گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا

اشتہارات

پشاور(م،ڈ) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید، مشاورتی کونسل کے اراکین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر، طارق محمود پاشا، عثمان سیف اللہ خان، عامر جاوید، ڈاکٹر محمد ارشاد، کفایت اللہ خان، ڈاکٹر سید عامر عبداللہ، مولانا طیب قریشی، ڈاکٹر سرفراز علی شاہ اور آصف رفیق نے شرکت کی۔

اجلاس کو آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے صوبہ میں امن وامان کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے مشاورتی کونسل کے اراکین کا خیر مقدم کیا اور انہیں نئی ذمہ داریوں پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا، بہت زیادہ چیلنجز درپیش ہیں تاہم تمام امور کو ذمہ داری کے ساتھ بر وقت سرانجام دیں گے۔

کرپشن برداشت نہیں کی جائیگی اور نہ ہی اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس بھی آج بلایا جائیگا۔

اس موقع پر گورنر نے عوام کے نام پر پیغام میں کہا کہ صوبے میں غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر آئین کے تحت کچھ ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔

سیاسی بحث یا الزام تراشی نہیں کرنا چاہتا۔ خیبر پختونخوا کو امن، تحفظ، استحکام اور ترقی کی طرف واپس لے کر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام نے دہشت گردی کی بڑی قیمت ادا کی ہے۔ ہم نے اپنے بہادر پولیس اہلکاروں، فوج کے جوانوں، لیویز، سرکاری ملازمین، علماء، اساتذہ، تاجروں اور عام شہریوں کو قربان ہوتے دیکھا ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کو امن کا حق دیا جائے۔ ہماری جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے، ہماری جنگ اس سوچ، اس نیٹ ورک اور اس ماحول کے خلاف ہے جس میں دہشت گردی پنپتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشکلات بڑی ہیں لیکن ہمارا عزم اس سے بھی بڑا ہے اور انشاءاللہ ریاستی رٹ مضبوط ہوگی اور صوبے میں امن واپس آئیگا۔ گورنر نے کہا کہ پختون دہشت گردی کا مسئلہ نہیں، پختون دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہیں۔

ریاست کا عزم ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو دہشت گردی سے نجات دلائی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ میری پہلی ترجیح امن اور عوام کا تحفظ ہو گا۔ گورنر نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی ترجیح دہشت گردی کے خلاف موثر اور مربوط کارروائی ہے، اس مقصد کیلئے پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھائی جائیگی۔ چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کا پولیس اہلکار دہشت گردی کے سامنے اکیلا نہ ہو، ریاست اس کے پیچھے کھڑی ہے۔

پولیس شہداء اور ان کے خاندانوں کو بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شورش زدہ اضلاع کے اندر ریاست کی عملداری کو بہتر کرنا بھی ہماری ترجیح ہے۔ صوبے کے عوام نے سب سے زیادہ مشکلات برداشت کی ہیں۔

دہشت گردی، نقل مکانی، بنیادی سہولیات کی کمی اور طویل عرصے کی محرومی نے عوام کی زندگی کو مشکل اور کٹھن بنا دیا ہے۔

ہماری توجہ اس بات پر ہو گی کہ یہ اضلاع صرف نقشے پر خیبر پختونخوا کا حصہ نہ ہو بلکہ ترقی، تعلیم، صحت، روزگار، سڑکوں، بجلی پانی اور انتظامی سہولیات میں بھی برابر کے شریک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتظامیہ کو جوابدہ اور عوام کو بااختیار بنانے کی سمت میں کام کریں گے۔

ہماری ترجیح دہشت گردی کے پورے ایکوسسٹم کا خاتمہ ہو گی۔ صرف دہشت گرد کونشانہ بنا کر مسئلہ ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ دہشت گردی کے پیچھے موجود سہولت کاری، مالی معاونت، بھرتی، انتہا پسندانہ نیٹ ورکس، غیر قانونی اسلحہ، منشیات، غیر قانونی نقل و حرکت اور دیگر معاون نظام کو بھی قانون کے مطابق ختم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان اور انسداد دہشت گردی کے تمام متعلقہ اقدامات پر موثر عملدرآمد بھی ہماری ترجیح ہوگی۔ گورنر نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کا مستقبل محفوظ اور روشن ہوگا۔ نوجوانوں کے خواب کو دہشتگردی کے سائے میں دفن نہیں ہونے دیں گے۔

گورنر نے کہا کہ اس غیر معمولی انتظامی اقدام کا مقصد کسی سیاسی جماعت، فرد یا کسی طبقے کو نشانہ بنانا نہیں۔ ہمارا مقصد ہے کہ ریاستی اداروں کو موثر بنایا جائے، قانون کی عملداری بحال کی جائے، دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے اور عوام کو امن و سہولت فراہم کی جائے۔ ہر شہری کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائیگا اور ریاستی اقدامات آئین اور قانون کے مطابق ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم خیبر پختونخوا کو امن، ترقی، مواقع اور مستحکم و خوشحال سرزمین بنائیں گے۔