پیر. اگست 8th, 2022

چترال(چ،پ)چترال میں قائم پبلک سیکٹر کے ادارے ”یونیورسٹی آف چترال“ اسوقت شدید مالی بحران کی لپیٹ میں ہے اور ملازمین کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کی جاسکتیں۔اس حوالے سے یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس کی طرف سے تمام شعبہ جات کے سربراہان کو ایک لیٹر کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے سینٹ کی طرف سے منظوری کے باوجود ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے یونیورسٹی آف چترال کو جاری اخراجات برائے مالی سال 2021-22کے فنڈ نہیں ملے ہیں۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی طرف سے منظور شدہ 200ملین روپے کی گرانٹ کی رقم بھی ابھی تک یونیورسٹی کو موصول نہیں ہوئے ہیں۔ ان حالات میں یونیورسٹی آف چترال اپنے جملہ ملازمین کو ماہ جولائی کے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کر سکتی اسلئے تمام شعبہ جات کے سربراہان اپنے اسٹاف کو مطلع کریں۔
یونیورسٹی آف چترال کا اس طرح مالی مشکلات کا شکار ہونا افسوسناک ہے کیونکہ اس نوزائدہ ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لئے صوبائی حکومت اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے حکام کو فوری توجہ دینی چاہیئے۔ اس سلسلے میں ایم این اے چترال، سینیٹر فلک ناز، معاؤن خصوصی وزیر زادہ اور چترال کے ایم پی اے کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔