گورنر اور وزیر اعلیٰ نوٹس لیں، ٹی ایم اے ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جائیں /قاری جمال عبدالناصر

اشتہارات

چترال(چ۔پ)چترال کے معروف مذہبی وسیاسی شخصیت اور جمعیت علماء اسلام ضلع چترال لوئر کے سینئرنائب امیر قاری جمال عبدالناصر نے گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی، وزیر اعلی محمد اعظم خان،وصوبائی وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر ٹی ایم اے چترال ٹاؤن کے ملازمین کی پانچ چھ ماہ سے بند تنخواہوں کے مد میں بقایاجات کی ادائیگی کابندوبست کرے۔ میڈیا کو جاری کئے گئے ایک بیان میں قاری جمال عبدالناصر نے کہا کہ گذشتہ کئی مہینوں سے ٹی ایم اے سینٹری سٹاف کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے جہاں یہ ملازمین مشکلات کا شکار ہیں اور ملازمین ہڑتال پر گئے ہیں وہیں اب چترال ٹاؤن کے باشندگان بھی مسئلے دوچار ہوئے ہیں، چترال ٹاؤن صفائی کا نظام متاثر ہوا ہے جبکہ ٹاؤن کو صاف پانی کی فراہمی بھی متاثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم اے سٹاف کو اتنے مہینوں سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی المیہ ہے اور غریب ملازمین کے ساتھ ظلم و زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ مسئلہ صرف ملازمین کی حد تک محدود نہیں رہا کیونکہ چترال شہر میں صفائی اورپانی کی فراہمی کے مسائل کا تعلق پورے عوام کے ساتھ جڑا ہوا ہے، حالات اس طرح رہے تو عوامی احتجاج شروع ہو گا۔ قاری جمال عبدالناصر نے گورنر، وزیر اعلی اور وزیر بلدیات سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے وہ فوری طور پر اس مسئلے کی جانب توجہ دیکر اسے حل کریں، کیونکہ اس ماہ مبارک میں غریب ملازمین ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں اور چترال شہر کے مکینوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کی تمام تر ہمدردیاں متاثرہ ملازمین کے ساتھ ہیں۔