شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت؛ دہشت گردی کا ایک اور المناک وار/اداریہ

اشتہارات

نامور عالمدین اور سینئر سیاستدان مولانا محمد ادریس پر چارسدہ میں ہونے والا دہشت گرد حملہ نہایت افسوسناک، قابل مذمت اور پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ایک جید عالم دین، علمی و دینی شخصیت اور عوامی رہنما کو اس طرح نشانہ بنانا دراصل معاشرے کے امن، مذہبی ہم آہنگی اور فکری استحکام پر حملہ ہے۔ ایسے اندوہناک واقعات نہ صرف ایک خاندان یا حلقۂ احباب کو غمزدہ کرتے ہیں بلکہ پورے ملک میں بے چینی اور عدم تحفظ کے احساس کو جنم دیتے ہیں۔

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مولانا محمد ادریس شہید کی شہادت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔

یہ واقعہ جہاں دہشت گردی کے ناسور کی ایک اور ہولناک مثال ہے، وہیں یہ متعلقہ سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔ اگر کسی اہم اور معروف شخصیت کو پہلے ہی سکیورٹی خدشات لاحق تھے تو اس کے باوجود مؤثر حفاظتی اقدامات نہ کرنا محض ایک معمولی کوتاہی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ غفلت کے مترادف ہے۔

یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہوا جا سکتا کہ دو پولیس اہلکار تعینات تھے۔ یہاں یہ سوال بھی خود بخود اٹھتا ہے کہ ہائی پروفائل شخصیت کی حفاظت پر معمور اہلکار کتنے تربیت یافتہ تھے؟ کیا وہ ایلیٹ کمانڈو تھے؟ کیا وہ اے ٹی ایس کورس کے ابتدائی سطح والے اہلکار تھے یا پھر عام پولیس اہلکار تھے ؟۔ ماہرین کو اس تکنیکی نکتے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری شہریوں، خصوصاً حساس اور ہائی پروفائل شخصیات، کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

اس نوعیت کے واقعات دہشت گرد عناصر کے حوصلے بلند کرتے ہیں جبکہ عوام کے اندر خوف، مایوسی اور اضطراب کو بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

جب دہشت گرد یہ پیغام دینے میں کامیاب ہو جائیں کہ وہ جب، جہاں اور جسے چاہیں نشانہ بنا سکتے ہیں تو اس سے ریاستی رٹ اور عوامی اعتماد دونوں متاثر ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بیانات اور مذمتی قراردادوں سے نہیں بلکہ مؤثر انٹیلی جنس، پیشگی حکمت عملی اور سخت ریسپانس سے جیتی جا سکتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں، غفلت کے ذمہ دار عناصر کا تعین کریں اور حملے میں ملوث دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لائیں۔

قوم مزید ایسے سانحات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری پوری سنجیدگی، بصیرت اور قوت کے ساتھ ادا کرے۔