117

اے کے ایچ ایس پی چترال کی طرف سے دروش ہسپتال میں آئسولیشن وارڈ کی تکمیل اور حوالگی کی خبر باعث تعجب اور مضحکہ خیزہے/قاری جمال عبدالناصر

چترال(چ،پ)سینئر نائب امیر جمعیت علماء اسلام لوئر چترال قاری جمال عبدالناصر نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ آغاخان ہیلتھ سروس چترال کی طرف سے دروش ہسپتال میں ائسولیشن وارڈ کی تکمیل اور حوالگی کی خبر باعث تعجب اور مضحکہ خیز وحیران کن ہے کیونکہ جس بلڈنگ کی بات ہو رہی ہے یہ بلڈنگ حکومت پاکستان کی طرف سے کٹیگری سی کی ہے جو تیاری کے آخری مراحل میں ہے، اس بلڈنگ کی تعمیر میں کسی بھی ادارے کا کوئی کی شراکت یا تعاؤن شامل نہیں ہے بلکہ کروڑ وں روپے کی عالیشان بلڈنگ سرکار کی طرف سے کی تعمیر شدہ ہے جس سے ہمارے ہسپتال کے بہت سے مسائل حل ہونگے۔اُنہوں نے کہا کہ جب ضلعی انتظامیہ نے اس بات کا احساس کیا کہ دروش ہسپتال میں موجود کمروں کو آئسولیشن وارڈ کی حیثیت سے ایمرجنسی کے لئے تیار کیا جائے تو ایم ایس دروش ہسپتال نے فوری طور پر آئسولیشن وارڈ ترتیب دیاجہاں مریض موجود ہیں جبکہ ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ نے حفظ ما تقدم کے طور پر دروش میں ایک ہوٹل کو بھی آئسولیشن وارڈ کے طور پرتیار کیا۔ قاری جمال عبدالناصر نے کہا جہاں انتظامیہ جب دروش کے قرنطینہ سنٹروں میں بڑے اچھے طریقے سے چار سو سے زائد افراد کی بطریق احسن دیکھ بال کرنے میں پیش پیش ہے وہیں ان لئے دس یا بیس مریضوں کے لئے آئسولیشن وارڈ قائم کرنا کونسا مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور ہسپتال اسٹاف ہر لمحہ اس خدمت کے لئے پیش پیش ہیں اور ہمیں جب یہ علم ہوا کہ ہسپتال کے لئے سول ادارے کی طرف سے آئسولیشن کے لئے سامان دئیے جارہے ہیں تو معلومات کے لئے ہسپتال گئے، وہاں پر مذکورہ ادارے کے ایک نمائندے سے ایم ایس افس میں ملاقات ہوئی، موصوف نے پوچھنے پر بتایا کہ دس مریضوں کے لئے عارضی آئسولیشن وارڈ کے لئے سامان لائے گئے ہیں جن میں دس چارپائیاں، دس فوم،دس چھوٹے کولر، دس ڈسٹبین، دس چائینہ کمبل، دس سفید چادر دوپلاسٹک ٹینکی، ایک عدد پانی کھینچنے کے لئے میزایل واٹر پمپ وغیرہ کیٹس شامل ہیں جوکہ میرے اندازے کے مطابق کل ملاکرایک لاکھ رپے کے سامان ہونگے، اسوقت ہسپتال انتظامیہ نے بھی کہا کہ کل ڈی سی اس وارڈ کا افتتاح آپ حضرات کی موجودگی میں کرئینگے۔اُنہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری تصویر کشی بھی کی گئی اور سوشل میڈیامیں لگایا گیاجنہیں میں نے گزارش کر کے ہٹا دیا۔اُنہوں نے کہا کہ میں نے بحیثیت ایک ذمہ دار شہری اور ایک مذہبی سیاسی جماعت کے ضلعی ذمہ دارکے اس حقیقت کی وضاحت کی تھی کہ دس بیماروں کے لئے انتظامات خود محکمہ صحت انجام دے کیوں کہ بلڈنگ سرکار کی ڈاکٹر، نرس،پیرامیڈکس اور کلاس فور سرکار کے،پانی بجلی سرکار کی، مریضوں کے لیے بہترین کھانہ انتظامیہ کی طرف سے جب دی جارہی ہے تو خوامخواہ دوسرے سول ادارے کو ایک لاکھ روپے کے ساتھ بیرونی داماد بنا کر لانے کی کیا ضروت تھی، اگر یہ ادارہ عطیہ کے طورپر رقم دینے کے موڈ میں تھا تو ادارے پرلازم تھا کہ امداد ڈی ایچ او یا ایم ایس کے حوالہ کرتے ورنہ تجار یونین دروش یاہم مساجد میں چندہ کرکے یہ سامان ہسپتال انتظامیہ کے حوالہ کرتے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اتنا کمزور نہیں ہے کہ دس بیڈ وارڈ قائم نہ کر سکے۔اُنہوں نے کہا کہ اس بے چارہ ادارے نے اب تک گرم چشمہ میں آئسولیشن وارڈ 20 مئی تک مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے یعنی کورونا وائرس ختم ہونے کے بعد وارڈ کا افتتاح کیا جائیگا۔اُنہوں نے کہا کہ ڈی ایچ او چترال کو اس ادارے کا بھر پور شکریہ ادا کرنے کے بجائے خود محکمہ صحت کی طرف سے اپنے سٹور سے دس بستروں کا بندوبست کرکے حکومتی رٹ قائم کرتے تو بہت ہی اچھا تھا یا ہم ہسپتال کے ہمسایہ اپنے گھروں سے بسترے دے سکتے تھے جس کے لئے ہم ہروقت تیار ہیں۔قاری جمال عبدالناصر نے کہا کہ ہم ان اداروں سے یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے سستی شہرت کیلئے حکومتی کارکردگی کو ملیامیٹ کرنے سے باز رہینگے،ہمیں ملکی اداروں پر آپ حضرات سے زیادہ توقعات ہیں کیوں کہ دروش ہسپتال میں حکومت کی طرف سے ماہانہ عوامی بہبود کے لئے صرف تنخواہوں کی مد میں چالیس سے پچاس لاکھ روپے خرچ کی جاتی ہے۔