غزہ: سسکتی انسانیت، سوئی ہوئی امت/تحریر: گلزار حسین چوہان

اشتہارات

غزہ… جہاں زمین جلی ہوئی ہے، ہوا بارود سے بھری ہے، اور آسمان پر ہر لمحہ موت منڈلا رہی ہے۔ یہ کوئی جنگی فلم نہیں، یہ حقیقت ہے — ایک ایسی حقیقت جسے دنیا جانتے ہوئے بھی نظرانداز کر رہی ہے۔ انسانیت دم توڑ چکی ہے، اور ضمیر مر چکے ہیں۔
فلسطینی عوام کی زندگی اس وقت ایک مسلسل قیامت سے کم نہیں۔ ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں، بچوں کے چہرے راکھ سے ڈھک گئے، باپوں کی لاشیں ملبوں تلے دفن ہیں۔ مگر درد کی اس انتہا کے بعد بھی اگر دنیا خاموش ہے، تو وہ دنیا یقیناً انسانیت کی نمائندہ نہیں ہو سکتی۔
غزہ اب صرف بموں کا ہدف نہیں، بلکہ اب وہ قحط اور بھوک کا گڑھ بن چکا ہے۔ خوراک ناپید ہو چکی ہے۔ بچوں کے لیے دودھ، مریضوں کے لیے ادویات، بزرگوں کے لیے پانی — کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ بیمار ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے رہے ہیں، اور حاملہ خواتین کو سڑکوں پر جنم دینے اور مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اسرائیلی محاصرے نے غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی اوپن ایئر جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔
یہ کیسی جنگ ہے جس کا ہدف فوجی نہیں، بلکہ بچے، عورتیں اور عام شہری ہیں؟
یہ کیسا ظلم ہے جو دنیا کے طاقتور ممالک کی آنکھوں کے سامنے جاری ہے، اور کوئی اسے روکنے کی ہمت نہیں کر رہا؟
سب سے بڑی شرمناک حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ممالک — جو ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں — آج محض مذمت اور تشویش جیسے کھوکھلے بیانات سے آگے نہیں بڑھ سکے۔
سعودی عرب، جو حرمین شریفین کا محافظ ہے، پاکستان جو ایٹمی طاقت ہونے پر فخر کرتا ہے، ترکی جو مسلم دنیا کی قیادت کا خواہاں ہے، ملائیشیا و انڈونیشیا جو اسلامی اتحاد کے علمبردار بنے پھرتے ہیں — سب نے غیرت و حمیت کے جنازے نکال دیے ہیں۔ فلسطینی بچوں کی لاشوں کے بدلے ان کے ایوانوں میں "خاموشی” کا جشن منایا جا رہا ہے۔
امت مسلمہ کا حال ایک ایسا ہجوم بن چکا ہے جو صرف ماتم کرتا ہے، مگر عمل سے خالی ہے۔ جس وقت اتحاد، عملی تعاون اور سفارتی دباؤ کی شدید ضرورت تھی، اسی وقت سب نے اپنی زبانوں پر تالے ڈال دیے۔ او آئی سی اور عرب لیگ جیسے ادارے صرف اجلاسوں اور قرار داْدوں تک محدود ہو کر رہ گئے۔
اور یہ خاموشی صرف مسلم دنیا تک محدود نہیں۔ روس اور چین جیسے طاقتور ممالک، جو بین الاقوامی طاقت کے توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، وہ بھی تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ یورپی یونین جو ہر لمحہ انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے، وہ بھی فلسطینی خون پر خاموش ہے۔ عرب دنیا کی سرد مہری تو المناک حد تک بڑھ چکی ہے، مگر ایشیائی ممالک، جنہیں انسانی بحرانوں میں کردار ادا کرنا چاہیے، وہ بھی مجرمانہ بے حسی کا شکار ہیں۔
ایسا لگتا ہے جیسے عالمی برادری نے فلسطینیوں کو مرنے کے لیے اکیلا چھوڑ دیا ہے — ان کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں ہے ۔ ہر طرف صرف سیاسی مفادات، سفارتی مصلحتیں اور معاشی تجارتی سودے نظر آ رہے ہیں۔
ادھر امریکہ، جو خود کو دنیا کے امن کا علمبردار کہتا ہے، اور صدر ٹرمپ جو نوبل امن انعام کا خواہشمند بنا پھرتا ہے — اس کا کردار اس سارے منظرنامے میں سب سے مکروہ اور دوغلا ہے۔ ایک طرف وہ امن کی بات کرتا ہے، دوسری طرف اسرائیل کو اسلحہ، پیسہ اور سیاسی چھتری فراہم کرتا ہے۔ امریکہ کی منافقت آج کھل کر دنیا کے سامنے آ چکی ہے، لیکن پھر بھی اسے روکنے والا کوئی نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے؟
کیا ہم اس وقت جاگیں گے جب غزہ کے بعد قدس اور پھر مدینہ کے دروازے کھٹکھٹائے جائیں گے؟
کیا ہم اس وقت اپنی غیرت کو جگائیں گے جب فلسطینیوں کے بعد ہماری باری آئے گی؟
اب وقت ہے کہ اسلامی دنیا محض افسوس کے بیانات نہیں، فیصلہ کن اقدامات کرے۔ فوری جنگ بندی کروا کر غزہ میں خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات پہنچائی جائیں۔ انسانی ہمدردی کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ اسرائیل کے خلاف عالمی عدالتوں میں مقدمات دائر کیے جائیں۔ معاشی بائیکاٹ، سفارتی تنہائی، میڈیا مہم اور دیگر ذرائع سے دباؤ ڈالا جائے۔
دنیا کے ہر باضمیر انسان کو، ہر طبقے کو، ہر قوم کو اب فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ یہ صرف ایک قوم کی جنگ نہیں، یہ انسانیت کی بقا کی جنگ ہے۔
آج غزہ چیخ چیخ کر دنیا کو پکار رہا ہے:
“ہم مر رہے ہیں، کیا تمہیں کچھ فرق نہیں پڑتا؟”
اگر اس پکار پر بھی ہم خاموش رہے، تو یاد رکھیں،
تاریخ ہمیں ظالموں کے ساتھی لکھے گی،
اور آنے والی نسلیں ہمیں مجرم سمجھیں گی۔

نوٹ: اس تحریر کے جملے، آرا اور تجزیے مصنف کی اپنی فکری اور علمی کاوش ہیں، ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔ ہمارے پیجز پر شائع کئے جانے والے مضامین ادارے کے آفیشل مؤقف یا پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتے۔ (ادارہ)