جمعہ. مئی 20th, 2022

ملک خداداد میں آج کل عین جمہوری حکومت ہے۔آج اگرامریکہ کے صدر ابراہیم لنکن زندہ ہوتا تو اٹھلا اٹھلا کے اس جمہوری حکومت کی مثالیں دیتا کیونکہ انہوں نے اپنے 1863 کے خطاب میں کہا تھاDemocracy…government of the people,for the people and by the people..آج کل ملک خداداد کی ہر جمہوری پارٹی حکومت کا حصہ ہے۔مرکز میں پی ڈی ایم جس میں جماعت اسلامی کے علاوہ سب بڑی پارٹیاں شامل ہیں کی حکومت ہے پنجاب میں ن لیگ صوبہ خیبر پختونخواہ جی بی کشمیر میں پی ٹی آئی سندھ میں پی پی پی اور بلوچستان میں بھی حکومت ہے۔عوام خوش ہیں کہ سب کی نمائندگی ہے۔ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہوئے بھی احتیاط کرنا پڑتا ہے کہ ایک جگہ ایک کچھ برا کر رہا ہے تو دوسری جگہ دوسرا کررہا ہے حساب برابر ہے ایک نے قرضہ لیا تو دوسرا بھی لے رہا ہے ایک شورشرابا کر رہا تھا تو دوسرابھی کر رہا ہے دونوں کے ہاں دیر بھی ہے اندھیر بھی۔۔دودھ کا دھلا کوئی نہیں۔ عوام کو جواب دہ دونوں نہیں اس لئے کہ سب کے پیارے اس دھندے میں شامل ہیں۔اگر اسلام کی بات کرنا ہے تو موقع ہے اگر سود کے خلاف لڑنا ہے تو موقع ہے فحاشی عریانی کو ناپسند کرنے والوں کو اب کس بات کی دیر ہے۔مہنگائی کا طوفان روکنے کے لئے یہ کارخانے دار اپنے کارخانوں کے منہ کیوں نہیں کھولتے۔ملک کی جی ڈی پی بڑھانے کے لئے سرمایہ کیوں نہیں لگاتے۔کرپشن کا رونا رویا جاتا تھا اس کی روک تھام کے لئے اقدام کیوں نہیں اٹھایا جاتا۔ملک دیوالیہ ہو رہا ہے ریونیو سورسس ہیں ان کو کیوں نہیں بڑھاتے۔یہ معاشی ماہرین کی آرائیہ تبصیرے تجزیے یہ مہارتیں یہ کس کام کے۔یہ ممبروں نمائندوں وزیروں امیروں کی شاہ خرچیاں کم کیوں نہیں کرائی جاتیں۔یہ جمہوریت ہے لوگوں کی لوگوں کے لئے لوگوں کے ذریعے حکومت ہے۔حکمران عوامی ہیں عوام کا دکھ درد سمجھتے ہیں۔انصاف کا تقاضا ہے کہ کچھ کر دیکھائیں اگر ایسا کچھ نہ ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ ہم سب نااہل ہیں کسی بھی جماعت کے پاس حکومت کرنے کی اہلیت نہیں جو بھی اقتدار میں آئے گا نظام نہیں بدلے گا۔عوام پستے رہیں گے۔سیاست اور حمایت بھی نیگیٹیو ہو رہی ہے ضد اور ہٹ دھرمی کی فضا ہے شخصیت پرستی عروج پر ہے۔پوری دنیا کے سامنے قوم کی سبکی ہو رہی ہے۔کہیں ہماری آزادی پر حرف نہ آئی۔کہ ہم حکمرانی کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ملک کی تاریخ میں کبھی یوں حالات پیدا نہیں ہوئے تھے۔سنیٹر کوئی اور وزیر اعظم کوئی اور صدر کوئی اور۔۔ایک گھر میں آئن باین شاین۔۔ڈھیڑ اینٹ کی مسجد۔۔ایک عظیم اسلامی ملک ایک اٹیمی طاقت۔۔اسلام کی نگاہیں اس پر۔۔دشمن کی آنکھوں میں کھٹکنے کی صلاحیت رکھنے والا ملک۔ایک بہادر لڑاکو فوج۔ہھتیاروں سے لیس۔سرحدیں محفوظ۔۔بس سنہری پایوں والی کرسی پہ جھگڑا۔۔۔بے چینی۔۔جنت نظیر ملک میں آگ خون اور جنون کا کھیل۔یا اللہ یہ ہم کس دور میں زندہ ہیں۔اقبال نے کہا۔۔۔
گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کارے شو
کہ از مغز دو صد خر فکر انسانی نمی أید۔۔
اگر جمہوریت کچھ یوں ہے تو ہم گریز کرتے ہیں۔ابراہیم لنکن کو اس کی تھیوری مبارک ہو۔