ہم دشمن پر چھپ کے وار نہیں کرتے بلکہ للکار کر مارتے ہیں/قومی علماء و مشائخ کانفرنس سے فیلڈ مارشل کا خطاب

حرمین شریفین کے دفاع کا مقدس فریضہ ملنا ہماری خوش بختی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

اشتہارات

اسلام آباد(چ،پ) اسلام آباد میں قومی علماء و مشائخ کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں ملک بھر سے علماء و مشائخ نے شرکت کی جبکہ کانفرنس سے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطاب کیا۔

علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کو دہشت گردی کا باعث قرار دیا اور کہا ہے کہ ہم دشمن کو چھپ کر نہیں بلکہ للکار کر مارتے ہیں۔

چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ ریاست طیبہ اور ریاست پاکستان کا آپس میں ایک گہرا تعلق ہے اور دفاعی معاہدہ تاریخی ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلم ممالک میں سے محافظین حرمین کا شرف پاکستان کو عطا کیا ہے، جس قوم نے علم اور قلم کو چھوڑا تو انتشار اور فساد الارض نے وہاں جگہ لی۔

انہوں نے کہا کہ عزت اور طاقت تقسیم سے نہیں، محنت اور علم سے حاصل ہوتی ہے، دہشت گردی پاکستان کا نہیں ہندوستان کا وطیرہ ہے، ہم دشمن کو چھپ کر نہیں للکار کر مارتے ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ اسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم نہیں دے سکتا، معرکہ حق میں اللّٰہ کی نصرت سے کامیابی ملی۔

انہوں نے کہا کہ علما قوم کو متحد رکھیں اور قوم کی نظر میں وسعت پیدا کریں۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے علما و مشائخ کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ فرقہ واریت کا خاتمہ ضروری ہے اس کے لیے علما اپنا کردار ادا کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اب بھی چند علما ایسے ہیں جو فرقہ واریت پر بات کرتے ہیں، فرقہ پرستی کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو معاشی ترقی کی طرف لے جانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں مگر دہشت گردی اور یہ کوششیں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں، اس ملک کو ترقی کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان سے لوگ یہاں آکر دہشت گردی کرتے ہیں اور ہمارے لوگ شہید ہو رہے ہیں، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بے گناہ لوگ خوارج کا نشانہ بن رہے ہیں، یہی صورتحال رہی تو ملک کیسے ترقی کرے گا؟

نہ جادو ٹونے سے اور نہ کسی اور طریقے سے صرف شب و روز محنت سے ملک ترقی کرے گا، پوری قوم کو قومی معاملات پر یکجا ہونا ہوگا۔