ایم پی اے فاتح الملک علی ناصر اور چترال میں صاف پانی کے منصوبے/تحریر: بشیر حسین آزاد

ادارے کا کسی مراسلہ نگار/مضمون نویس کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، ہر مراسلے یا مضمون کے مندرجات فاضل مصنف کے خیالات، رائے اور تجزیہ سمجھے جائیں (ادارہ)

اشتہارات

چترال لوئر میں پینے کے صاف پانی کی قلت ایک دیرینہ اور سنگین مسئلہ رہا ہے، خصوصاً دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں جہاں بنیادی سہولیات کی فراہمی ہمیشہ سے ایک چیلنج رہی ہے۔

برسوں تک یہ مسئلہ نظر انداز ہوتا رہا، جس کے باعث عوام کو نہ صرف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ صحت کے مسائل میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا تاہم حالیہ پیش رفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اب حالات بدلنے لگے ہیں اور قیادت کی سطح پر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔

اس ضمن میں مہتر چترال ایم پی اے فاتح الملک علی ناصر کی جانب سے عملی اقدامات کا آغاز ایک مثبت پیش رفت ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ ان کی مسلسل جدوجہد، مؤثر آواز اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں، جن کے نتیجے میں اب یہ مسئلہ محض تقاریر تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ٹینڈر نوٹس اس تبدیلی کا واضح ثبوت ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اب چترال کے بنیادی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ خاص طور پر سولرائزڈ واٹر سپلائی سکیموں کا آغاز اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید، ماحول دوست اور پائیدار حل کو اپنایا جارہا ہے، جو نہ صرف موجودہ ضروریات کو پورا کریں گے بلکہ مستقبل کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہوں گے۔

یہ منصوبے اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ اب ترقیاتی کام کاغذی کارروائی سے نکل کر عملی شکل اختیار کررہے ہیں۔ چترال کے مختلف علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے عملی بنیاد رکھ دی گئی ہے، جو یقیناً عوام کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

تاہم، اس مثبت پیش رفت کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ مستقبل میں پانی کی کمی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلیوں اور گلیشیئرز کے غیر متوقع رویے کے پیش نظر ضروری ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف چھوٹے منصوبوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ بڑے اور جامع منصوبوں پر بھی فوری توجہ دی جائے۔

اس حوالے سے گولین جیسے علاقوں سے بڑے پیمانے پر پانی کی فراہمی کے منصوبے شروع کیے جاسکتے ہیں، جو نہ صرف چترال ٹاؤن بلکہ مضافاتی علاقوں کی ضروریات بھی پوری کرسکیں۔ اسی طرح دیگر آبی وسائل کو بروئے کار لا کر مربوط واٹر سپلائی سسٹم قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید برآں، چترال ٹاؤن میں مختلف مقامات پر بڑے بڑے واٹر ٹینکس (ذخیرہ آب کے مراکز) کی تعمیر بھی ناگزیر ہے۔ اس سے نہ صرف پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھے گی بلکہ ہنگامی حالات میں پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ ایک منظم اور مربوط نظام کے تحت ان ٹینکیوں کو واٹر سپلائی نیٹ ورک سے منسلک کرنا چاہیے تاکہ پانی کی قلت پر مستقل بنیادوں پر قابو پایا جا سکے۔
مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ چترال میں جاری ترقیاتی منصوبے محض انفراسٹرکچر کی بہتری نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بھی ہیں۔ اگر موجودہ رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے بڑے منصوبوں، جدید ٹیکنالوجی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو ترجیح دی گئی تو وہ دن دور نہیں جب چترال نہ صرف پانی کے بحران پر قابو پا لے گا بلکہ ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہوگا۔