27

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے سنگور میں تجرباتی بنیادوں پر شمسی توانائی سے چلنے والا واٹر سپلائی اسکیم مکمل کر لیا

چترال(گل حماد فاروقی)صوبائی محکمہ پبلک ہیلتھ نے پہلی بار چترال میں شمسی توانائی سے چلنے والے آبنوشی اسکیم کا کامیاب تجربہ کیا۔اس تجرباتی منصوبے کے تحت سنگور کے مقام پر ڈاکٹر کالونی کے قریب دس فٹ چھوڑا اور ایک سو اسی فٹ گہرا کنواں کھودا گیا ہے اور شمسی توانائی کے پینل لگا کر موٹر کے ذریعے پانچ ہزار گیلن پانی فی گھنٹہ ساڑھے چار سو فٹ کی اونچائی پر ٹینکی تک پہنچا یا گیا ہے جہاں سے پینے کا صاف پانی سنگور کے چار دیہات میراندہ، سنگور، سین جال اور شاہ میراندہ کو فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے پر تقریبا ً ڈھائی کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔منصوبے کے حوالے سے ہمارے نمائند ے سے باتیں کرتے ہوئے پبلک ہیلتھ کے ایگزیکٹو انجینئر محمد یعقوب نے بتایا کہ ہم نے اس منصوبے کو ایک چیلنج کے طور پر لیا تھا اور تجرباتی بنیادوں پر اسے چلا کر کامیاب کرینگے، اگر یہ پہلا منصوبہ کامیاب ہوا تو اس کے بعد چترال کے طول و عرض میں شمسی توانائی سے چلنے والے اس قسم کے اور منصوبے بھی شروع کرائے جائیں گے جس میں نہ تو بجلی خرچ ہوتی ہے نہ ڈیزل بلکہ ایک دفعہ سولر پینل لگاکر ااس کے ذریعے بیٹری چارج ہوتی ہے اور اس سے طاقتور موٹر بھی چلتی ہے۔ انجینئر محمد یعقوب نے بتایا کہ چترال میں جتنے بھی پانی کے منصوبے ہیں وہ ہمیشہ خطرات کی زدمیں رہتے ہیں، حال ہی میں گولین واٹر سپلای سکیم بھی سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوا، اسی طرح جتنے بھی پانی کی ذخائر ہیں وہ قدرتی چشمے ہیں اور ان چشموں سے پانی لاتے وقت پائپ لائن سڑک کے کنارے، نہر یا دریا کے کنارے سے گزرتا ہے اور جب بھی سیلاب یا زلزلہ آتا ہے توان پائپ لائن پر بھاری پتھر یا پہاڑی تودے، برفانی تودے گر کر ان پائپ لائن کو بہت نقصان پہنچاتا ہے جس کے باعث اکثر یہ پائپ لائن تباہ ہوجاتے ہیں اور علاقے کے لوگ مہینوں پینے کی پانی سے محروم رہتے ہیں۔ اسکے مقابلے میں شمسی توانائی سے چلنے والا پانی کا منصوبہ نہایت کامیاب ہوتا ہے، اسمیں میں نقصانات کا خطرہ بہت کم ہے، جہاں مناسب جگہ ملے وہاں کنواں کھودا جائے اور اس میں شمسی پینل سے چلنے والے موٹر لگا کر ان سے پانی نکال کر ٹینکی میں ڈالا جائے جہاں سے پورے علاقے کو با ًسانی پانی کی فراہمی کی جاتی ہے۔
اس منصوبے کے تکمیل سے سنگور اور مضافاتی علاقے کے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا کیونکہ اس کی کامیابی پر ان علاقوں میں پینے کی صاف پانی کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہوگا۔ علاقے کے لوگوں نے صوبائی حکومت اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا شکریہ ادا کیا ہے کہ ان کی کوششوں سے عوام کا دیرینہ مسئلہ حل کیا۔