مستوج بروغل روڈ کی تعمیر کے لئے بریپ میں عوامی اجتماع کا انعقاد، سڑک کی تعمیر کی جلد از جلد منظوری کا مطالبہ

یہ سڑک دفاع اور تجارتی اہمیت کا حامل ہے، سڑک کی تعمیر سے علاقے میں ترقی گی

اشتہارات

چترال(چ،پ) اپر چترال کے عوام نے مستوج سے لے کر بروغل تک سڑک کی تعمیر کے منصوبہ کی منظوری کیلئے تحریک کا آغاز کردیا ہے۔ گذشتہ دنوں تحصیل مستوج کے قصبے بریپ میں ایک بڑے عوامی اجتماع میں مقررین نے علاقے کے مختلف مسائل پر مشاورت کی اور مستوج سے بروغل تک سڑک کی تعمیر کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اس لئے منظم انداز میں تحریک چلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عوامی اجتماع میں علاقے سیاسی راہنماوں ، عمائدین اورعوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔احتجاجی اجتماع میں معروف ماہر تعلیم شیر ولی خان اسیر مہمان خصوصی تھے جبکہ صدارت تحریک انصاف اپر چترال کے صدر شہزادہ سکندرالملک نے کی ۔
شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ دور جدید میں بھی اس اہم علاقے کے سڑک کی حالت وہی پرانی ہے، حالانکہ یہ دفاعی اہمیت کا حامل علاقہ ہے اور بین الاقوامی سرحد سے منسلک ہے۔ انہوں نے سڑک کے مسئلے کو علاقے کے عوام کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کیلئے ہر قسم کے جدوجہد کا تہیہ کر لیا ۔ مقررین نے مستوج، یارخون اور لاسپور کے عوام کا ایک غیر سیاسی پلیٹ فارم عوامی نوعیت کے ان مسائل کے حل کے سلسلے میں جدوجہد کے لئے بالکل متحد ہے اور اسکے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ مقررین نے کہا کہ علاقے میں سڑک کی مخدوش حالت اس حسین اور قدرتی وسائل سے مالامال علاقے کی پسماندگی اور لوگوں میں غربت کی بنیادی وجہ ہے ۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سابق ریاست چترال کے دور میں یہ علاقے بھنگ کی کاشت اور پیدوار کے لئے مشہور تھا جسے بعد میں عوام نے حکومت کی طرف سے متبادل وسائل کی فراہمی کے وعدوں پر ختم کردیا لیکن حکومت نے اس عہد کو پورا نہیں کیا اور کوئی متبادل روزگار کے ذرائع فراہم نہیں کئے۔ وادی یارخون کے باسیوں کاکہناہے کہ پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں جرنیل ایوب خان کے دور تک چترال میں چرس لوگوں کا ذرائع معاش ہوا کرتا تھا۔ لوگ کاشت کرتے تھے اور فروخت کرکے پیسہ کماتے تھے۔ لیکن حکومتی وعدہ لفظوں کی حد تک رہا جو شر مندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہاکہ مستوج سے لے کر بروغل کے قرمبرہ تک یہ علاقہ سیاحوں کے لئے جنت سے کم نہیں مگر سڑک نہ ہونے کی بنا پر یہاں سیاحت بالکل نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ پوری دنیا میں بروغل کا قرمبرہ جھیل مشہور ہے۔ اگر اس منصوبے کو حکومت نے فوری طور پر خصوصی اور ہنگامی بنیادوں پر منظوری نہیں دی تو علاقے کے عوام احتجاج کے طور پر بھنگ کی کاشت دوبارہ شروع کرنے پر مجبور ہوں گے اور پرزور عوامی تحریک برپا کریں گے۔انہوں نے کہاکہ بروغل پاس سے لے کر مستوج تک یہ علاقہ ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور زمانہ قدیم میں سنٹرل ایشیاء سے سفر حج کے قافلے بھی یہیں سے گزرتے تھے اور یہی تجارتی راستہ بھی تھا۔ یہ علاقہ دھاتی اور غیر دھاتی معدنیات سے ڈھکا ہوا ہے لیکن ٹرانسپورٹیشن کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے اس سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں ہے اور ہم خزانے کا مالک ہونے کے باوجود غریب چلے آرہے ہیں۔مقریرین نے کہاکہ مستوج سے بروغل تک کا علاقہ زرعی لحاظ سے کئی خصوصیات کا حامل ہے اور خصوصاً سیب اس علاقے کی پہچان ہیں اور حال ہی میں چیر ی کے باغات بھی لگائے جارہے ہیں جبکہ بروغل اور اپر یارخون میں لوگ کاشت کاری نہیں کرتے بلکہ علاقے کی موسمی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے یاک پال کر نقد رقم حاصل کرتے ہیں۔
حاضرین نے عہدکیاکہ مستوج بروغل روڈ کے خواب کوحقیقت میں بدلنے کے لئے جانوں کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں کہاکہ مستوج بروغل روڈ جغرافیائی لحاظ انتہائی اہمیت کاحامل ہے اس روڈ کے بننےسے افغانستان ،تاجکستان ،چائنا اوردوسرے ہمسایہ ممالک کے ساتھاقتصادی اور تجارتی روابط مزیدمستحکم ہوگا، ور ان دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں کے غربت میں بھی کمی آئے گی۔شرکائے اجتماع نے مستوج بروغل روڈپرباقاعدہ کام شروع کرنے تک اپنے پرامن احتجاجی مظاہرہ جاری رکھنے کااعلان کیا۔
بریپ میں منعقد ہونے والے احتجاجی اجتماع سے معروف ماہرتعلیم شیرولی خان اسیر،صدرمحفل ضلعی صدرپی ٹی آئی اپرچترال شہزادہ سکندرالملک، مستوج بروغل روڈ تحریک کے صدر سید مختارعلی شاہ ایڈوکیٹ،سراج علی خان ایڈوکیٹ،عزیزاحمد،کرم علی سعدی،احمدمحمدعلی ،(ر)منیجرشیرنادر ، محمدشریف ،قاری احتشام الحق،محمدوزیر،میررحیم خان ،رحمت ولی ،ظاہرالدین،موسی نبی،تنویراحمد،شیرنواز،احمدخان اوردوسروں نے خطاب کیا۔