بدھ. ستمبر 28th, 2022


چترال کے مشہور بزرگ شاعر بابا سیار نے کہا۔۔
مستانا ام سیار چو کشادم لب از عدم
مادر بجاشیر بکامم شراب ریخت
ترجمہ: اے سیار دنیامیں آنکھیں کھولا تو مست مست تھا میری ماں نے میرے خلق میں دودھ کی جگہ شراب دے ڈالی تھی۔۔
ماں کی گود پہلی تربیت گاہ، باپ کا کاندھا پہلا سکول۔۔پھر باقاعدہ سکول۔۔آگے معاشرہ، گلی کوچے ہمسائیہ، رشتہ دار،دوست احباب سب تربیت کی آماجگاہ ہوتے ہیں انسان ان سے سیکھتا ہے۔بات کرنا محبت نفرت کرنا،عزت احترام کرنا خدمت کرنا۔۔۔۔اس لئے انسان کو ” معاشرتی حیوان ”کہا گیا ہے۔۔سوال یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم تربیت سے عاری نظر آتے ہیں۔ہم محبت سے نفرت کرتے ہیں اور نفرت کرکے خوش ہوتے ہیں ہم گالی دیتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں کسی کی تعریف ہم سے نہیں ہوسکتی۔ہم کسی کی حمایت میں اندھے ہو جاتے ہیں کسی کی مخالفت میں بھی اندھے بہرے ہوجاتے ہیں۔ہم حقیقت ماننے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوتے۔ہماری تربیت کہاں سے ہوئی کیسے ہوئی۔ماں نے کیوں نہیں بتایا کہ بیٹا کسی کو گالی مت دیا کرو۔باپ نے کیوں نہیں بتایا کہ کسی کی چیز چوری نہ کرو۔استاد نے کیوں نہیں بتایا کہ ملک و قوم سے وفاداری کرو۔انہوں نے اپنی کلاس میں آخر کیا پڑھایا۔Natural Scienceپڑھایا لیکن ہم ایک پنسل خود نہیں بنا سکتے۔Social Scienceپڑھایا لیکن ہم شہری حقوق،ملکی مفادات،قومی فلاح،انسانی رشتے سب سے نابلد ٹھرے۔ادب پڑھایا لیکن ہم حیوانی خصلتوں سے باہر نہ نکل سکے۔۔آخر ہماری یہ تربیت گاہیں۔۔۔یہ کیا ہیں۔۔یہ ماں کی گود۔۔یہ تو اجڑی گود ہے کہ اس کا بیٹا گالیاں دے رہا ہے اس کا بیٹا کرپشن کر رہا اس کے بیٹے نے قوم کا کباڑا نکالا ہے،کہ اس کا بیٹا ذاتی مفادات کی خاطر قوم کو داؤ پہ لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔کہ اس کا بیٹا کرسی کی خاطر دشمن سے dictation لے رہا ہے،کہ اس کا بیٹا نظام سسٹم قانون آئین سے بالاتر ہوکر شخصیت پرستی میں دیوانہ ہو رہا ہے۔یہ کیسی ماں ہے یہ تو دعائیں بھی نہیں دیتی۔یہ کیسا باپ کیسا استاد اور کیسے ادارے ہیں۔یہ کیسی ڈگریاں ہیں۔ان ڈگری والوں سے ان پڑھ لوگ تربیت یافتہ ہیں اس کے نزدیک انسانیت کی قدر ہے۔ہمارے دفتروں میں بیٹھے آفیسرز ہماری عدالتوں کے ججز ہماری پارلیمنٹ میں موجود لیڈرز ہمارے سیاسی کارکن ہمارے نوجوان یہ تو سب تربیت سے عاری ہیں۔ہماری تقریریں ہمارے نعرے ہمارے منشور ہمارے سیاسی ضابطے سب بے ترتیب ہیں۔ہمارے اقتدار کی جنگ ہماری کرسی کی کھینچاتانی ہماری جد و جہد انسانوں جیسی نہیں ہیں۔ہماری منزل کیا ہے۔ہم چاہتے کیا ہیں۔ہم کرتے کیا ہیں۔کیا دنیا کی کوئی دوسری قوم ہم جیسی بے ترتیب ہے۔ اب یہ بے ترتیب سیاسی منظر نامہ ہماری جڑوں تک ہلا دیا ہے۔آپس میں نفرتیں عداوتیں اور ضد انتہا کو پہنچ گئی ہے۔آفیسرز دفتروں میں لڑ رہے ہیں دکاندار بازاروں میں لڑ رہے ہیں۔اساتذہ سکولوں میں دست و گریبان ہیں۔بحث مباحثے ہیں گالم گلوچ ہیں۔قوم و ملک کو کوئی نہیں سوچتا۔بھٹو سینئرنے ایٹم بم بنانے کی ابتداکی اگر ایسا کہا جائے تو دوسری پارٹی والا سر توڑنے کو تیار ہوگا۔نواز شریف نے موٹر ویز کی ابتدا کی اگر ایسا کہا جائے تو مخالف تمہارا گریبان پکڑے گا کویڈ 19 ٹنشن میں خان کی پالیسی کامیاب رہی اور اقوام متحدہ میں تقریر یادگار تھی اگر ایسا کہا جائے تو ادھر سے گالیاں سننی پڑیں گی۔صوبے میں اے این پی کی حکومت آئی تو چترال میں یادگار کام کیے یوں کہوگے تو مار پڑے گی۔یہ عدم برداشت اور حقائق چھپانے کی فضا ہمیں لے ڈوبے گی۔کوئی نہیں سوچتا کہ یہ ملک ہمارا ہے اس کے لئے جس نے اچھا کام کیا وہ بھی ہمارا ہے اور جس نے کچھ برا کیا وہ بھی ہمارا ہے۔یہ کوئی نہیں سوچتا۔نفرت کی سوچ پیدا کی گئی ہے عداوت کی تربیت دی گئی ہے۔اگر خدا نخواستہ مورچوں میں بیٹھے جوان ایک دوسرے سے اس گندی سیاست کی وجہ سے نفرت کریں۔کلاس روم میں بیٹھے بچے اپنے سیاسی باپ کی باتیں سن سن کر ایک دوسرے سے نفرت کریں گھروں میں بیٹھی بیٹیاں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوں تو یہ قوم بکھر جائے گی۔اس قوم کی مان ٹوٹ جائیگی غیرت جواب دے گی۔اتحاد پارہ پارہ ہو جائے گا۔
اللہ کے لئے اس قوم پر رحم کرو۔۔تمہارا ہوس اقتدار کرسی کی لالچ اور دو دن کی زندگی میں عارضی شان وشوکت ہمیں پارہ پارہ نہ کرے۔ہم انسانی اقدار سے محروم ہوتے جا رہے ہیں اگر کوئی شہری اپنے وزیر اعظم کو گالی دے تو اس کو اس ملک میں رہنے کا کیا حق ہے۔۔ہم انگشت بدندان ہیں کہ ہماری یہ کیسی تربیت ہوئی ہے اور ہورہی ہے۔۔