120

اپر چترال اب تک انٹرنیٹ سروس سے محروم/انعام اللہ

انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ترقی کی وجہ سے دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ انٹرنیٹ جدید دنیا میں جھانکنے کے لئے ایک دروازہ ہے۔ جدید تعلیم تک رسائی ہر فرد کی ضرورت بن گئی ہے لیکن بدقسمتی سے اپر چترال ابھی بھی گلوبل ولیج سے منقطع ہے۔ اپر چترال کے تمام علاقوں میں مکمل طور پر انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے۔ جدید دنیا میں ہر شخص کے لئے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ اپنے دروازے سے عالمی معیار کی تعلیم تک پہنچ سکے۔ ہر عام شخص اپنے بستر پر لیٹ کر کسی بھی قسم کی معلومات تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ عالمی مواصلات گھر سے نکلنے کے بغیر ہی ممکن ہوا ہے۔ ہر شخص جس کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے صرف اپنی انگلیاں استعمال کر کے تیزی سے ترقی پذیر دنیا تک رسائی حاصل ہے۔
انٹرنیٹ طلباء کے لئے سب سے زیادہ اہمیت کا حا مل ہے۔ جدید تعلیمی نظام میں جہاں طلبا ء انٹرنیٹ سے زیادہ تر معلومات حاصل کرتے ہیں وہیں انٹرنیٹ طلباء کے لئے غیر رسمی استاد کا کرداربھی ادا کرتا ہے۔ یہ غیر رسمی استاد طلباء کے ساتھ رہتا ہے، جب بھی انہیں ضرورت ہو۔ وہ اس سے کسی بھی وقت کسی بھی چیز کے بارے میں جو وہ چاہیں پوچھ سکتے ہیں۔ لہذا کسی بھی طالب علم کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنا ایک ضرورت بن گیا ہے۔
پیشہ ور افراد کے لئے بھی انٹرنیٹ اہم ہے۔ ایڈوانس معلومات انٹرنیٹ پر کسی بھی پیشے کے بارے میں دستیاب ہیں۔ ہر شخص انٹرنیٹ کی مدد سے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مطابق اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔ یوٹیوب، اور وکی ہاو جیسی وبسایٹس ہمیشہ ہم سب کچھ سکھانے کے لئے رہتے ہیں جو ہم چند منٹ میں سیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر انٹرنیٹ کا استعمال صحیح طور پر کیا جائے تو عام آدمی کے لئے بھی انٹرنیٹ بہت فائدہ مند ہے۔ یہ ہمیں کھانا پکانے کی تعلیم دے سکتا ہے۔ یہ صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھنے میں ہماری مدد کرسکتا ہے۔یہ ہمیں محدود وسائل کے ساتھ معیاری زندگی گزارنا سکھا سکتا ہے۔ اپر چترال جیسے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو جدید دنیا کے ساتھ چلنا بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
لیکن بدقسمتی سے، بالائی چترال کے تقریبا ً تمام علاقے دور جدید کی اس اہم ضرورت اور سہولت سے محروم ہیں۔ ابھی تک پورا اپر چترال گلوبل ولیج سے کٹا ہواہے۔ ضلعی صدرمقام بونی میں ڈی ایس ایل کی سروس موجود تو ہے لیکن یہ سروس بھی انتہائی کمزور ہے، لیکن سیلولر سروس فراہم کرنے والے کمپنیون میں سے کسی کا بھی 3 جی یا 4 جی سروس نہیں ہے۔ اپر چترال کے زیادہ گنجان آباد علاقے کوشٹ، موڑکہو، مستوج،چرون اور کوراغ وغیرہ ہیں، جن میں مکمل طور پر کوئی انٹرنیٹ سروس نہیں،اور نہ ہی 2 جی انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔ وہ لوگ جن کو اپنی روز مرہ کی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے، وہ چترال شہر کا سفر کرنے یا 2 جی نیٹ ورک پر انٹرنیٹ پیج لوڈ کرنے کے لئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
آجکل کے جدید دور مین انٹرنیٹ کی مسلمہ حقیقت کے باوجود اپر چترال کا گلوبل ولیج سے منقطع رہنا عجیب لگتا ہے۔ انٹرنیٹ تک رسائی کے بغیر بالائی چترال کے لوگوں کے لئے جدید دنیا کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے۔
یوفون بالائی چترال میں کسی بھی دوسرے نیٹ ورک سے بہتر سروس مہیا کرتا ہے۔ یہ ہمیں اس پسماندہ علاقے میں کالنگ اور ٹیکسٹ میسجنگ کا بہت اچھا سروس فراہم کررہاہے۔ یہ 2G انٹرنیٹ تھوڑا بہتر کام کرتا ہے لیکن ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یہ کافی نہیں ہے۔ لہذا اپر چترال کے عوام یوفون اور دیگر حکام کے منتظر ہیں کہ وہ اپنے 2 جی نیٹ ورک کو کم سے کم 3 جی کی رفتار میں اپ گریڈ کریں۔ اپر چترال کی آبادی لوور چترال کے مقابلے میں زیادہ ہے، لہذا کمپنی کو بھی اس اقدام سے اچھا فائدہ ملے گا۔

انعام اللہ ایک لایف سٹایل بلاگر ہے ان کی اپنی بلاگ اس لنک پر کلک کر کے وزٹ کریں https://inspiredinam.info

نوٹ: ادارے کا مضمون نویس یا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ کسی بھی مضمون یا مراسلے کے مندرجات متعلقہ مصنف کے خیالات اور رائے تصور کئے جائیں۔ (ادارہ)