چترال میں سیاسی بیداری اور نمائندگی کا بحران/تحریر: بشیر حسین آزاد
ادارے کا کسی مراسلہ نگار/مضمون نویس کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، ہر مراسلے یا مضمون کے مندرجات فاضل مصنف کے خیالات، رائے اور تجزیہ سمجھے جائیں (ادارہ)

چترال میں پاکستان تحریک انصاف کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا حالیہ عوامی اجتماع محض ایک سیاسی جلسہ نہیں تھا، بلکہ اس نے علاقے میں جنم لینے والے ایک گہرے آئینی، سیاسی اور نمائندہ بحران کو نمایاں کر دیا۔ جلسے کا مرکزی محور حلقہ این اے-1 سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی عبداللطیف کی رہائی تھا، جو گزشتہ سات ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
جلسہ چترال شہر کے اتالیق پل کے قریب بائی پاس چوک میں منعقد ہوا، جہاں سینکڑوں کارکنان اور شہری جمع ہوئے۔
اس موقع پر پارٹی قیادت نے چترال سے اسلام آباد کے ڈی چوک تک لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے تحریک کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنے کا عندیہ دیا۔ مقررین نے اپنے خطابات میں اس مؤقف کو دہرایا کہ عبداللطیف کی گرفتاری محض ایک فرد یا جماعت کا مسئلہ نہیں، بلکہ چترال کے عوام کے حقِ نمائندگی کا معاملہ ہے۔
عبدالرزاق نے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے بھائی کو 9 مئی کے واقعات کی آڑ میں بے بنیاد مقدمات میں قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول عبداللطیف پر سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا گیا، تاہم انہوں نے اس دباؤ کو مسترد کر دیا۔
جلسے میں مقررین نے ایک اہم آئینی نکتے کی جانب بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق، چترال کے دونوں اضلاع کی نمائندگی کرنے والے واحد رکنِ قومی اسمبلی کی طویل قید سے نہ صرف عوامی مینڈیٹ متاثر ہو رہا ہے بلکہ علاقے کے آئینی اور ترقیاتی حقوق بھی داؤ پر لگ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں فعال نمائندگی نہ ہونے کے باعث چترال قانون سازی، پالیسی سازی، ترقیاتی منصوبوں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے عمل میں مسلسل نظرانداز ہو رہا ہے۔
مقررین نے حکومت پر زور دیا کہ اس معاملے کو محض سیاسی اختلاف کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ قومی مفاد اور جمہوری روایات کے تناظر میں سنجیدگی سے حل کیا جائے۔ ان کے مطابق، سیاسی بالغ نظری اور وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عبداللطیف کی رہائی کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ چترال کے عوام کو ان کا آئینی حقِ نمائندگی واپس مل سکے۔
جلسے سے رضیت باللہ، حاجی شفیق الرحمن، حاجی سلطان، شاہد احمد اور ثمین خان سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ 63 ہزار ووٹروں کے منتخب نمائندے کو طویل عرصے تک جیل میں رکھنا جمہوری اصولوں اور عوامی مینڈیٹ کے منافی ہے۔ اس موقع پر تاجر یونین کے صدر نور احمد خان نے بھی اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ چترال کے عوام میں اس صورتحال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
تاہم جلسے کے دوران بعض ضلعی رہنماؤں کی غیر موجودگی موضوعِ بحث بنی رہی۔ کئی کارکنوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ عوامی حمایت کے باوجود تنظیمی سطح پر مطلوبہ شرکت دیکھنے میں نہیں آئی۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ تحریک کو مؤثر عوامی قوت میں تبدیل کرنے کے لیے تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال اور منظم بنانے کی ضرورت ہے۔
مجموعی طور پر چترال میں ابھرنے والی یہ تحریک ایک وسیع تر سیاسی اور آئینی بحث کو جنم دے رہی ہے۔ یہ صرف ایک منتخب نمائندے کی رہائی کا مطالبہ نہیں بلکہ جمہوری اقدار، عوامی مینڈیٹ اور علاقائی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اگر اس تحریک کو مؤثر حکمتِ عملی، عوامی شمولیت اور سیاسی بصیرت کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف چترال بلکہ ملکی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
۔