چترال میں حالیہ سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی، جامع بحالی منصوبے اور فوری فنڈز کی ضرورت

چترال(چ،پ) امسال جولائی اور اگست کے مہینوں میں چترال کے مختلف علاقوں میں آنے والے سیلاب اور دریائے چترال میں شدید طغیانی کے باعث اپر اور لوئر چترال کے متعدد دیہات اور وادیوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
سیلاب سے نجی املاک، انفراسٹرکچر، زرعی اراضی اور باغات کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ درجنوں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں اور اس وقت بحالی کے لیے حکومت کی جانب سے مناسب امداد کے منتظر ہیں۔
سیلاب اور طغیانی کے نتیجے میں لوگوں کے مکانات اور دیگر املاک کے علاوہ سڑکیں، پل، آبنوشی اور آبپاشی کی متعدد سہولیات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ بعض متاثرہ اسکیموں کو دستیاب وسائل کے ذریعے عارضی طور پر بحال کیا گیا ہے، تاہم انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے وسیع نقصان کے باعث مقامی آبادی کو آمدورفت، پینے کے پانی اور زرعی سرگرمیوں سمیت مختلف شعبوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے تاحال کوئی جامع بحالی منصوبہ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
اپر اور لوئر چترال کی ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ لائن ڈیپارٹمنٹس اپنے دستیاب وسائل کے ذریعے صورتحال سے نمٹنے اور بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، تاہم تباہی کی شدت اور نقصانات کا حجم اس امر کا متقاضی ہے کہ معمول کے ریلیف آپریشن سے آگے بڑھ کر ایک جامع اور مربوط بحالی پروگرام شروع کیا جائے۔
اسی طرح این جی او سیکٹر کی طرف سے بھی خاطر خواہ سرگرمیاں سامنے نہیں آئی ہیں۔
مقامی حلقوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے فوری طور پر جامع بحالی اور تعمیرِ نو کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور مطلوبہ فنڈز جاری کیے جائیں، تاکہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو مستقل بنیادوں پر بحال کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرہ اور کم آمدنی والے خاندانوں کو بھی کماحقہ مالی و معاشی معاونت فراہم کی جا سکے۔
متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سردیوں کی آمد میں زیادہ وقت باقی نہیں، جبکہ موسم کی شدت اور برفباری کے باعث بحالی اور تعمیرِ نو کی سرگرمیاں مزید مشکل ہو سکتی ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ حکومت بلا تاخیر نقصانات کا جامع تخمینہ لگا کر ہنگامی بنیادوں پر فنڈز جاری کرے اور بحالی کا عملی منصوبہ شروع کرے، تاکہ متاثرہ آبادی کو موسمِ سرما سے قبل زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔