91

خیبر پختونخوا میں پیشہ وربھکاریوں کے خلاف کاروائی کے لئے قانون سازی کا فیصلہ

پشاور(سپیشل رپورٹر)خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں بھیک مانگنے کو جرم قرار دیتے ہوئے قانونی مسودہ تیار کرلیا۔ قانونی مسودے میں والدین’ گھر کے کسی بڑے یا دیگر منظم گروہ کی جانب سے کمسن بچوں کو بھیک مانگنے کیلئے استعمال کرنے پر ان کو5لاکھ روپے جرمانہ اور ایک سال قیدیا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔ مسودے میں بھکاریوں کی بحالی کیلئے دارالکفالہ کے قیام کی بھی تجویزدی گئی ہے۔ مسودے کے مطابق پولیس کسی بھی آوارہ شخص اور بھیک مانگنے پر مجبور کرنے والے افراد کو بغیر کسی وارنٹ کے گرفتار کرنے کی مجاز ہوگی۔ آوارہ گردی میں مبتلا شخص کیلئے تین سال کی سزا تجویز کی گئی ہے جو دارالکفالہ میں رہ کرپوری کی جائے گی حکومت کے پاس کسی بھی فرد کو دارالکفالہ سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا اختیار ہوگا۔ قانونی مسودے کے مطابق ایک سٹئیرنگ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کے چیئر پرسن سیکرٹری زکوۃ و عشر ہوں گے۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں ڈپٹی سیکرٹری سوشل ویلفیئر، ڈائریکٹر ہیومن رائٹس و پارلیمانی امور، ڈسٹرکٹ آفیسرز سوشل ویلفیئر، ڈپٹی کمشنر کے متعلقہ نمائندے، صوبائی پولیس سربراہ کے نمائندے اور ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر شامل ہوں گے۔ کمیٹی کے پاس پالیسی، گائیڈ لائن، دارالکفالہ کے امور کی نگرانی اور دیکھ بھال، غیر سرکاری تنظیموں کو دارالکفالہ میں داخل بھکاریوں کیلئے سہولیات کی فراہمی اور تکنیکی معا ونت فراہم کرنے کا اختیار ہوگا۔ سٹیئرنگ کمیٹی کا ہر تین ماہ میں ایک اجلاس منعقد ہونا لازمی ہوگا جبکہ اجلاس میں اکثریتی ارکان کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے گا۔ قانونی مسودے کی شق کے تحت دارالکفالہ کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس میں پاگل پن، متعدی اور جزام میں مبتلا مریضوں کو دارالکفالہ میں قیام کی سہولت نہیں دی جائے گی۔ دارالکفالہ میں رہنے کیلئے جگہ، صحت سہولیات، تعلیم اور ہنر سکھایا جائے گا ہر دارالکفالہ کے انتظامی امور کیلئے ایک منیجر کوتعینات کیاجائے گا۔منیجردارالکفالہ میں مرداورخواتین کوعلیحدہ علیحدہ رکھاجائے گا۔ دارالکفالہ میں رضاکارانہ طور پر بھی آوارگی میں مبتلا افراد کو داخل کرایا جا سکے گا جبکہ کسی بھی پولیس آفیسر کو آوارہ گرد اور بھیک مانگنے والے کو بغیر وارنٹ گرفتار کرکے انہیں دارالکفالہ منتقل کرنے کا اختیار ہوگا۔ گرفتار فرد کو24گھنٹے کے دوران سپیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ قانونی مسودے کے مطابق سپیشل مجسٹریٹ کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ بھکاریوں کو تین سال کیلئے دارالکفالہ میں بھیجنے کے احکامات جاری کر سکیں۔