138

قوم اور ہجوم/تحریر:محمد جاوید حیات

جب ہم کالج میں تھے تو ایک دن ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب ہمیں شہریت پڑھانے آئے۔ہماری شہریت کا اُستاد کہیں گیا ہوا تھا فیضی صاحب نے ایک لکچر دیا صرف ایک، پھر ہماری کلاس میں نہیں آئے۔اس لکچر میں انھوں نے”قوم“ کی تشریح کی۔۔تاریخی حوالوں سے ایک زندہ قوم کا تعارف پیش کیا۔۔کہا کہ بچو ہم فی الحال”ہجوم“ ہیں قوم نہیں بنے ہیں،قوم بننے میں بہت دیر لگتی ہے اوربہت قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔وہ جملہ اب تک یاد ہے۔۔۔واقعی میں ہم ہجوم تھے ہجوم ہیں۔ ہم ریاستی دورمیں ہجوم تھے۔۔پاکستان بنا تب بھی ہم ہجوم تھے۔۔۔پہلی بار بھٹو چترال آئے تب ہم ہجوم تھے انھوں نے ہمیں جگانے کی کوشش کی۔۔ہمارے بڑے کہتے ہیں انھوں نے کہا تھا کہ میں لواری میں ٹنل بناؤنگا۔۔ماچس کا کارخانہ لگاؤنگا۔ بیدارہو جاؤ۔۔۔لیکن ہم ہجوم ہی رہے۔۔۔مارشل لاء آیا ہمارے فنڈ زہڑپ کر لیے گئے۔۔ٹنل بند ہوا۔۔ہم وہی ہجوم تھے۔۔پھر پے در پے جمہورتیں آئیں ہم ہجوم ہی رہے۔۔ہمارے جمہوری حکمرانوں کو چترال کی جغرافیائی اہمیت اورافغان وار میں چترال کی اہمیت کا پتہ چلا تھا۔۔۔کوئی توجہ نہیں دی۔۔ہماری سڑکیں پگڈنڈیاں ہی رہیں۔ہمیں ترقیاتی کاموں کے نام پہ لولی پاپ ہی دکھایا گیا۔۔جشن شندورپرہرسال روڈ بنانے کے وعدے وعید ہی رہے۔۔اس پر کبھی سنجیدہ غور نہیں کیا گیا اگر ہم ہجوم نہ ہوتے تو یہ راستہ کب کابن چکا ہوتا۔۔۔ہمارے چترال میں پن بجلی گھر بنانے کے بہت زیادہ مواقع ہیں۔۔ملک میں بجلی کا بحران ہے اگر ہم قوم ہوتے تو کئی پاور ہاوس بن چکے ہوتے۔۔ہم ہجوم ہیں چترال بونی روڈ کی حالت سب کے سامنے ہیں۔۔ہم ہجوم ہیں ہمارے لیے معیاری ہسپتال کہیں نہیں۔۔ہم ہجوم ہیں ہمارے لیے یونیورسٹی کوئی نہیں۔۔کرائے کی عمارت میں چند کلاسیں چلتی ہیں۔۔ہم ہجوم ہیں۔ سردیوں میں چترال کے دوردرازعلاقوں لوٹکوہ یارخون بروغل موڑکھو کے بلائی علاقوں تحصیل تورکھو کے تنگ راستے برف سے ڈھکے رہتے ہیں اور جان لیوا ہوتے ہیں۔ہم ہجوم ہیں ہمارے منتخب نمایندوں کو نہ کوئی سنتا ہے نہ ان کا کوئی بس چلتا ہے۔۔ہجوم نہ اپنا تعارف کرا سکتا ہے نہ اپنی بات منوا سکتا ہے۔۔ہجوم کی کوئی منزل نہیں ہوتی نہ اس کی اپنی آواز ہوتی ہے اس کی بے ترتیب چیخیں ہوتی ہیں وہ کبھی”پکار“ ہی نہیں بنتیں ”للکار“ بننا تو دور کی بات ہے۔۔ہم ہجوم ہیں ہم قدرتی آفات میں قدرت کے رحم و کرم پہ ہوتے ہیں۔ہم ہجوم ہیں احتجاج کر نہیں سکتے۔ہم سٹیچ پہ ایک دوسرے سے لڑیں گے۔ہماری آپس میں عجیب مخالفت ہوگی۔۔ہم ایک دوسرے کے ہاتھ نہیں تھما سکیں گے۔۔۔ہم ایک دوسرے کی گردن مروڑینگے۔ہم مطالبے کے نام پہ صحرا میں صدا دیں گے ہم میں خود کچھ کرنے کی ہمت نہیں ہو گی۔۔موبائل کمپنیوں کو گالیاں بکیں گے ان کے بڑوں سے کوئی پوچھ نہ سکے گا کہ تمہاری سروس ناقص کیوں۔۔ہم ٹیکسی کرایوں کا نہیں پوچھ سکیں گے۔ہم منشیات فروشوں کا تماشا دیکھیں گے ہمارے سامنے معاشرہ تباہ ہو جائے گا ہم پولیس سے گزارش نہیں کر سکیں گے کہ روک تھام کی کوشش ہو جائے۔۔ہمارے شہر میں رکشہ سروس نہیں چلے گا۔بجلی کی آنکھ مچولی ہوگی۔۔پانی کی لائینیں خشک رہیں گی۔۔۔ہم ہجوم ہیں ہمیں قوم بننے میں دیر لگے گی۔۔کوئی انقلاب چاہیں۔۔۔۔کوئی موزتنگ گو شویرا۔لوتھر۔۔۔ہم نے صحراے عرب سے اُٹھ کر دنیا پہ حکومت کی تھی وہ تو قوم کا ماضی ہے۔۔۔ہم ہجوم ہیں۔ ہمارا کوئی ماضی نہیں۔ہمیں پھر سے قاید اعظم مل جائے کہ ہجوم کو قوم بنائے۔۔۔یہ ہمارا خواب۔۔ہم جب تک قوم بننے کا انتظار کرتے رہیں گے ہجوم ہی رہیں گے۔۔۔
جس میں نہ انقلاب خاک ہے وہ زندگی
روح امم کی حیات کشمکش انقلاب