چترال سے اسلام آباد جانیوالے طیارے کے حادثے کے وجوہات سامنے آگئے

چترال (ویب ڈیسک) دسمبر 2016میں چترال سے اسلام آباد محو پرواز پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن (PIA) کی پرواز PK-661کے حادثے کی وجوہات سامنے آگئیں۔ اس حوالے سے انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ پی آئی اے ٹربو ٹی آر طیارے کے انجن نمبر ایک کے پاور ٹربائن بلیڈ ٹوٹ کر طیارے کے انجن میں چلے جانے کے باعث انجن بند ہوا اور حادثہ پیش آیا۔
طیارے کی آخری جانچ اور مرمت حادثے سے 25 دن پہلے ہوئی تھی۔ اس وقت تک انجن کے پاور ٹربائن بلیڈز 10 ہزار چار گھنٹے چل چکے تھے، بلیڈز فوری تبدیل ہونا لازمی تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے فلائٹ اسٹینڈرڈ ڈپارٹمنٹ نے طیارے کو درست طریقے سے چیک نہیں کیا اور پرواز کی اجازت دی۔حادثات کی تحقیقات کرنے والے ادارے سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی دونوں کو حادثے کا ذمے دار قرار دے دیا۔
سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ (ایس آئی بی) نے اپنی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں پی آئی اے کی جانب سے طیاروں کے منٹیننس کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے، ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طیارے کے انجن نمبر ون کا پاور ٹربائن بلیڈ ٹوٹ کر طیارے کے انجن میں چلے جانے کی وجہ سے انجن بند ہوا، اور طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔
سروس بلیٹن کے مطابق اے ٹی آر طیارے کے انجن کے پاور ٹربائن بلیڈز 10 ہزار گھنٹے بعد تبدیل ہونا ضروری ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدقسمت طیارے کی آخری منٹیننس 11 نومبر 2016 کو ہوئی تھی، اس وقت تک انجن کے پاور ٹربائن بلیڈز 10 ہزار چار گھنٹے چل چکے تھے، بلیڈز فوری تبدیل ہونا ضروری تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، آخری منٹیننس کے بعد بھی طیارہ حادثہ سے قبل مزید 93 گھنٹے اڑ چکا تھا۔
ایس آئی بی نے حادثے کی ذمہ داری سول ایوی ایشن اتھارٹی پر بھی عائد کی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی اے اے کے فلائٹ اسٹینڈرڈ ڈپارٹمنٹ نے طیارے کو درست چیک نہیں کیا اور پرواز کی اجازت دے دی۔
ایس آئی بی نے اپنی سفارشات میں پی آئی اے پر زور دیا ہے کہ وہ سروس بلیٹن پر سختی سے عمل کرے اور طیاروں کی منٹیننس کا عمل بروقت مکمل کرے، جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ فلائٹ اسٹینڈرڈ ڈپارٹمنٹ کو بہتر بنائے اور طیاروں کو کلئیرنس دینے کے اپنے مکینزم کو درست کرے۔
یاد رہے کہ 7 دسمبر 2016 چترال سے اسلام آباد جانیوالی پی آئی اے کی پرواز پی کے 661کے حادثے کے نتیجے میں عملے کے سات افراد سمیت 46لوگ جان بحق ہو گئے تھے جن میں چترال کے ڈپٹی کمشنر اسامہ احمد وڑائچ، انکی اہلیہ اور شیر خوار بیٹا، معروف نعت خوان جنید جمشید، شہزادہ فرہاد عزیز، معروف کاروباری شخصیت حاجی تکبیر اور سلمان زین العابدین ، گرم چشمہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے چھ افراد، دروش سے تعلق رکھنے والی سگی بہنیں بھی شامل تھیں۔ حادثے کا شکار ہونے والے بد قسمت طیارے میں غیر ملکی افراد بھی سوار تھے۔ واضح رہے کہ حادثے کے فوراً بعد بھی مختلف طبقہ فکر اور ماہرین کی طرف سے طیارہ حادثے میں تکنیکی نقص اور متعلقہ شعبوں کی غفلت کی طرف نشاندہی کی جاتی رہی اور اس سلسلے میں چترالی باشندوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے۔
دسمبر 2016میں حادثے کے بعد چترال پوسٹ کے چھپنے والے شمارے کا عکس جس میں مختلف حلقوں کے حوالے سے طیارہ حادثے کے حوالے سے تکنیکی نقائص کا ذکر موجود ہے۔