103

اپر چترال کے بجلی کا مسئلہ اور تحریک حقوق عوام/تحریر: فضل قادر (تورکہو ورکوپ)

بنیادی ضروریات زندگی میں آجکل بجلی ایک اہم ترین ضرورت ہے اور اس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اگر اپر چترال کی بات کی جائے تو بجلی کے حوالے سے اپر چترال کے عوام کے ساتھ شروع سے ہی سوتیلی ماں کا سلوک کیا گیا ہے۔ ریشن پاور ہاؤس کی تباہی کے بعد تقریباً 3 سال تک اپر چترال بجلی سے مکمل طور پر محروم رہا۔ اندھیروں میں ڈوبے اپر چترال کے عوام کی واحد امید گولین گول پاور پروجیکٹ تھی۔ خدا خدا کرکے جب گولین گول پاور پروجیکٹ کے افتتاح کا وقت آیا تو پتہ چلا کہ تبدیلی سرکار اپر چترال کے کچھ علاقوں میں این۔جی۔اوز کے بنائے ہوئے چند چھوٹے بجلی گھروں کو جواز بنا کر اپر چترال کو گولین گول بجلی سے محروم کررہی ہے۔ یہ خبر سن کر بجلی کے ستائے ہوئے عوام سراپا احتجاج ہوگئے اور تحریک حقوق عوام اپر چترال کے پلیٹ فارم سے ایک زبردست احتجاجی تحریک کا آغاز کیا اور افتتاح سے ایک دن پہلے عوام کا ایک سمندر تحریک حقوق عوام کی سرپرستی میں گولین گول کی طرف لانگ مارچ کیا۔ چونکہ پروجیکٹ کی افتتاح کیلئے اس وقت کے وزیراعظم چترال تشریف لارہے تھے اس لیے عوامی احتجاج کو ختم کرنے کے لیے اپر چترال کو گولین گول پاور پروجیکٹ سے عارضی طور پر بجلی دی گئی۔ اس طرح اپر چترال میں وقتی طور پر بجلی بحال ہوگئی۔ 9 سے 10 مہینے بجلی باقاعدگی سے آتی رہی اور اس کے بعد غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا جو گزشتہ سردیوں میں شدت اختیار کر گیا۔ حالات سے تنگ آکر عوام تحریک حقوق کے پلیٹ فارم سے ایک مرتبہ پھر سڑکوں پہ نکل آئے۔ کئی احتجاجی مظاہروں کے بعد پتہ چلا کہ اپر چترال کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے پیڈو اور پیسکو کے درمیان کوئی تحریری معاہدہ ہی نہیں ہے اور یہ کہ جوٹی لشٹ گرڈ اسٹیشن میں اپر چترال کے لیے کوئی الگ ٹرانسفارمر ہی نہیں ہے۔ اس خبر کے بعد تحریک حقوق عوام اپر چترال نے بجلی کیلئے باقاعدہ تحریک کا آغاز کیا اور اپر چترال کے لیے الگ ٹرانسفارمر کے ساتھ ساتھ الگ گرڈ اسٹیشن کا مطالبہ کیا جو ان کا قانونی حق تھا۔ اس سلسلے میں کئی کارنر میٹنگز، جلسوں اور احتجاجی مظاہروں کے بعد آخر کار متعلقہ اداروں کی طرف سے اپر چترال کے لیے کاغلشٹ کے مقام پر الگ گرڈ اسٹیشن کی منظوری کی نوید سنائی گئی اور گرڈ اسٹیشن کے قیام تک جوٹی لشٹ گرڈ اسٹیشن میں اپر چترال کیلئے 7 میگاواٹ کے الگ ٹرانسفارمر کی تنصیب کا فیصلہ کیا گیا اور ساتھ ہی ٹرانسفارمر کا ٹینڈر بھی ہوگیا جو کہ علاقے کے عوام کے لیے انتہائی خوش آئند بات تھی۔ ٹرانسفارمر کی تنصیب کے لئے 3 سے 4 مہینے درکار تھے اور بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری تھا تاہم متعلقہ اداروں کی طرف سے تحریری یقین دہانی کرائی گئی کہ ٹرانسفارمر کی تنصیب تک لوڈ شیڈنگ ختم کی جائے گی اور تنصیب کا عمل جلد از جلد کیا جائیگا۔ اس تحریری معاہدے کے بعد لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ تقریباً ختم کردیا گیا۔ اور تاحال اپر چترال کو بجلی کی سپلائی اطمینان بخش ہے۔ چونکہ اپر چترال کو پیڈو کی ٹرانسمشن لائن سے بجلی سپلائی کی جارہی ہے اور متعلقہ محکمے کے مطابق لائنیں پرانی اور ناکافی ہیں لہذا تھوڑی سی بارش یا تیز ہوا کی صورت میں بجلی ٹرپ کرجاتی ہے۔ خصوصاً تورکہو اور موڑکھو کی لائنیں زیادہ اونچائی میں ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں زیادہ مسئلہ رہتا ہے۔ گرمیوں میں لوڈ بڑھ جانے کی صورت میں پھر سے لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ متعلقہ اداروں کے مطابق موجودہ ٹرانسفارمر3 میگاواٹ سے زیادہ لوڈ برداشت نہیں کر سکتا اور ٹرانسمشن لائنیں پرانی اور کمزور ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر اپر چترال کیلئے الگ گرڈ اسٹیشن کا قیام انتہائی ضروری ہے اور گرڈ اسٹیشن کے قیام تک جوٹی لشٹ کے مقام پر الگ ٹرانسفارمر کی تنصیب کا کام جلد از جلد کیا جائے تاکہ اپر چترال کے عوام ممکنہ لوڈ شیڈنگ سے بچ سکیں۔ اس سلسلے میں عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ ٹرانسفارمر کی تنصیب اور گرڈ اسٹیشن پر کام کے آغاز میں ابتک جو پیش رفت ہوئی ہے وہ عوام کے سامنے لائی جائے تاکہ اس سلسلے میں عوام میں جو بے چینی پائی جاتی ہے اس کا ازالہ ہوسکے۔