پیر. اگست 8th, 2022


ایک گھر میں بڑے آفیسرز اور متمول شخصیات بیٹھے تھے۔میزبان بھی دولت کی رنگینیوں میں مست تھا زندگی نام کے ناٹک سے سادگی غاٗب تھی۔رنگ رلیوں نے سیدھی سادھی زندگی اجیرن بنا دی تھی۔۔سب لہک لہک کے باتیں کر رہے تھے۔موضوع کوئی ہوتا تو تبصروں اور دلائل کی بھر مار ہوتی۔میں ایک کونے میں خاموش بیٹھا ہوا تھا۔کوئی توجہ نہیں دے رہا تھا۔موضوعات ایک ایک کرکے زیر بحث آنے لگے۔آخر کو استاد زیر بحث آگیا۔۔خوب اس پر تبصرے ہوئے۔کسی نے کنجوس کہا، کسی نے جھاٹ۔کسی نے Non social کہا۔کسی نے گنوار۔۔کسی نے کہا اپنے مقام کا خیال نہیں رکھتا۔۔۔کسی نے کہا محفلوں کے آداب سے نا آشنا۔کسی نے کہا وقت کے تقاضوں سے نابلد۔۔ناچیز کو اپنا آپ بہت چھوٹا نظر آیا۔لیکن مطمئن تھا۔۔کہنے والوں کے پاس علم بہت کم تھا معلومات نہ ہونے کے برابر تھے۔ درمیان میں کسی نے چھیڑا۔۔۔بھائی کیوں خاموش بیٹھے ہوئے ہو۔کوئی بات کرو۔۔۔میں نے مسکرا کر غالب کو یاد کیا
بات پر واں زبان کٹتی ہے
وہ کہے اور سنا کرے کوئی
شعر کسی کے پالے نہ پڑا۔۔پولیس آفیسر نے کہا۔۔۔شعراء سارے پاگل ہوتے ہیں۔ٹھیکہ دار نے کہا۔۔ان کے پاس فضول وقت ہوتا ہے۔ہم جیسے مصروف نہیں۔۔مجھے ہنسی آئی کہ ہمہ وقت بدعنوانی کے طوفان میں ڈھواڈول بندہ نادان اپنے آپ کو مصروف کہتا ہے۔۔آخ تف۔۔۔تیری مصروفیت پر۔۔وکیل نے کہا معاشرے میں استاد عجیب مخلوق ہے نہ ڈھنگ کے کپڑے نہ کسی مہذب محفل میں موجودگی نہ کسی شخصیت کے ساتھ نشست و برخواست۔۔۔آخر یہ کیسی مخلوق ہے۔۔استاد سے اس کی اس کم مائیگی کی وجہ پوچھی گئی تو استاد نے کہا۔۔استاد تمہیں کچھ نہیں سمجھا سکتا۔۔جس کو استاد تہذیب کہتا ہے وہ تمہارے نزدیک جھاٹ پن گنوار پن ہے۔استاد جس کو کردار کہتا ہے وہ تمہارے نزدیک جہالت اور نا سمجھی ہے۔استاد جس کو بڑا پن کہتا ہے وہ تمہارے نزدیک چھچھورا پن ہے۔لہذامیرا اور آپ کا نہیں بنے گا۔تم میں ایک خبط ہے۔انا کا مرض تمہیں لاحق ہے اس معاشرے میں اس کا علاج نہیں ہوسکتا۔اگر کوئی مخلوق اپنی فطرت کے خلاف جائے تو برباد ہو جائے گا۔۔اگر بکری کہے کہ میں شیر کا شکارکروں گی تو جان سے جائے گی۔اگر انسان پتھر سے سر ٹکراؤں تو سر پھوڑ دے گا ہر مخلوق کا اپنا نیچر ہے۔انسان کی فطرت سادگی ہے۔یہ بے حیثیت مخلوق اگر ”خدا“ بننے کی کوشش کرے تو اپنے انسان بننے کی صلاحیت کھو دے گا۔تم سب لوگ اس پیرامٹر سے نکل گئے ہو۔۔اپنے آپ کو انسان کہنے سے رہے ہو۔تمہیں لگتا ہے یہ دھن دولت ہی سب کچھ ہے دھن آتی جاتی چیز ہے کردار دائمی ہے تم ”کمپلیکس“ کا شکار ہو اپنے آپ کو انسانوں اور انسانیت سے پرے سمجھتے ہو لہذا قابل رحم ہو۔تم میں ”انسان“ بننے کی جرات نہیں تم میں حوصلہ نہیں کہ بازار سے اپنا سودا صلف خود اٹھا کے لاؤ۔تم میں حوصلہ نہیں کہ ایک غریب راہ چلتے سے گرم جوشی سے ہاتھ ملاؤ۔تم میں ظرف نہیں کہ مجھ جیسا کوئی تمہاری محفل میں ہو تو اس کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ تم میں سادا لباس پہننے کی جرات نہیں تم میں کسی بے بس کی دھائی پر کان دھرنے کا حوصلہ نہیں۔تمہیں یہ ڈر ہے کہ تم جیسے احساس کمتری یا برتری کا شکار لوگ تمہیں برا کہیں گے۔تمہیں یہ احساس نہیں کہ اللہ کے نزدیک تمہارا معیار کیا ہے۔مقہور و محروم انسان تمہارے بارے میں کیا سوچتا ہے اگرتم میں ظرف ہوتا تو تمہاری دولت کی نمودو نمائش نہ ہوتی۔۔تمہاری افسر شاہی رغونت کا شاہکار نہ ہوتی۔ظرف حلم بردباری کردار اور اخلاق کا نام ہے اگر ایسا ہے تو تمہارے پاس کوئی ظرف نہیں۔کیونکہ تم ان اوصاف سے عاری ہو۔خلیفہ رسول ؓ کپڑے کی تھان کندھے پہ ڈالے بازار میں بھیجنے پہ نکلے ان کو احساس نہیں کہ لوگ کیا کہیں گے یہ ان کا بڑا پن ہے۔اگر آپ بڑے آفیسر ہو کر پیدل چلیں گے غریب پرور ہوں گے۔۔آذان ہوتے ہی مسجد میں پہلی صف میں پہنچیں گے تو آپ کا ظرف بڑے گا۔۔آپ انسانوں میں تنہا نہ ہوں گے۔لیکن آپ کے پاس ظرف نہیں۔آپ اسلام کے پیروکار ہوتے ہوئے مغرب کی مثال دیں گے کہ فلان ملک کا وزیر اعظم سائیکل پہ دفتر جاتا ہے فلاں ملک میں دفتروں میں چپڑاسی نہیں آفیسر خود کام کرتا ہے۔یہ تو تمہارا کلچر ہے۔اغیار نے تم سے سیکھا ہے۔تم دلائل مت دوبحث نہ کرو الفاظ کے گورکھ دھندے زندہ قوموں کو زیب نہیں دیتیں میری باتیں تمہیں پسند نہیں آئیں گی۔۔۔ظرف ظرف کی بات ہے۔۔۔مائنڈ نہ کرو۔۔اپنی موشگافیاں دلائل اور تبصرے جاری رکھو۔۔۔مجھے خاموش رہنے دو۔۔۔