کالاش وادیوں میں ثقافتی رنگ بکھیرنے والا چیلم جوشٹ فیسٹیول اختتام پذیر، بڑی تعداد میں سیاحوں کی شرکت

اشتہارات

چترال (بشیر حسین آزاد) چترال کی تین الگ تھلگ وادیوں میں آباد دنیا کی منفرد ثقافت کے حامل کالاش قبیلے کا موسمِ بہار کا تہوار “چیلم جوشٹ” پانچ روز تک بھرپور جوش و خروش اور جشن کے ساتھ جاری رہنے کے بعد ہفتے کے روز اختتام پذیر ہوگیا۔

اختتامی تقریبات کے سلسلے میں مرکزی تقریب بمبوریت کے مرکزی رقص گاہ میں منعقد ہوئی، جہاں سینکڑوں کالاش لڑکوں اور لڑکیوں نے اپنے روایتی انداز میں گھنٹوں گروپوں کی صورت میں گانا اور رقص پیش کیا۔

اس دن کی ایک اور اہم سرگرمی جلوس تھا، جس میں ہر عمر اور جنس کے تقریباً ایک ہزار افراد نے شرکت کی۔ یہ جلوس رقص گاہ “چہارسو” کے مقام پر اختتام پذیر ہوا۔ شرکاء نے خوبانی کی تازہ ٹہنیاں اٹھا رکھی تھیں، جنہیں وہ پیدل چلتے ہوئے مسلسل ہلاتے رہے، جو ان کے مذہبی اور ثقافتی عقیدے کا حصہ ہے۔

رمبور اور بریر کی دیگر دو وادیوں سے تعلق رکھنے والے کالاش افراد بھی اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے بمبوریت وادی میں جمع ہوئے تھے۔

ماضی کے چند برسوں کے برعکس، اس سال تہوار کے موقع پر مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد نے وادیوں کا رخ کیا، جبکہ وادیوں کے ہوٹل اپنی مکمل گنجائش تک بھر گئے تھے۔

فیسٹیول کے دوران کالاش ویلیز ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (کے وی ڈی اے) نے صفائی، پارکنگ اور سیاحوں کی سہولت کاری کے مؤثر انتظامات کیے۔

کے وی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل فداء الکریم نے اس موقع پر میڈیا کو بتایا کہ کالاش تہذیب اپنی نوعیت کی ایک قدیم اور منفرد ثقافت ہے۔

اسی اہمیت کے پیشِ نظر یونیسکو نے رواں سال کالاش وادیوں بمبوریت، بریر اور رمبور کو عالمی ثقافتی ورثے (ورلڈ ہیریٹیج) کی عارضی فہرست میں شامل کیا ہے، جس کے باعث اس سال کا چیلم جوشٹ فیسٹیول مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔