15

یوم یکجہتی کشمیر/تحریر:محمد جاوید حیات

”یوم یکجہتی کشمیر“جو وطن عزیز کے کونے کونے میں اب بھی تسلسل کے ساتھ منایا جارہا ہے۔۔یہ کشمیریوں کے ساتھ ملی،مذہبی،قومی،خونی،اخلاقی اور جغرافیائی یک جہتی ہے۔۔کشمیر جل رہا ہے۔۔کشمیری کٹ مر رہے ہیں ہم ان کے دکھ درد میں شریک ہیں۔۔گورنمنٹ ہائی سکول بمبوریت میں آج یوم یک جہتی کشمیر جوش وخروش سے منایا گیا۔۔آج سکول کی اسمبلی کشمیریوں کے نام کردی گئی۔۔طلباء اور اساتذہ کے علاوہ علاقے کا ایس ایچ او سپاہیوں سمیت تشریف لائے۔پی ٹی سی کونسل کے ممبراں شامل پروگرام ہوئے۔سکول اسمبلی میں ہی یہ مختصر تقریب شروع ہوئی۔۔ حماد نے نعت شریف سے پروگرام کا آغازکیا۔بچوں نے نغمے گائے۔ سکول کے پرنسپل جناب محمد اجمل خان نے خطاب کرتے ہوئے فر مایا۔۔ زندگی کی حقیقت بتائی گئی ہے۔ہمیں سمجھایاگیاہے کہ یہ عارضی ہے۔فانی ہے۔اس پہ تکیہ نہ کرنا۔۔یہاں کی کامیابی کو دائمی نہ سمجھنا۔یہ دارالعمل ہے۔۔یہاں سے آگے ایک اور دنیا ہے جو دائمی ہے۔۔ہمیشہ کی ہے۔یہاں پہ انسانیت کی خدمت کرنا وہاں پہ اجر ملے گا۔یہاں پہ ظلم،ناانصافی نہ کرنا وہاں پہ اس کا احسن بدلہ دیا جائے گا۔پھر بتایا گیا کہ یہاں تمہارے سامنے انسانیت پہ ظلم ہو رہا ہو تو ظالموں کو ظلم سے روکنے کی کوشش کرنا۔تمہارا کا م امن ہے۔۔سلامتی ہے۔اس کا اجر ملے گا۔۔اب اجر بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔کون نادان ہو گا جو ”اجر“ کوٹھکرائے گا۔فانی زندگی کو باقی زندگی پہ ترجیح دے گا۔عارضی مسکراہٹ کو دائمی آنسوں سے تولے گا۔یہی سب کچھ اس کوبہادر بناتا ہے۔یہ ایسی قوم ہے جس پرجتنا گیرا تنگ کیا جائے اتنا شیر ہوتی ہے۔یہ شریف ہے۔شرافت کی حمایت کرتی ہے۔یہ آزاد ہے آزادی سے محبت کرتی ہے۔ا س کی بنیادوں میں انصاف ہے وہ انصاف کی دھائی دیتی ہے۔یہ اللہ کی زمین پہ اللہ کا نظام لانے کی فکر میں رہتی ہے۔۔اس کے پاس ”اللہ اکبر“ کا نعرہ مستانہ ہے۔اس کے پاس نعرہ ”لا تذر“ ہے اس وجہ سے پہاڑ اس کی ہیبت میں رائی بن جاتے ہیں۔صحرا و دریا دونیم ہوتے ہیں۔ جہان جہان اس پہ ظلم ہو اہے وہاں وہاں وہ ڈوب کے ابھری ہے۔اس کو مٹانے کی سعی لاحاصل میں قومیں خود مٹتی رہی ہیں۔ہندوستان میں اس کی تاریخ روشن ہے۔لیکن جب اس ملک پہ عاصبوں کا قبضہ ہوا تو پہلی بار اس قوم کی آواز بلند ہوئی حالانکہ دوسری قومیں بھی تھیں۔۔آزادی ہمارا حق ہے۔ہندوستان تقسیم ہو ا تو سو سے زیادہ ریاستیں ایسی تھیں جو آزاد حیثیت میں تھیں ان کے لئے تقسیم کاروں نے میکینیزم بنایا کہ ان کے باشندوں کو حق دیاجائے کہ ان کی اپنی مرضی۔ جس کے ساتھ چاہیں شامل ہو جائیں۔اس حق کو ”حق خود ارادیت“ کہا گیا۔ان ریاستوں میں ایک کشمیر ایسی تھی کہ اس کا”حق خود ارادیت“ کوئی حیثیت کا نہ رہا۔اس کے باشندوں کی دھائی کسی کا م کی نہ رہی۔۔وہ چیختے چلاتے رہے۔کبھی نقار خانے میں۔۔اللہ علیم و خبیر خدا ظلم و نا انصافی کو برداشت نہیں کرتا۔جو قوم ہمت کرکے آگے بڑھنے کی سعی کرتی ہے اس کی منزل اس کو ملتی ہے۔کشمیر مظلوم سر زمین ہے کشمیری مظلوم ہیں اس کی تہذیب قبل از تاریخ سے ہے۔یہ ہندوازم،بدھازم اور شیوازم سے زیر اثر رہا ہے۔تیرویں صدی عیسوی سے پندرویں صدی عیسوی تک اسلام کشمیر کے اندر پھیلنا شروع ہوا۔اس میں بڑا کردار حضرت شاہ ہمدان کا رہا۔۔پھر یہ علاقہ سکھوں کے قبضے ہیں چلا یا گیا۔۶۴۸۱ء کو انگریزوں نے سکھوں کو شکست دی پھر امرت سر معاہدے کے تحت کشمیر ڈوگرہ راجہ گلاب سنکھ کو بھیجدیا گیا۔۔قیمت ۵۷ لاکھ نانک شاہی روپے مقرر کی گئی۔اس وقت کشمیر کی آبادی دس لاکھ تھی اس طرح ہر کشمیری با شندہ کوسات روپے کے عوض بھیجدیا گیا۔۔کشمیر کا کل رقبہ دو لاکھ مربع کلو میٹر تھا لہذا پچیس پیسہ فی مربع کلو میٹر مقرر ہوا۔۔ڈوگرہ دور میں ایک کشمیری مسلمان کی زندگی کی قانونی قیمت دو روپے تھی۔یہ کشمیر کی مظلوم تاریخ ہے۔۔۷۴۹۱ء کی تقسیم کے وقت کم از کم ۵۰۱ آزاد ریاستیں تھیں ان میں استصواب رائے ہونی تھی۔۔کشمیریوں کو اس حق سے بھی محروم رکھا گیا۔۸۴۹۱ء میں وہاں پہ ہندوستان نے اپنی فوج اُتاری پاکستانی قبائل کے مجاہدین نے بھی جہاد کشمیر میں شرکت کی اور کشمیر کے ایک حصے کو آزاد کرایا جسے آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔۔لیکن بھارت اپنی ہٹ دھرمی پہ قائم ہے اسی کشمیر پر ہمارے اور اس کے درمیان چار لڑائیاں لڑی جا چکی ہیں۔اب اس خوفناک ٹیکنالوجی کے دور میں جنگ کا تصور ہی لرزا دینے والا ہے دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے کھڑی ہیں۔بھارت کشمیر میں انسانیت سوز ظلم کر رہا ہے۔بین القوامی قوانیں کی کھلی خلاف ورزی کرکے اس کو اپنا آئینی حصہ کہہ رہا ہے۔جو پوری دنیا کو ناقابل قبول ہے۔پرنسپل صاحب نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہرقربانی کے لئے تیار ہیں۔۔پرنسپل کی تفصیلی تقریر کے بعد پروگرام کے منتظمین عبدالعزیز،شفیق احمد،جمشید اقبال،یونس اور اختر زمان نے ریلی کا اہتمام کیا۔ریلی سکول سے نکلا اور پی ٹی ڈی سی موٹل بمبوریت سے واپس ہوئی۔۔بچوں کا جوش خروش دیدنی تھا۔کشمیری بہن بھائیوں کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ان کی رگوں میں دل نوازی کا خون جوش مار رہا تھا۔ان کو یقین تھا کہ کشمیری حق پر ہیں حق کا بول بالا ہوگا۔۔وہ پریشان تھوڑی ہیں۔۔وہ اس عارضی دنیا میں حق کی جو جدوجہد کر رہے ہیں۔۔ یہ جدوجہد اس دنیا میں کام آئے گی۔اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی۔۔