3

اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تقرری کیلئے پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ،عمر اور ڈومیسائل کی شرط ختم کردی جائے گی

پشاور(سپیشل رپورٹر)خیبر پختونخوا حکومت نے سرکاری محکموں، ماتحت اور خود مختار اداروں میں اہم عہدوں پر مارکیٹ سے موزوں افراد کی بھرتیوں کیلئے نئی پالیسی متعارف کرادی نئی پالیسی کے مطابق سرکاری محکموں اس کے ماتحت اور خود مختاراداروں میں چیف ایگزیکٹو آفیسر،منیجنگ ڈائریکٹرز، جنرل منیجر،ڈائریکٹرز اور دیگر اہم انتظامی عہدوں پر بھرتیوں کیلئے ڈومیسائل کی شرط لازمی نہیں ہوگی جبکہ ہر محکمہ آسامی تخلیق کرنے کی منظوری وزیر اعلیٰ سے لے گا صوبائی کابینہ سے منظوری کے بعداسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریز کو مراسلہ جاری کردیا اور تمام سیکرٹریز کو محکموں، ماتحت اور خود مختار اداروں میں اہم عہدوں پر مارکیٹ سے بھرتیوں کی پالیسی پر عملدرآمد کو ممکن بنانے کی ہدایت کی گئی ہے حکومت کی جانب سے نئی پالیسی کے مطابق سرکاری محکموں اور اداروں میں سینئر عہدوں پر مارکیٹ سے پرکشش تنخواہوں پر اس عہدے کیلئے موزوں ا میدوار کو تعینات کیا جائے گا جس کی تقرری تین سال کیلئے کنٹریکٹ بنیادوں پر عمل میں لائی جائے گی تاہم بہتر کارکردگی دکھانے پر ان کی مدت میں توسیع بھی دی جا سکے گی کسی بھی فرد کو سرکاری محکمے یا ادارے میں اہم آسامی پر بھرتی کیلئے طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے اور انہیں تین مراحل سے گزرنا پڑے گا جس میں پہلے مرحلے میں ان کی سی وی کی جانچ پڑتال کی جائے گی،دوسرے مرحلے میں امیدوار کی ذہانت معلوم کرنے کیلئے آئی کیو یا جی ایم اے ٹی طرز پر ٹیسٹ لیا جائے گا تیسرے اور آخری مرحلے میں تین رکنی پینل امیدوار کا حتمی اور تفصیلی انٹرویو کرے گا جس میں خود مختار اداروں کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیلئے پریذنٹیشن بھی شامل ہے۔ امیدوار کی عمر کی بجائے ان کا مطلوبہ فیلڈ میں تجربہ دیکھا جائیگا۔ ڈومیسائل کی ضرورت نہیں ہوگی 16سالہ تعلیم کو معیار رکھا گیا ہے۔پالیسی تمام محکموں کے سیکرٹریز کو ارسال کر دی گئی ہے اور انہیں پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے محکموں میں ایسے عہدوں پر مارکیٹ سے افرادی قوت لینے کی ضرورت، فوائد اور اخراجات کے حوالے سے جامع رپورٹ مرتب کریں،ہر عہدے پر بھرتی وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط قرار دے دی گئی ہے بھرتی کا اختیار متعلقہ محکمہ کے سیکرٹری کو دیا گیا ہے جبکہ بھرتی کی تحقیقات یاجائزہ کیلئے متعلقہ محکمہ کو اختیار دیا گیا ہے اور وہ6ماہ میں اس عمل کو مکمل کرنے کی پابند ہوگی۔