پاک-بھارت جھڑپ؛ بھارتی فضائیہ کا جھوٹ خود اپنے ہی وزن سے گر گیا/تحریر: کے اے جمیل

بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل اے پی سنگھ (AP Sing)کی طرف سے مئی کے اوائل میں پاک بھارت چار روزہ جنگ کے دوران پاکستان کےچھ لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کے دعوے کو تجزیہ کاروں نے مضحکہ خیز قرار دے رہے ہیں۔
بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے گذشتہ روز ایک میڈیا بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا کہ مئی کے اوائل میں پاکستان کیساتھ لڑائی کے دوران انکی فضائیہ نے چھ پاکستانی لڑاکا طیاروں کو مار گرایا ۔
یہ دعویٰ ٹھیک تین مہینے بعد سامنے آیا جس پر دفاعی ماہرین اور سینئر تجزیہ کاروں نے سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوج کی اصل تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ بروقت، درست اور ناقابل تردید معلومات فراہم کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔
مئی کی جھڑپ کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے اس معیار کو بھرپور طریقے سے ثابت کیا۔ ہر لمحہ ملکی و غیر ملکی میڈیا کو صورتحال سے آگاہ رکھا گیا، ٹھوس شواہد پیش کیے گئے اور ہر دعوے کو بصری مواد (ویژولز) سے ثابت کیا گیا، میڈیا کے سخت سوالات کا ثبوت اور دلائل کے ساتھ جواب دیکر دنیا کو قائل کر دیا۔ جھڑپ کے پہلے ہی روز پاکستان نے واضح طور پر اعلان کیا کہ بھارت کے پانچ لڑاکا طیارے، جن میں جدید رافیل بھی شامل تھے، مار گرائے گئے ہیں۔
ان دعوؤں کے ساتھ تمام تفصیلات اور ثبوت فراہم کیے گئے۔ بعد ازاں نہ صرف غیر جانبدار بین الاقوامی اداروں اور عالمی دفاعی تجزیہ کاروں نے ان کی تصدیق کی بلکہ خود بھارت کے اندر میڈیا، سینئر سیاسی شخصیات اور دفاعی ماہرین اور تجزیہ کار بھی حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے کہ بھارت کو اس محاذ پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔۔۔ یوں پاکستانی موقف کی تصدیق دشمن کے اپنے گھر سے ہو گئی۔
تین ماہ کی تاخیر کے بعد کیے جانے والے ایسے دعوے کسی بھی سنجیدہ اور باشعور شخص کے نزدیک حقیقت کا درجہ نہیں پا سکتے۔
وجہ صاف ہے کہ مئی کی جھڑپ کے دوران بھارتی حکومتی اہلکاروں، سیاسی و عسکری قیادت اور مین اسٹریم میڈیا نے ایسے ناقابلِ یقین اور مضحکہ خیز بیانات دیے کہ وہ خود اپنی ساکھ کو مجروح کر بیٹھے۔
جھڑپ کے دوران بھارتی میڈیا اور سرکاری ذرائع نے اپنی ” کامیابیوں کی ایسی جھوٹی ” کہانیاں پیش کیں جنہوں نے دنیا بھر میں طنز و مزاح کاایک نیا سلسلہ شروع کر دیا۔ وزیر اعظم پاکستان کے مبینہ فرار،اہم شخصیات کی گرفتاری ، لاہور میں بندرگاہ اور رحیم یار خان میں ایئرپورٹ کی تباہی اور کراچی پر قبضے جیسے دعوے عالمی میڈیا کے لیے محض تفریح کا سامان بنے۔ ایسے میں بھارتی فضائیہ کے سربراہ کا حالیہ بیان اسی "جھوٹے بیانیے” کے تسلسل کا حصہ مانا جا رہا ہے۔
بھارتی فضائیہ کے سربراہ کا یہ دعویٰ ایسے وقت پر سامنے آیا جب محض چند روز قبل بھارتی پارلیمنٹ میں مودی سرکار کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اپوزیشن نے کھلے الفاظ میں حالیہ فوجی کارروائی کی کامیابی اور جنگ بندی کے فیصلے پر سنگین نوعیت کے سوالات اٹھائے جس سے حکومت کی سیاسی پوزیشن مزید کمزور ہو گئی۔ جنگی محاذ پر عبرتناک شکست، بین الاقوامی سفارتی میدان میں ناکامی، اور اب ملکی پارلیمان کے اندر ہزیمت، یہ تینوں دھچکے مودی سرکار کو شدید دفاعی پوزیشن پر لے آئے ہیں۔
ایسے حالات میں، تین ماہ کی طویل خاموشی کے بعد بھارتی فضائیہ کے ذریعے ایک من گھڑت کہانی تراشی گئی، جس کا مقصد اپنی افواج کی کامیابی کا تاثر دینا تھا۔
یہ دعویٰ الٹا دنیا کے سامنے بھارتی فوج کی کمزوری، غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور تیاری کے فقدان کا آئینہ بن گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ساکھ سنوارنے کی یہ کوشش خود بھارت کے لیے عالمی سطح پر ایک نئی ہزیمت اور سبکی کا باعث بن گئی۔
بھارتی جھوٹ اور حقائق کو مسخ کرنے کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ پاک–بھارت جنگ بندی کے بارے میں امریکی صدر کم از کم 30 بار کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ یہ ان کی مداخلت سے ممکن ہوئی۔
مگر بھارت، اپنی خفت چھپانے کے لیے، عوامی سطح پر اس حقیقت سے انکار کرتا ہے جبکہ سفارتی محاذ پر اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔
یہ دوغلا پن نہ صرف بھارت کی ساکھ پر کاری ضرب ہے بلکہ عالمی برادری میں اسے ایک ناقابلِ اعتبار ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ایسے میں بھارتی فضائیہ کے سربراہ کا دعویٰ کسی سنجیدہ فورم پر قابلِ توجہ نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔
ان حقائق کی بنیاد پر عالمی سطح پر ماہرین اور تجزیہ کار بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے اس دعوے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔