کے نعرے ۔پائندہ قوم کی للکار ۔۔۔سندھ میں تھر کے بچے بھوک کے خوف سے آزاد ہوتے قہقہے لگاتے ۔بلوچستان اور قبائل کے بچے بارود کی بو سے نااشنا ہوتے ۔۔قہقہے لگاتے ۔۔ہم اپنی سڑکوں پر ،پارکوں پر ، ہوٹلوں میں ،صحراٶں میں بے خوف قہقہے لگاتے ۔۔اپنی عبادت گاہوں میں اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوتا ۔۔۔دروازہ کھلنے کی آواز پر دل نہ دھڑکتا ۔رب سے گڑ گڑاکر اپنے قہقہوں کا شکریہ ادا کرتے ۔ریاست کی ذمہ داری ہمیں تنخواہ دیتی ہمیں اس کا خوف نہ ہوتا ہم قہقہے لگاتے ۔۔پنشن پہ جاتے ہوۓ ہمیں پنشن کٹوتی کا خوف نہ ہوتا ۔دفتروں میں کام نہ ہونے کا خوف نہ ہوتا ۔۔ہر مہینے بجلی کے بل ، تیل کی قیمت ، گیس کی قیمت کی فکر نہ ہوتی ۔آٹے کی قیمت اور بچوں کی بھوک کی فکر نہ ستاتی ۔۔۔ہمیں سہولیات میسر ہوتیں ہمارے حقوق کی پاسداری ہوتی ۔۔۔تب ہم قہقہے لگاتے ۔۔ہمیں اپنے حکمرانوں سے محبت ہوتی۔۔ ہمیں اپنے محافظوں سے عقیدت ہوتی ۔۔ مگر کاش ہمیں محبت اور عقیدت کے قابل بھی نہیں سمجھا گیا ۔۔۔۔ہمیں کسی کا نہیں چھوڑا گیا ہے۔۔ہمارے پاس قہقہے کے لیے وقت ہی نہیں بچا ہے ۔۔ہمارے قہقہے چھین لیے گئے ہیں ہمیں آہیں اور آنسو دیے گئے ہیں ۔۔ہم قہقہے کیا لگائیں ۔۔۔۔۔اتنی بے چینی اور نفرت شاید کسی قوم میں ہو ۔۔۔ہم ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔اتنی دور کہ نہ ہمارے قہقہے ایک دوسرے کو سنائی دینگے اور نہ ہماری دھائیاں ۔۔۔۔