منگل. جنوری 31st, 2023

یہ خو ش آئند بات ہے کہ کر اچی، لا ہور اور اسلا م آباد میں ادبی میلوں کے کامیاب انعقاد کے بعد پشاور میں ادبی میلے کا اہتما م ہونے جا رہا ہے اور یہ میلہ بھی کا میا بی سے منعقد ہو گا اس کا سلسلہ بھی کر اچی کی طرح پشاور میں بھی روا یتی انداز میں چل پڑے گا ہم نے نئی نسل کو ادب اور کتا بوں کی طرف ما ئل کرنے کے لئے اس کا نا م انگریزی میں ”پشاور لٹریری فیسٹول“ رکھ دیا ہے اور انگریزی میں نا م رکھنا کسی بھی سر گر می کو جا ری رکھنے کی ضما نت ہو تی ہے مجھے یا د ہے کہ آج سے 10سال پہلے کرا چی لڑیری فیسٹول میں سید احمد شاہ صاحب نے سوال اٹھا یا تھا کہ یہاں پورے ملک سے اور بیرون ملک سے ادب دوست احباب جمع ہو ئے اہم ادبی مو ضو عات پر سیر حا صل گفتگو ہوئی ضیا محی الدین، انور مقصود اور دیگر بلند پا یہ شخصیا ت کو ہم سب نے دل کھو ل کر داد دی مگر کیا ہم امید رکھ سکتے ہیں کہ اس ادبی میلے کے کامیاب انعقاد کے بعد ملک میں کتا بوں کی صنعت کو فائدہ ہو گا کتابوں کی صنعت بھی چینی کی صنعت کی طرح تر قی کرے گی؟ 10سال بعد یہ سوال اپنی جگہ مو جو د ہے، وطن عزیز میں ہر صنعت کی اپنی لابی ہے،چینی کی صنعت سے وابستہ شخصیات ہر حکومت میں اہم وزار توں پر فائز ہو تے ہیں ان کی لا بی سب سے زیا دہ مضبوط ہے، ٹیکسٹائل کی صنعت اپنی طاقتور لا بی رکھتی ہے مگر کتا بوں کی صنعت لاوارث ہے اس کی کوئی لابی نہیں کاغذ کی دس اقسام میں سے کسی بھی قسم کو سستا کرنے کا کوئی طریقہ اب تک سامنے نہیں آیا، نیو ز پرنٹ کے لئے دیگر مما لک میں جو تر غیبات مو جو د ہیں وہ ہما رے ہاں نا پید ہیں 400صفحا ت کی کتا ب اگر پڑو سی مما لک میں 250 روپے کی آتی ہے تو ہما رے ہاں اس کی قیمت 900روپے سے کم نہیں ہوتی لاہور میں بڑے بڑے بک سٹالوں پر آپ کو موقع ملتا ہے کہ پڑوسی مما لک کے ساتھ اپنے ملک کی کتابوں کا موازنہ قیمتوں کے حساب سے کر سکیں یہ جو ن 1985کا واقعہ ہے راولپنڈ ی میں پانچویں کل پا کستان اہل قلم کا نفر نس منعقد ہو ئی جنر ل ضیا ء الحق نے افتتاح کیا شفیق الرحمن اکا د می ادبیات پا کستا ن کے صدر نشین تھے فیض احمد فیض، افتخار عارف، احمد فراز اور کئی نا مور اہل قلم ملک سے با ہر تھے احمد ندیم قاسمی نے کلیدی خطبہ پڑھا اپنے خطبے میں انہوں نے جنرل ضیاء کو مخا طب کر کے کہا کہ ملک میں ادب تخلیق ہو رہا ہے لیکن ادبی پرچے دم توڑ رہے ہیں کتابوں کی صنعت آخری سانسیں لے رہی ہے پھر انہوں نے واقعہ سناتے ہوئے کہا ایک بین الاقوامی کانفرنس میں پڑوس ملک کے ادیبوں نے کہا کہ ہمارے ہاں کتا ب 2لاکھ کی تعداد میں شا ئع ہوتی ہے پھر اس کے جوایڈیشن آتے ہیں تووہ 50لا کھ کی تعداد کو چھو لیتی ہے اس کے بعد انہوں نے پا کستان میں کتابوں کی اشاعت کا حال پوچھا وطن کی عزت کا سوال تھا میں نے کہا ہمارے ہاں کتا ب 20ہزار کی تعداد میں چھپتی ہے یہ بات سنکر ان لوگوں نے با قاعدہ دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اگر میں سچ بولنے کے شوق میں یہ تعداد ایک ہزار بتاتا توان کی حرکت قلب بند ہوجاتی پھر انہوں نے کہا صورت حال یہ ہے ایک ہزار کی تعداد میں کتاب بھی مصنف اور شاعراپنی جیب سے خرچ کرکے چھپواتا ہے اُس کو شائع کرنے والا کوئی نا شرنہیں ملتا،اُس کی دوچار کاپیاں خریدنے والی لائبریری نہیں ہے، کانفرنس میں جسٹس جاوید اقبال نے شکایت کی کہ میرے والد گرامی کو مصور پا کستان، مفکر پاکستان اور شاعرمشرق کے خطابات دیئے گئے ہیں ان کی کتابوں پر مجھے پڑوسی ملکوں سے رائیلٹی آتی ہے اپنے ملک میں کوئی رائیلٹی نہیں ملتی کیونکہ یہاں انٹیکچول پراپرٹی رائٹ کے قانون پر کوئی عمل نہیں کرتا، گویا یہ قصہ کراچی لٹریری فیسٹیول سے بھی پہلے کا ہے بقول حفیظ جا لندھری ”نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں“ تلخ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 10برسوں میں وطن عزیز کے اندر جس صنعت کو سر اٹھانے کا موقع نہیں دیا گیا وہ کتابوں کی صنعت ہے ایک زما نہ تھا جب کرنافلی سے سستا کا غذ آتا تھا اب تو چارسدہ،مردان،لاہوراورملتان سے بھی سستا کاغذ مارکیٹ میں نہیں آتا، نیوز پرنٹ کو دی جا نے والی رعایت بھی ختم ہوچکی ہے دکھ کی با ت یہ ہے کہ ملک میں پرنٹ اینڈ پبلی کیشن کی صنعت اپنی کوئی لابی نہیں رکھتی، کوئی پبلشر کتاب چھاپتا نہیں کوئی لائبریری کتاب خریدتی نہیں یہ اس دور ستم کا المیہ ہے۔