122

اپر چترال میں بجلی بحران کے خلاف زبردست احتجاجی جلسہ، مسئلہ حل نہ ہونے پر لانگ مارچ کرینگے/تحریک حقوق عوام

بونی (نامہ نگار)تحریک حقوق عوام اپر چترال کی کال پر بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ کے خلاف گذشتہ روز بونی میں ایک زبردست احتجاجی مظاہر ہ کیا گیا جس میں ضلع اپر چترال کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ احتجاجی جلسے کی صدارت رحمت سلام لال نے کی جبکہ نظامت کے فرائض تحریک حقوق عوام اپر چترال کے جنرل سیکرٹری محمد پرویز لال ادا کررہے تھے۔ اس جلسے میں چترال سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے خصوصی شرکت کی اور جلسے کے اختتام تک موجود رہے۔ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اپر چترال میں اسوقت بجلی کا بحران شدت اختیار کرچکا ہے اور اس کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں جسکی وجہ سے ضلع بھر کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔آج شدید سردی اور برف کے باوجود ضلع کے دوردراز علاقوں سے بڑی تعداد میں عوام کا اس احتجاجی جلسے میں شریک ہونا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ عوام کس قدر مشکل حالات سے دوچار ہیں۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن نے اپر چترال کے بجلی مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے اپنی کوششوں کا ذکر کیا،انہوں نے کہا کہ اسوقت گولین بجلی گھر سے صرف 7میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، اس پیداوار کومعقول اور منصفانہ طریقے سے تقسیم کرنے کے لئے اقدامات کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مسئلہ اصولی طور پر حل نہیں ہوا تو وہ بذات خود عوام کے ساتھ ملکر احتجاج میں حصہ لینگے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے عوامی احساسات اور جذبات کا مکمل احساس ہے اور اسی لئے میں اس جلسے میں شرکت کیلئے رات سفر کرکے پشاور سے بونی آیا ہوں۔انہوں نے تجویز دی کہ فی الحال کچھ دن مہلت دیجائے اور اگر مسئلہ حل نہیں ہوا تو اسکے بعدآگے کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائیگا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر جلسہ رحمت سلام لال نے اس جلسے میں بھاری تعداد میں شرکت کرنے پر اپر چترال کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے اتحادو اتفاق اولین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے مسئلے کے حل کے حوالے سے ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن کی طرف سے کوششوں کو تسلیم کرتے ہیں، انہوں نے ایم پی اے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہ مسئلے کے حل کیلئے چند دن مہلت دیتے ہیں اور اگر 10فروری تک مسئلہ حل نہیں ہوا تو عوام اپر چترال بونی کے بجائے چرون پل پر جمع ہو جائیں اور وہاں سے لانگ مارچ یا دھرنا، جو بھی ہو اس تحریک کا آغاز کرینگے۔
بعدازاں ایم پی اے کی قیادت میں عوامی نمائندگان نے ضلعی انتظامیہ کے ذمہ داران سے ملاقات کرکے مسئلے کے حل کے حوالے سے بات چیت کی اور ضلعی انتظامیہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو کہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرانے کے لئے اقدامات کریگی۔