لوئر چترال پولیس کی 15 روزہ کارکردگی: 43 منشیات فروش گرفتار، بھاری منشیات و غیر قانونی اسلحہ برآمد، ڈی پی او کی پریس کانفرنس

اشتہارات

چترال (چ،پ) لوئر چترال پولیس نے چترال کو منشیات سے پاک علاقہ بنانے اور عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے کمیونٹی کی گراس روٹ لیول پر مہم شروع کی ہے جس کے ابتدائی طور پر غیر معمولی نتائج سامنے آئے ہیں۔

اپنے دفتر میں پندرہ روزہ جائزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد خالد خان نے بتایا کہ ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) ملاکنڈ زاہد نواز مروت کی جانب سے متعارف کرائے گئے جرائم پر قابو پانے کے خصوصی اقدام کے تحت کمیونٹی کی شمولیت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مختلف سطحوں پر کمیونٹی کی بھرپور حمایت کے باعث پولیس نے مختلف حوالوں سے اپنی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر کیا ہے، جس میں طاقت کے استعمال کے بجائے عوامی تعاون پر زیادہ بھروسہ کیا جا رہا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے بتایا کہ گزشتہ پندرہ روز کے دوران لوئر چترال پولیس نے جرائم کے تدارک، منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں، عوامی شکایات کے ازالے اور ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 43 ملزمان گرفتار کیے گئے، جن کے قبضے سے 13.895 کلوگرام چرس، 55 گرام افیون، 562 گرام آئس، 20 گرام ہیروئن اور 74 لیٹر دیسی شراب برآمد کی گئی۔ پولیس کے مطابق نوجوان نسل کو منشیات کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ مہم مزید مؤثر انداز میں جاری رکھی جائے گی۔

غیر قانونی اسلحے کے خلاف کارروائیوں میں ایک شاٹ گن، تین پستول اور 67 کارتوس برآمد کیے گئے۔ اسی طرح چوری کے چار مقدمات کی تفتیش کے دوران ملزمان کو گرفتار کرکے تقریباً آٹھ لاکھ 60 ہزار روپے مالیت کی چھ موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق دروش کے علاقے شیشی میں پیش آنے والے اندھے قتل کے مقدمے کا سراغ بھی پولیس نے صرف 24 گھنٹوں میں لگا کر مبینہ طور پر واردات میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا۔

عوامی روابط اور شکایات کے ازالے کے لیے مختلف علاقوں میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا گیا، جہاں شہریوں اور عمائدین نے اپنے مسائل پیش کیے۔ پولیس سے متعلق شکایات کے فوری حل کے لیے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کی گئیں، جبکہ دیگر محکموں سے متعلق مسائل متعلقہ حکام تک پہنچانے کے اقدامات کیے گئے۔

نوجوان نسل میں آگاہی کے فروغ کے لیے تعلیمی اداروں میں خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا گیا، جن میں خودکشی کی روک تھام، ذہنی دباؤ سے نمٹنے، منشیات کے نقصانات اور غیر قانونی سرگرمیوں سے بچاؤ کے حوالے سے طلبہ و طالبات کو آگاہی دی گئی۔

اسی طرح مختلف مساجد میں عوامی نشستوں کے ذریعے منشیات کے خاتمے، ٹریفک قوانین کی پابندی اور امن و امان کے قیام میں عوامی تعاون کی اہمیت اجاگر کی گئی۔

پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے ڈی پی او کی زیر صدارت پولیس دربار منعقد کیا گیا، جہاں جوانوں کے مسائل اور تجاویز سنی گئیں۔ شہریوں کی رہنمائی اور سہولت کے لیے تمام تھانوں میں پولیس مددگار اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے غیر قانونی لیزر اور فلیش لائٹس، تیز ایل ای ڈی، کم عمر موٹر سائیکل سواروں اور غیر قانونی رکشوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، جبکہ آتش بازی اور پٹاخوں کے غیر قانونی استعمال کی روک تھام کے لیے بھی مہم چلائی گئی۔ والدین کو بھی کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہ دینے کی ہدایت کی گئی۔

پولیس فورس کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کے لیے جوانوں کی فائرنگ پریکٹس، جنرل پریڈ اور ٹریفک اہلکاروں کے لیے ریفریشر کورس کا اہتمام کیا گیا۔ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے زرگراندہ پولیس سہولت مرکز کی تزئین و مرمت جبکہ دروش میں نئے پولیس سہولت مرکز کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔

ڈی پی او محمد خالد خان نے کہا کہ لوئر چترال پولیس جرائم کے خاتمے، منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد اور عوام کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔