97

چترال کے ہسپتالوں کی حالت زار/تحریر: بشیر حسین آزاد

وبائی مرض کورونا کی دوسری لہر نے چترال کے دونوں اضلاع میں ہسپتالوں کوبے نقاب کردیا ہے پہلی بار معلوم ہوا ہے کہ110ڈاکٹروں میں سے 64ڈاکٹر گھر بیٹھ کر تنخواہ لے رہے ہیں ان میں سے بعض خلیجی ممالک میں ڈیوٹی دے رہے ہیں وبا ء کی دوسری لہر نے یہ راز بھی فاش کردیا کہ92نرسوں میں 30نرس ڈیوٹی دے رہی ہیں بعض نے اپنی جگہ پراکسی لگائی ہے80ہزار تنخواہ ملتی ہے 20ہزار پراکسی کو دی جاتی ہے سرکاری ملازم دوسر ی جگہ نفع بخش کام کررہی ہے کورونا کی دوسری لہر نے یہ راز بھی فاش کردیا کہ چار چھوٹے ہسپتالوں میں کروڑوں روپے لاگت کے ایکسرے پلانٹ خراب حالت میں پڑے ہیں۔ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں کچرا جلانے کی مشین انسی نیٹر ایک این جی او کی طرف سے تحفہ میں ملی تھی10سالوں سے استعمال کے بغیر پڑی ہے کورونا کے آئیسولیشن وارڈ میں غسل خانے خراب ہیں 24گھنٹوں میں بمشکل 3گھنٹے پانی آتا ہے ہسپتال کے62نلکوں میں سے38نلکے خراب ہیں ان میں پانی نہیں آتا۔ڈی ایچ کیو ہسپتال میں کوروناکے مریضوں کو دوائی دیتے وقت یہ بھی انکشاف ہوا کہ سٹور میں زیادہ دوائیں ایکسپائر ہوچکی ہیں یہ معلوم ہوا کہ ہرسال دوٹرکوں میں بھرکر ایکسپائر دوائیں دریا میں ڈالی جاتی ہیں۔کورونا آئسولیشن وارڈ میں چیڑ اور دیودار کی لکڑی جلانے کی وجہ سے سارا دن دھواں بھرا رہتا ہے7دونوں کی جستجو اور تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ شاہ بلوط(بنج) کی لکڑی ہسپتال کا عملہ تقسیم کرکے گھر لے جاتا ہے مزید کریدنے اور کھوج لگانے پر معلوم ہوا کہ نومبرسے مارچ تک5مہینوں کے لئے 30لاکھ روپے کی لکڑی خریدی جاتی ہے جس میں سے5لاکھ روپے کی لکڑی جلائی جاتی ہے اگر کوئی اخبار نویس یا وکیل 7دن ہسپتال میں گزارے تو مزید کئی اہم راز اُس کے ہاتھ لگ جائینگے۔آخر وجہ کیا ہے؟چترال کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بنیادی سہلوتوں سے کیوں محروم ہے؟مریضوں کے لئے کیوں عقوبت خانہ بنا ہوا ہے؟
صوبائی وزیر صحت تیمورسلیم جھگڑا بہت فعال سیاستدان ہیں ان کے علم میں یہ بات لانا ضروری ہے کہ چترال کے دوضلعوں میں کوئی بھی ہسپتال اس وقت مریضوں کے علاج کے قابل نہیں ہے۔دروش کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں گذشتہ3سالوں سے لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے۔ایون،بمبوریت،بونی اور مستوج کے ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔گرم چشمہ،شاگرام اور مستوج کے ہسپتالوں کو2006کے بعد آغا خان ہیلتھ سروس نے پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے تحت فعال شفاخانہ بنایا تھا وہ معاہدہ اس سال منسوخ ہواسرکار کے پاس ان ہسپتالوں کو دوبارہ فعال بنانے کا کوئی ذریعہ نہیں۔اگر کوئی مجاز افیسر چترال کا دورہ کرے تو اس کی خدمت میں چند اہم گذارشات پیش کی جائینگی جس کا تعلق چترال کے ہسپتالوں کو فعال بنانے سے ہے۔
پہلی سفارش یہ ہے کہ دوائیں خریدنے کاکام صوبائی ایم ایس ڈی سے لیکر ضلع کی سطح پر ڈٰ ایچ او کے ساتھ ایم ایس کو دیا جائے تاکہ ضرورت کے مطابق دوائیں خریدی جائیں اور ایکسپائیری کاخیال کرکے خریدی جائیں۔
دوسری سفارش یہ ہے کہ چترال کے ہسپتالوں میں جو نرس ڈسپنسر اور ٹیکنیشن 20سالوں سے ایک ہی جگہ پر ہیں ان کو تبدیل کرکے تازہ دم عملہ لایا جائے نیز غیر حاضر اور پراکسی والا سارا عملہ ڈاکٹروں سمیت ملازمت سے برطرف کیا جائے تاکہ جزا اور سزا کا عمل سب کو نظر آئے۔
تیسری سفارش یہ ہے پانی اور بجلی کے نظام میں خرابیوں کو فوراً دور کیا جائے۔معلوم ہوا ہے کہ الیکٹریکل میکینک کے پوسٹ پر جو شخص لگاہوا ہے وہ22سالوں سے دوبئی میں مقیم ہے اس کو معطل کرکے پوسٹ خالی کی جائے۔
چوتھی سفارش یہ ہے کہ وارڈوں اور دفتروں میں لکڑی جلانے کی جگہ گیس یا بجلی کے ہیٹر استعمال کئے جائیں۔اگر وزیر صحت نے ان اُمور پر توجہ نہیں دی تو وکلاء برادری صارف عدالت سے رجوع کرے گی۔