تجاوزات کے خلاف آپریشن: سیاسی مخالفت نہیں، عوامی تائید اور سرکاری احتساب ضروری!/اداریہ

اشتہارات

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد حکومتی مشینری نے صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت مختلف اضلاع میں تجاوزات کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اس کارروائی کا زیادہ تر مرکز پشاور شہر ہے، جہاں رنگ روڈ سمیت مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے آپریشن جاری ہے۔

اس اقدام کو عوام کے ایک بڑے حلقے کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، تاہم بعض حلقوں کی طرف سے تنقید اور مزاحمت بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ متعلقہ حکومتی اداروں کی عدم توجہی، غفلت اور لاپرواہی کے باعث پشاور سمیت صوبے کے تقریباً ہر ضلع میں تجاوزات کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔

سرکاری اراضی پر قبضے، سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر غیر قانونی تعمیرات و کاروبار اور راستوں کی بندش نے نہ صرف شہریوں کی آمدورفت کو مشکل بنایا ہے بلکہ عوامی سہولیات اور شہری نظم و ضبط کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

موجودہ آپریشن کے دوران حکومتی دعووں کے مطابق سرکاری اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرایا جا رہا ہے۔ یہ یقیناً ایک خوش آئند پیش رفت ہے، جو حکومتی رٹ کی بحالی اور قانون کی بالادستی کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم، اس کارروائی کے ساتھ چند بنیادی سوالات بھی جواب طلب ہیں۔

تجاوزات ایک دن میں قائم نہیں ہوئیں اور نہ ہی سرکاری اراضی پر قبضے اچانک ہوئے۔ یہ سلسلہ برسوں تک جاری رہا، غیر قانونی تعمیرات ہوتی رہیں اور سرکاری زمینوں پر قبضے بڑھتے رہے۔

سوال یہ ہے کہ اس تمام عرصے میں متعلقہ اداروں کے ذمہ دار افسران اور اہلکار کہاں تھے؟ کیا کسی نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش کی؟ کیا ان غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بروقت اقدامات کیے گئے؟ اور اگر نہیں، تو ان غفلتوں اور کوتاہیوں کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ان ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کاروائی ہوگی؟

سرکاری اراضی واگزار کرانا بلاشبہ ضروری ہے، لیکن صرف تجاوزات گرا دینا مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ حکومت کو ان افسران اور اہلکاروں کا بھی احتساب کرنا چاہیے جن کی مبینہ غفلت، لاپرواہی یا ملی بھگت کے باعث یہ تجاوزات قائم ہوئیں اور برسوں تک برقرار رہیں۔

اگر متعلقہ اہلکار اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دیتے تو کسی فرد یا گروہ کو سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضہ کرنے اور عوامی راستوں کو مسدود کرنے کی جرات نہ ہوتی۔

قانون کی بالادستی اسی وقت ممکن ہے جب قانون شکنی کرنے والوں کے ساتھ ساتھ غفلت کے مرتکب سرکاری اہلکاروں سے بھی جواب طلبی کی جائے۔ اگر احتساب اور سزا و جزا کا مؤثر نظام قائم نہ کیا گیا تو بعید نہیں کہ آج ختم کی جانے والی تجاوزات چند سال بعد دوبارہ قائم ہو جائیں اور حکومت کو بار بار ایسے آپریشن کرنا پڑیں۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت محض وقتی کارروائیوں پر اکتفا کرنے کے بجائے ایک جامع، واضح اور مستقل پالیسی مرتب کرے۔ سرکاری اراضی کا مکمل ریکارڈ مرتب کرکے اسے مشتہر بھی کیا جائے، تجاوزات کی نشاندہی کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام قائم ہو، غیر قانونی تعمیرات کو ابتدائی مرحلے ہی میں روکا جائے اور متعلقہ اداروں کو ان کی ذمہ داریوں کا پابند بنایا جائے۔

بازاروں کے اندر فٹ پاتھ پر قبضہ کرنے اور اسے عوام کے چلنے پھرنے کے لئے بند کرنے کی روایت کو ختم کرنے کے لئے موثر حکمت عملی بنا کر اس پر بہر صورت عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

گزشتہ کم از کم دس برس کے دوران سرکاری اراضی پر ہونے والے قبضوں اور تجاوزات کی سرپرستی یا روک تھام میں ناکامی کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کا تعین بھی کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح شہریوں کو بھی واضح پیغام ملنا چاہیے کہ قانون کی خلاف ورزی کسی صورت قابل قبول نہیں اور سرکاری یا عوامی زمین پر ناجائز قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عام شہری تجاوزات سے شدید متاثر ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک جام، پیدل چلنے والوں کے لیے راستوں کی عدم دستیابی، بازاروں میں بے ہنگم صورت حال اور عوامی مقامات پر غیر قانونی قبضوں سے سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے۔

اس لیے تجاوزات کے خاتمے کے لیے حکومتی کارروائی بنیادی طور پر عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔ بدقسمتی سے جب ایسے اقدامات کو سیاسی مخالفت یا حمایت کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے تو اصل مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ کسی بھی عوامی اقدام کی مخالفت یا حمایت محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس کے نتائج اور عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر ہونی چاہیے۔

یہاں پر یہ دلیل بھی وزن نہیں رکھتی کہ ’’ غریب عوام‘‘ کدھر جائے، غربت یا کاروبار کسی غیر قانونی سرگرمی کیلئے سند نہیں ہے، کاروبار کیلئے قانونی راستے اپنانے چاہیئے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ کاروبار یا روزگار کا بہانہ بناکر غیر قانونی سرگرمیوں کیلئے جواز تراشا جائے۔

اس مرحلے پر عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی اختلافات، پسند و ناپسند اور جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر تجاوزات کے خاتمے اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کریں۔

جہاں کارروائی قانون کے مطابق اور بلاامتیاز ہو، وہاں اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ تاہم، اس حمایت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کسی غیر قانونی، امتیازی یا غیر منصفانہ اقدام پر سوال نہ اٹھایا جائے۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق، شفاف انداز میں اور کسی امتیاز کے بغیر انجام دے، جبکہ متاثرہ افراد کے ساتھ بھی قانونی تقاضوں اور انسانی ہمدردی کو ملحوظ رکھا جائے۔

تجاوزات کا خاتمہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ایک منظم، محفوظ اور قابل رہائش معاشرے کے قیام کے لیے اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ موجودہ آپریشن کو محض چند دنوں کی کارروائی تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے مستقل اصلاحات، مؤثر احتساب اور قانون کی یکساں عمل داری کی بنیاد بنائے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ذاتی یا سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر قانون کی بالادستی کا ساتھ دیں۔

یاد رکھنا چاہیے کہ تجاوزات کے خلاف کامیابی کا اصل معیار صرف واگزار کرائی گئی زمینوں کا رقبہ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا حکومت آئندہ تجاوزات کے قیام کو روکنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔

اگر موجودہ کارروائی مستقل پالیسی، شفاف احتساب اور مؤثر نگرانی میں تبدیل ہو جائے تو یہ نہ صرف پشاور بلکہ پورے خیبر پختونخوا کے شہری نظم و نسق کو بہتر بنانے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ اس عوامی مفاد کے اقدام کو سیاسی تنقید کی نذر کرنے کے بجائے قانون، انصاف اور اجتماعی بہتری کے اصولوں پر آگے بڑھایا جائے۔