آئی ایم ایف کی پالیسیاں اور پاکستانی عوام کی مشکلات/بشیرحسین آزاد

ادارے کا کسی مراسلہ نگار/مضمون نویس کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، ہر مراسلے یا مضمون کے مندرجات فاضل مصنف کے خیالات، رائے اور تجزیہ سمجھے جائیں (ادارہ)

اشتہارات

پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے International Monetary Fund (آئی ایم ایف) کے قرضوں اور معاشی پروگراموں پر انحصار کرتا آ رہا ہے۔

ہر نئی حکومت معاشی بحران، زرمبادلہ کی کمی اور بڑھتے ہوئے قرضوں سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔

بظاہر یہ ادارہ پاکستان کو مالی سہارا فراہم کرتا ہے، مگر اس کی سخت شرائط نے عام عوام کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے تحت حکومت کو بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئے ٹیکس نافذ کیے جاتے ہیں جبکہ پرانے ٹیکسوں کی شرح میں بھی اضافہ کیا جاتا ہے۔

ان فیصلوں کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں، کاروبار متاثر ہوتے ہیں اور عام آدمی کی قوتِ خرید ختم ہوتی جا رہی ہے۔

ایک مزدور، کسان یا چھوٹا دکاندار اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو سرمایہ دار طبقہ، بڑے صنعت کار اور بااثر افراد ان معاشی دباؤ سے نسبتاً محفوظ رہتے ہیں۔

بعض اوقات مہنگائی کے دوران اجناس ذخیرہ کرکے یا قیمتیں بڑھا کر مزید منافع حاصل کیا جاتا ہے۔ یوں امیر مزید امیر جبکہ غریب مزید غریب ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ معاشی اصلاحات کا بوجھ صرف کمزور طبقے پر ڈالا جا رہا ہے۔

پاکستان میں ایک بڑی شکایت یہ بھی ہے کہ سرکاری فضول خرچیوں، کرپشن اور غیر ضروری مراعات کو کم کرنے پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ عوام سوال کرتے ہیں کہ اگر حکومت اخراجات کم کرے، شاہانہ طرزِ زندگی ترک کرے، ٹیکس چوری روکے اور قومی وسائل کو درست انداز میں استعمال کرے تو بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت کیوں پیش آئے؟

بجلی اور گیس کی قیمتوں کے حوالے سے بھی شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ عوام کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں کئی ذرائع سے توانائی پیدا ہوتی ہے، مگر اس کے باوجود قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

اسی طرح ملک میں تیل اور قدرتی وسائل کی موجودگی کے باوجود عوام کو مہنگی توانائی خریدنا پڑتی ہے۔ اس صورتحال نے عوامی بے چینی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

اگرچہ بعض ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف وقتی طور پر پاکستان کو معاشی دیوالیہ پن سے بچاتا ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلسل بیرونی قرضوں پر انحصار کسی بھی ملک کی معاشی خودمختاری کو متاثر کرتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے وسائل پر انحصار کرے، برآمدات بڑھائے، صنعت و زراعت کو مضبوط بنائے، ٹیکس نظام کو منصفانہ بنائے اور کرپشن و فضول خرچی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

حکمرانوں کو ایسی پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں جو عوام دوست ہوں اور ملک کو خود کفالت کی راہ پر گامزن کریں۔ جب تک معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں ہوگی، تب تک آئی ایم ایف جیسے اداروں پر انحصار ختم نہیں ہوسکے گا۔

ایک مضبوط، خودمختار اور عوامی فلاح پر مبنی معیشت ہی پاکستان کو معاشی مشکلات سے نجات دلا سکتی ہے۔