جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف سینیٹ میں قرارداد پیش، فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

اسلام آباد(س، م، ڈیسک) خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف سینیٹ میں قرارداد پیش کردی گئی، جس میں صدرِ پاکستان اور وفاقی حکومت سے ایمرجنسی کے اعلان پر نظرثانی اور فیصلہ واپس لینے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جمعیت وکلاء فورم پاکستان کے مرکزی صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر مولانا عبدالواسع اور سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آئینی تقاضوں اور قانونی طریقۂ کار کی مکمل پاسداری پر زور دیا گیا ہے۔
قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے آئین میں مقرر کردہ شرائط اور قانونی طریقۂ کار پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔ اس ضمن میں صوبائی خودمختاری، منتخب صوبائی اداروں کے مینڈیٹ، جمہوری نظام اور عوام کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کی بنیاد بننے والی سمری، متعلقہ رپورٹس، وجوہات اور دیگر ریکارڈ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اس اقدام کے آئینی اور قانونی جواز کا جائزہ لیا جاسکے۔
قرارداد میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور متعلقہ حکام سے سفارش کی گئی ہے کہ ایمرجنسی کے اعلان اور اس کے نتیجے میں جاری کیے گئے احکامات کا آئینی و قانونی جائزہ لیا جائے اور فیصلے کو واپس لینے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔
قرارداد میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ آئینی تقاضوں کی پاسداری، صوبائی خودمختاری کا احترام اور جمہوری اداروں کا تحفظ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔