چترال میں لوڈشیڈنگ، ٹیکسز اور موبائل سروس کے خلاف سول سوسائٹی کا احتجاج، مطالبات منظور نہ ہوئے تو دھرنے کی دھمکی

اشتہارات

چترال (ظہیرالدین )سول سوسائٹی لوئر چترال کے زیر اہتمام جمعہ کے روز بعد از نماز جمعہ اتالیق پل سٹی بازار چترال میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، ملاکنڈ ڈویژن پر ٹیکسز کے نفاذ اور ایک موبائل سروس فراہم کرنے والی کمپنی کی ناقص سروس کے خلاف احتجاجی جلسہ منعقد ہوا۔

جلسے کی صدارت عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر الحاج عیدالحسین نے کی۔

جلسے سے صدر چترال ڈیولپمنٹ موومنٹ شبیر احمد، سماجی کارکن عنایت اللہ اسیر، خطیب شاہی بازار مسجد مولانا اسرار الدین، وقاص احمد ایڈووکیٹ، جمعیت علمائے اسلام لوئر چترال کے رہنما قاضی نسیم، جماعت اسلامی لوئر چترال کے نائب امیر مولانا جمشید احمد، راہ حق پارٹی کے رہنما مولانا جاوید احمد اور صدر تجار یونین لوئر چترال نور احمد خان چارویلو نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ چترال میں وافر مقدار میں بجلی پیدا ہونے کے باوجود عوام کو طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، جبکہ بجلی کے بلوں میں مختلف ٹیکسز بھی وصول کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چترال کے عوام کو مقامی وسائل سے فائدہ پہنچانے اور بجلی کی رائلٹی دینے کے بجائے مزید مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

قاضی نسیم نے اپنے خطاب میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مقامی دفتر کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو بار بار دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور شکایات کے باوجود مسائل حل نہیں کیے جا رہے۔

مولانا جمشید احمد نے خبردار کیا کہ اگر لوڈشیڈنگ اور دیگر عوامی مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو ڈی سی آفس چوک پر دھرنا دیا جائے گا، جس کے لیے تمام سیاسی و سماجی قوتیں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں گی۔

مقررین نے کہا کہ چترال کے قدرتی وسائل، بشمول بجلی اور معدنیات، سے دیگر علاقوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے جبکہ مقامی عوام بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ انہوں نے ملاکنڈ ڈویژن پر ٹیکسز کے نفاذ کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا اور مطالبہ کیا کہ ٹیکس فری زون کی حیثیت بحال رکھی جائے۔

صدر تجار یونین نور احمد خان چارویلو نے بجلی کی مسلسل لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو واپڈا کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا اور متعلقہ دفتر کا گھیراؤ بھی کیا جا سکتا ہے۔

جلسے کے مقررین نے واضح کیا کہ ان کی جدوجہد پرامن اور آئینی دائرہ کار میں عوامی حقوق کے حصول کے لیے ہے، تاہم اگر مطالبات پر عمل درآمد نہ ہوا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

انہوں نے چترال میں ایک موبائل سروس فراہم کرنے والی کمپنی کی ناقص کارکردگی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر سروس کا معیار بہتر نہ بنایا گیا تو صارفین کمپنی کی سروس کے بائیکاٹ پر غور کریں گے۔