چترال اور اپر چترال میں 79واں یوم آزادی شاندار اور پروقار انداز میں منایا گی پرچم کشائی، شجرکاری اور کھیلوں کے مقابلے

اشتہارات

​چترال (بشیرحسین آزاد) چترال کے دونوں اضلاع، لوئر اور اپر چترال، میں 79واں یومِ آزادی روایتی جوش و جذبے، گہرے حب الوطنی کے احساس اور شاندار تقریبات کے ساتھ منایا گیا۔ دن کا آغاز مساجد میں ملک کی خوشحالی، ترقی اور سلامتی کے لیے خصوصی دعاؤں سے ہوا۔

یومِ آزادی کی مرکزی تقریب ڈی سی ہاؤس میں منعقد ہوئی، جہاں ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محمد ہاشم عظیم نے 33×80 فٹ کا خصوصی قومی پرچم لہرایا۔

پرچم کشائی کے بعد ضلعی انتظامیہ اور عوام نے "جشن آزادی واک” میں شرکت کی اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کیے۔

اسکے علاوہ مختلف تعلیمی اداروں میں جشن آزادی کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ گورنمنٹ سنٹینل ہائی اسکول میں پرنسپل عبدالباری کی زیر نگرانی پروقار شو کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی ڈی سی محمد ہاشم عظیم تھے۔ اس موقع پر ڈی سی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ 500 کلومیٹر طویل سرحد کے باوجود چترال میں امن و امان کی صورتحال مثالی ہے، جو یہاں کے عوام کی حب الوطنی کا ثبوت ہے۔

​علاوہ ازیں یونیورسٹی آف چترال میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حاضر اللہ کے زیرصدارت تقریب ہوئی، جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن کے آغوش میں بچوں نے اسٹیج شو پیش کیے۔

اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر بونی سمیت لوئر اور اپر چترال کے تمام دور دراز دیہات و وادیوں کے سینکڑوں اسکولوں میں بھی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

محکمہ جنگلات کے زیر اہتمام شجرکاری مہم کا آغاز کیا گیا۔
یوم آزادی کی مناسبت سے محکمہ جنگلات نے سید آباد کے مقام پر مون سون شجرکاری مہم کا آغاز کیا جس میں ڈی سی اور ڈی ایف او آصف علی شاہ نے پودے لگائے۔

خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی (KP CTA) کی جانب سے ٹورسٹ فسیلیٹیشن سنٹر میں کیک کاٹنے کی تقریب ہوئی، جبکہ ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ کے زیرِ اہتمام بھی پروگرام سجا۔

​کھیل، مشاعرے اور بازاروں کی سجاوٹ

اس موقع پر چترال اور بونی کے بازاروں کو قومی پرچموں سے سجا دیا گیا۔ مختلف مقامات پر پولو اور فٹ بال کے میچز جبکہ حب الوطنی پر مبنی محافلِ مشاعرہ کا انعقاد جاری ہے۔

جمعہ کے اجتماعات میں علماء کرام نے آزادی کی اہمیت اور پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دیتے ہوئے ملکی سلامتی کے لیے دعائیں کروائیں۔