شاہ صاحب۔۔مکرم شاہ صاحب/تحریر:محمد جاوید حیات

یہ ایک نام نہیں ایک حوالہ ہے ۔۔ایک ریفرنس ۔۔ایک عہد ۔۔ایک باب ۔۔ایک یم بہ یم سفر ۔۔ایک دریا بہ دریا جو بہ جو سلسلہ ۔۔ایک شخصیت انیس سو چالیس کی دھائی پیدائش۔۔ جنم بومی موڑکھو وریجون ۔۔تعلیم و تربیت موڑکھو چترال پشاور ۔۔پیشہ معلمی ۔۔لیکن یہ بندہ خدا ایک ریفرنس ہیں ۔۔شخصیت کرشماتی ۔آواز کا جادوگر ۔۔انداز بے مثال ۔الفاظ شرین ۔۔خطابت جادوئی ۔یادداشت غضب کی۔۔علم کا سمندر ۔۔صلاحیتیں لا انتہا ۔۔قد کاٹ سرو صنوبر ۔۔جوانی کنول ۔چلت پھرت میں وقار ۔۔خوش لباس ۔۔محفلوں کی جان ۔۔جلوت کی رونق ۔۔خلوت میں انجمن ۔۔عجیب شخصیت ہیں شاہ صاحب بھی ۔۔ بڑے بڑے لوگ آپ کو شاہ صاحب کہتے ہیں ۔۔ہم آپ کو سر کہتے ہیں ۔۔آپ پر نسپل ۔ڈی ای او ۔انسپکٹر سکولز۔عالم فاضل ادیب ۔۔۔یہ سارے نام آپ کے مرتبے سے چھوٹے لگتے ہیں ۔۔ہم سب آپ کے سامنے سر جھکاتے ہیں اور آپ کی جادوئی شخصیت کے سحر میں کھو جاتے ہیں ۔۔مکرم شاہ صاحب ساٹھ کی دھائی میں اسلامیہ کالج پشاور میں زیر تعلیم رہے ۔یہ وہ دور تھا کہ جب کھوار کے محسنوں نے ریڈیو پاکستان سے کھوار پروگرام شروع کیا ۔۔آپ اس ہراول دستے کے اہم رکن تھے ۔۔آپ نے اس دور سے کھوار زبان و ادب کی خدمت کی ۔۔آپ بہ یک وقت ایک تاریخ دان ،ایک ماہر لسانیات ،کھو تہذیب و ثقافت کی زندہ نشانی ،ایک بے مثال منتظم اور پائے کے ماہر تعلیم ہیں ۔۔آپ کا طرز خطابت لا ثانی ہے ۔۔آپ کی ادراک گہری اور مطالعہ عمیق ہے ۔۔کھوار زبان و ادب پر آپ کے بہت اہم مقالے شائع ہو چکے ہیں ۔آپ جب بات کرتے ہیں تو موتی پروتے ہیں ۔آپ کو ارو ،پشتو،فارسی ،انگریزی اور کھوار زبان پر انتہا کی حد تک عبور ہے ۔۔جب آپ دفتر میں ڈی ای اواور سکول میں پرنسپل ہوا کرتے تھے تو آپ کی ڈرافٹنگ کا شہرہ تھا ۔قدرت اللہ شہاب کے دفتر میں ایسا ہوتا تھا کہ جب بھی آپ کی کوئی ڈرافٹ آتی تو آپ کا عملہ اس کی نقل اپنے پاس ایک ٹوکن کے طور پر رکھتے ۔یہی حال شاہ صاحب کے قلم کا تھا ۔۔مکرم شاہ صاحب ایک زندہ تاریخ ہیں آپ کو علم الرجال ،علم النصاب ،حکایات ،تاریخی واقعات،تاریخ اقوام ،تاریخ اللسان ،ریاستی تاریخ سب حوالوں سے یاد ہیں ۔آپ حوالوں سے تواتر کے ساتھ بتاتے جاتے ہیں تو علم کا ایک دریا بہ رہا ہوتا ہے ۔۔آپ کھو تہذیب کے ایک مستند ریفرنس ہیں ۔آپ کھوار زبان کے ٹکسالی الفاظ محاورات اور روزمرہ کے ماہر مانے جاتے ہیں ۔۔آپ کھو فن تعمیر ،کھو رسومات ،اور کھو تہذیب و تمدن کے عالم تصور ہوتے ہیں ۔۔آپ کی چترالیت مثال ہے ۔۔آپ جب کسی کو ’’مہ ژان‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں تو مخاطب آپ کا دیوانہ بن جاتا ہے ۔۔آپ کی گرجدار آواز سننے والوں کو محسور کر دیتی ہے ۔۔آپ جوانی میں ان ڈور گیمز اور والی بال کے مانے ہوئے کھیلاڑی رہ چکے ہیں ۔آپ کو کھوار موسیقی پر عبور ہے خود بھی گیتوں کے اصل ٹیکسلای ترنم کے ساتھ گا کے سمجھاتے ہیں کہ ’’یہ یوں ہے‘‘۔۔ آپ کی آواز میں اللہ نے انتہا کی لوچ اور ترنم رکھا ہے ۔شاہ صاحب کا کھلتا مسکراتا چہرہ ہے ۔یہ ملنے والوں کے لئے تحفہ ہے اس لئے اگر کائی آپ سے ایک بار ملے تو بار بار ملنے کو دل کر تا ہے ۔آپ بذلہ سنج بہت ہیں ۔ایسے ایسے لطیفے اور خوبصورت قصے بیان کرتے ہیں کہ محفل زعفران زار ہوتی ہے ۔آپ مدلل گفتگو کرتے ہیں ۔اور کمال کے حاضر جواب ہیں ۔۔آپ جب سروس میں تھے تو معلمی کی ایسی لاج رکھی کہ بڑے بڑے آفسر آپ کا سامنا نہیں کر سکتے تھے۔آپ بڑے بارعب آفیسر رہ چکے ہیں ۔۔آپ کی حیثیت علاقے ،معاشرے اور اپنے خاندان میں چاند سورج کی ہے ۔۔آپ جیسی ہستیاں گلشن انسانیت کے پھول ہوتی ہیں ۔۔یہ اپنے دور کی پہچان اور خوبصورتیاں ہو تے ہیں ۔۔شاہ صاحب چترال کی پہچان ہیں ۔۔ٓپ کا حلقہ احباب بہت وسیع ہے اور شاگرد لا تعداد ہیں ۔آپ ایک ہردل عزیز شخصیت ہیں ۔۔آپ ایک چلتے پھرتے مکتب ہیں ۔آپ سے ہر ملنے والا آپ کے علم سے فیضیاب ہوتا ہے ۔آپ بہت ہی خوش اخلاق اور ملنسار ہیں ۔آپ معاشرے کے ہر طبقے کے ساتھ ان کی حیثیت کے مطابق تعلق رکھتے ہیں ۔۔اس لئے سب کو آپ سے محبت ہے سب آپ کا احترام کرتے ہیں ۔آپ سراپا محبت ہیں اس لئے سب کے دلوں میں آپ کی قدر ہے ۔۔آپ ایک قدآور علمی شخصیت ہیں اس لئے آپ ہماری پہچان بن گئے ہیں ۔۔اللہ آپ کا سایہ ہم پہ دائیم رکھے ۔۔