جمعہ. مئی 20th, 2022

ستم ظریفی یہ نہیں کہ ہمیں ہر ستم قبول ہے ستم یہ ہے کہ صدیوں سے ہم ستم گروں کو مسیحا سمجھتے آئے ہیں۔ان کا ستم مستقل ہوتا ہے۔ بوقت ضرورت وہ اپنی طرف سے روا رکھے گئے ستم کے لئے موجود تریاق کا عوام کو صرف دیدار کروا دیتے ہیں۔ عوام تریاق کے دیدار کی مستی میں پھر سے اس خوب صورت جال کو اپنے پہ ڈھائے جانے والے ہر ستم کا واحد علاج سمجھ کر ووٹ دینے پر رضامند ہوتی ہے اور یوں ہر ستم کے ساتھ کچھ مستقل نعرے وجود میں آتے ہیں۔ ان نعروں اور تشہری مہم میں استعمال کئے جانے والے کچھ اشعار کی تشریح کا ایک اور زاویہ پیش خدمت ہے۔ یہ سلسلہ کافی عرصہ جاری رکھنے کا ارادہ ہے آپ لوگوں کی دعاوؤں سے۔ لیجئے شروع کرتے ہیں۔
اے عرش والے میری توقیر سلامت رکھنا
فرش کے سارے خداؤں سے الجھ بیٹھا ہوں میں
اس شعر کا پس منظر کچھ بھی رہاہوں،ہمیں انتخابی امیدوار کے پس منظر و پیش منظر کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی تشریح کرنی چاہئے اور وہ تجزیہ و تشریح انتہائی تکلیف دہ بھی ہوسکتی ہے۔ ہماری تشریح کے حساب سے اس شعر کے ذریعے الیکشن لڑنے والا شخص اپنی فطرت کے بارے میں عام عوام کو اشاریوں کنایوں میں بتا رہا ہے کہ وہ کسی سے بھی بنا کر رکھنے والا شخص نہیں۔ فضول میں لڑنا، اپنے لئے دشمن اور مسائل پیدا کرنا ان کی فطرت کا حصہ ہے۔ مذکورہ شخص بتا رہا ہے کہ اسے دنیا میں اپنے سوا کوئی دوسرا شخص نیک، دیانت دار اور انسان نہیں لگتا۔ یہ انسانوں کو دو حصوں میں تقسیم کرچکا ہے۔ پہلے خانے میں معاشرے کے وہ افراد ہیں جو کسی صورت مذکورہ شخص کو گھاس ڈالنے پر تیار نہیں۔ وہ ان کی نظر میں فرش کے خدا ہیں۔ دوسرے خانے میں عام عوام ہیں جنہیں یہ کیڑے مکوڑے سمجھتا ہے۔ چونکہ یہ شخص خود بیچ میں کھڑاہے اس لئے اسے اپنی منزل کا ہی نہیں پتہ۔ دوسروں کو منزل تک کیسے پہنچائے گا۔ قرائن بتاتے ہیں کہ خدا اس کی دسترس سے باہر ہے ورنہ یہ باکمال شخص اس سے بھی الجھنے میں دیر نہیں کرتا۔
اے میرے دیس کے لوگو شکایت کیوں نہیں کرتے
تم اتنے ظلم سہہ کر بھی بغاوت کیوں نہیں کرتے
یہ شعر عموما وہ امیدوار استعمال کرتے ہیں جو انتخابات کے موسم کے علاوہ ہر موسم میں بے بسی کی تصویر بنے پھرتے ہیں۔یہاں تک کہ ان کے گھر والوں کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ موصوف کو بھوکوں مار بھی دو تو بغاوت دور کی بات اس کے اشارے اور اثرات تک کہیں نظر نہیں آئیں گے۔ اگر کوئی امیدوار یہ شعر اپنا اصولی موقف بتائے تو سمجھ لینا کہ نہ تو ان کے پاس کوئی اصول ہے اور نہ ہی موقف۔ورنہ ایک ویلیج کونسل کا الیکشن لڑنے والا شخص جس کی اس کے گھر والے تک سننے کو تیار نہیں وہ کم از کم دیس میں کسی انقلاب کا موجب تو نہیں بن سکتا۔عوام سے بھی گزارش ہے کہ اگر ان کا ساتھ دینا بھی چاہیں تو انقلاب جتنا اندرخانہ ہو وہ اس بے چارے کے حق میں بہتر ہے، وہ اصل میں اپنے ذاتی حالت بتا رہا ہوتا ہے ان حالات کو قومی یا علاقائی سمجھنا غیر ضروری ہے۔ ن کی بے بسی کا افاقہ ووٹ کے بجائے صرف ہمدردی سے بھی ہوسکتا ہے۔
امن خوشحالی اور استحکام کی جدوجہد کا علم بردار
میرا ماضی، پھر میری گواہی
ان جملوں کی تشریح علم و دانش کے بجائے معروضی حالت کو مدنظر رکھ کر کریں گے تو آسانی ہوگی۔ جیسے ملک کو بنے 75 سال ہونے والے ہیں، امن، خوشحالی اور استحکام کہیں بھی موجود نہیں۔ اب جو چیز وجود ہی نہیں رکھتی اس کے لئے جدوجہد کرنے والے کو آپ ووٹ کیسے دے سکتے ہیں۔ امیدوار سے ”علم بردار“ اور ”علم و دانش“کے معنی اور تلفظ پوچھ کر دیکھیں تو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی کہ ہم نے کیسے کیسے نمونے اسمبلیوں تک پہنچائے ہیں، اور خود ان حالوں کو پہنچے ہیں۔ جدوجہد کے علم بردار کی اصلیت جاننے کے لئے دوسری والی لائن پر غور کرناکافی ہے۔ جو ہمارے لیڈرز کی شفاف ماضی، بہترین حال اور صرف انہی کے نسل کے شاندار مستقبل کی گواہی دے رہا ہوتا ہے۔
میں تمام بندشیں کھولنے آیا ہوں، انتخابی نشان تالا
جب انتخابی نعروں کے لئے گوگل بابا سے پوچھیں تو سب سے حیرت انگیز یہ ”بندشیں کھولنے اور انتخابی نشان تالا“والا جملہ برآمد ہوتاہے۔ایک ہی جملے میں سب کچھ کھول دینے کا دعوی۔ ساتھ میں عوام جیسے جن کو قید کرنے کے لئے تالا بھی موجود ہے۔لیڈر کو ایسا ہی ہونا چاہئے ایک ہاتھ میں پانی ایک ہاتھ میں آگ۔غالب نے انگریزوں کی ماچس والی ڈبیا کو دیکھ کر کیا خوب کہا تھا کہ جو قوم آگ جیب میں رکھ کر چل رہا ہو اس سے ڈرنا چاہئے۔ ہمیں بھی ایک ساتھ دو دو بیان دینے والے اپنے نمائندوں سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔ورنہ ہمارے لیڈرز بندشیں کھولنے کے بعد عوام کی زبانوں کو تالا لگا دیں تو ہم کسی کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔(جاری ہے)