27

ہماری تھکن گواہ ہے/تحریر: محمد جاوید حیات

ہم اس قوم کا حصہ ہیں کہ نہیں،ہم اس ملک کا باشندہ ہیں کہ نہیں؟یہ ہمارے لیے معمہ ہے اس لیے کہ ہماری زندگیاں کوئی قیمت نہیں رکھتیں۔ہم قحط فاقے سے مرتے ہیں۔خبر چلتی ہے ہا ہو ہوتا ہے مگر ہم برابر مر رہے ہوتے ہیں ہم عدم سہولیات کی وجہ سے زندگی کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں ہماری فریادیں ہوتی ہیں ہماری دھایاں ہوتی ہیں لیکن یہ سب صدا بہ صحرا ہوتی ہیں۔ہسپتال مانگتے ہیں ہمارے مریض ایڑیاں رگڑتے ہیں۔کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا راستے مانگتے ہیں لیکن وہی پگڈنڈیاں ہیں پینے کا پانی، روشنی کے لیے بجلی، چولہے جلانے کے لیے گیس پھر آگے روزگار پھر مزدوری۔۔۔ ہم کیا کیا نہیں مانگتے لیکن ہماری حالت وہی ابتر کو ابتر ہے۔ادھر پراپیگنڈے ہیں۔ٹی وی پہ اپوزیشن لیڈر آتا ہے کہتا ہے حکومت کو چلتا کرنا چاہیے۔اتنا غبن ہوا اتنی چوریاں ہوئیں،اتنی نا انصافیاں ہوئیں اتنی مہنگائیاں ہوئیں،لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں۔دوسرا اسی لمحے صحافیوں سے محو گفتگو ہوتا ہے۔یہ حکومت فلان ہے فلان ہے ملک دیوالیہ ہے خزانہ خالی ہے خطرناک حالات ہیں۔صاحب اقتدار فوراً قوم کے سامنے آتا ہے۔یہ مثالی حکومت ملک کی تاریخ میں پہلی بار آئی ہے۔یہ جو بات کرتے ہیں یہ بچے ہیں خیر ان کی عمریں بڑی ہیں لیکن عقل کے لحاظ سے بچے ہیں۔ملک میں کوئی منی لانڈرنگ نہیں۔۔عدالتوں میں انصاف ہے۔۔کرپشن کا خاتمہ ہوچکا ہے۔چوروں کو پکڑا گیا ہے۔ملک جمہوری ٹریک پر ہے۔ اب کون جھوٹا ہے کون سچا یہ فیصلہ بیس کروڑ بد قسمت عوام نہیں کر سکتے۔ ایسے لیڈر جن کو سچ کی توفیق نہیں ہوتی یہ کم بختوں کے ہی راہنما ہو تے ہیں۔جب ان کا چہرہ روشن نہیں تو قوم کا چہرہ کیا روشن ہو جب ان کی نیتوں میں فتور ہو تو قوم کیا خاک کامیابی اورترقی کی راہ پہ ہو گی۔اس اندھیر نگری میں ہماری تھکن گواہ ہے کہ ہم بے سکون ہیں۔ہماری جیبیں خالی ہیں۔ہماری امیدیں مٹ چکی ہیں۔مایوسیوں نے ہمارے ارد گرد گیرا تنگ کیے ہیں۔ورنہ تو ایک راج مزدور صبح ترو تازہ گھر سے مزدوری کے لیے نکلتا اور شام کو واپسی پر اس کا چہرہ کھلتا ہوا آتا کیونکہ اس نے کمائی کی ہے۔ایک بندہ عدالت اس امید پہ جاتا کہ اس کو انصاف ملے گا وہ اس خوف میں مبتلا نہ ہوتا کہ پتہ نہیں اس کے ساتھ کیا ہو گا۔ایک ذمہ دار نوکر اپنے آفس اس مان کو لیے جاتا کہ وہ اس قوم کی سچی خدمت کرے گا اپنے فرایض کما حقہ ادا کرکے شام کو لوٹے گا۔ایک ماں اپنے بچوں کو اس آرزو میں سکول کے لیے تیار کرکے رخصت کرے گی کہ ان کے بچے تعلیم و تربیت کے لیے سکول جا رہے ہیں۔لیکن یہاں پہ الٹی گنگا بہتی ہے۔سب خوف زادہ ہیں سب مایوس ہیں۔ جس سے پوچھو مایوسی کی باتیں کرے گا مجبوریاں گنوایے گا۔مسائل کی لمبی فہرست بتا دے گا۔وہ سب سے مایوس دکھائی دے گا۔اس کو کسی پارٹی کسی سسٹم کسی حکومت سے بھلائی کی کوئی امید نہ ہوگی۔وہ تھکا تھکا دیکھائی دے گا۔ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہان عدالت متنازعہ، جج بے اعتبار،استاد بے صلاحیت انتظامیہ مصلحت پسند اقربا پرور۔تو بے سکونی لازم ہوگی اور کیا ہوگی۔لوگ تھکے ماندھے اور پژمردہ و افسردہ دیکھائی دیں گے۔ ہم طاقت طاقت کا پہاڑہ پڑھتے رہتے ہیں۔۔جمہوریت کی طاقت۔۔۔ووٹ کی طاقت۔۔عوام کی طاقت۔۔لیکن یہ ساری طاقتیں ایک غیرت مند قوم کے لیے کارگر ہوتے ہیں۔ان کے حس ہوتی ہے قوت فیصلہ ہوتا ہے ذوق انتخاب اور تدبر و ادراک ہوتا ہے کہ انتخاب کیا بلا ہے ورنہ تو یہ سب بے کار کی باتیں۔۔۔۔افسانے۔۔۔